سیاسی کارکن اور اخلاقیات کاجنازہ - جابر وقاص چودھری

پاکستان کی سیاست میں آئے روز مختلف ایسے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں جن کو دیکھ کر بس بندہ خاموشی ہی اختیار کر جاتا ہے مگر یہ خاموشی کبھی حیرانی، پریشانی، صدماتی یاگم صم کر دینے والی ہوتی ہے۔ سول اور فوجی قیادت میں چلنے والے ناجائز معاشقے قدیم تاریخ رکھتے ہیں. موجودہ سیاسی قیادت اپنی حکومت کو اب تک احسن طریقے سے بچاتی ہوئی مدت پوری کرنے کہ قریب ہے۔ میاں نواز شریف نااہل ہو کر براستہ جی ٹی روڈ رائیونڈ میں تخت نشین ہوئے، اور اب لندن کو اپنی موجودگی سے رونق بخش رہے ہیں۔ آصف زرداری جاتی امراء سے کچھ فاصلے پر موجود پسر زادے کے نام سے منسوب گھر میں تشریف لاتے اور للکارت رہتے ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف صاحب کی خالی کردہ قومی اسمبلی کی نشست پر ان کی اہلیہ انتخاب لڑ رہی ہیں۔ پانامہ کے ابتدائی اور آخری فیصلے پر انگلیاں اٹھی ہیں، اور میری بھی چھینگلی (چیچی) اٹھی ہے۔ مگر عظمی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اسی پر اکتفا کیا ہے۔

سیاسی صورتحال پر مزید تبصرہ کرنے سے پہلے میں رویوں کی بات کرنا چاہوں گا۔ وہ رویے جنھوں نے لوگوں کو اس قدر معتصب کر دیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی لیڈر کے حوالے سے کوئی بھی مخالفانہ بات سننے سے مکمل اجتناب کرنے سے لے کر سامنے والے کی عزت افزائی کرنا اپنے شایان شان سمجھتے ہیں۔ اس میں عمران خان، نوازشریف، بلاول بھٹو زرداری سمیت ساری سیاسی قیادت اس کی ذمہ دار ہے۔ تاریخ کے پرانے واقعات سے گرد جھاڑنے سے بہتر ہے کہ میں اپنی ہوش کے واقعات پر بات کر لوں۔

سب سے پہلے عمران خان کے پہلے دھرنے کی بات ہوجائے، جو چودہ اگست کو لاہور سے روانہ ہوا، جی ٹی روڈ سے دارالحکومت میں داخل ہوا اور پھر تو تو میں میں، اوئے کی سیاست دیکھی گئی۔ دوسری طرف قبلہ قادری صاحب بھی یلغار کر چکے تھے، ان کی جانب سے لفظی گولہ باری جاری رہی، مگر اس میں شاید احتیاط کا دامن کسی حد تک تھامے رکھا گیا۔ مگر خان صاحب اپنے سیاسی حریفوں کے بخیے ادھیڑتے رہے۔ جس کے جواب میں حکمران جماعت کے کچھ شہ سوار اپنے لفظوں کے تیر جلسہ گا ہ کی جانب اچھالتے رہے۔ ہوش کے ناخن لینے کے بجائے جنگل جیسی صورتحال سے قوم کے نونہالوں کو آشنا کروایا گیا۔ بندر کے ہاتھ ماچس کے مصداق سوشل میڈیا کو استعمال کیا گیا۔ پھر نہ کسی کی عمر کا خیال کیا گیا، نہ رتبے کا اور نہ ہی اپنی تربیت کی لاج رکھی گئی۔ لیڈران نے اپنے کارکنان کی تربیت کرنے کے بجائے خود کو اخلاقی پستی میں گرانا زیادہ مناسب سمجھا۔ ہم جیسے ناتجربہ کار بھی اس کی لپیٹ میں آئے۔ وبا کچھ اس طرح پھیلی اور معاشرے کو چمٹی کہ سال بھر کا وقت لگ گیا اس سے چھٹکارا پاتے پاتے۔ صحافت کو نیا نیا اختیار کیا تھا اس لیے جوش سے بھرے مذاکرے کیے۔ حریف کو چاروں شانے چت کرنے کا لطف بھی لیا، لاجواب ہونے پر میں نہ مانوں کی رٹ بھی لگائی۔ اس دوران پھر سے دھرنے کا آغاز کیا گیا۔ دارالحکومت کا سرحدی علاقہ پشاور والوں اورقانون کے رکھوالوں کے لیے جنگ کا میدان بن گیا۔ میڈیا اس کو جنگ عظیم بنا چکا تھا۔ بنی گالہ پر خان کا وہی لہجہ لوٹ آیا اور پش اپ کر کے اپنی جسمانی طاقت کا اظہار کیا گیا، اور ''ابھی تو میں جوان ہوں'' کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا۔ جبکہ حکومت کی جانب سے ایک بار پھر روایتی سیاسی حکمت عملی نظر آتی رہی۔ جدہ میں جلا وطنی گزار کر آنے والے میاں برادران ایک بار پھر نوے کی دہائی کی سیاست کو اپنا چکے تھے۔ مجھ سمیت بہت سوں نے میاں صاحب کی الیکشن جیتنے کے بعد عمران خان سے ملاقات کو سراہا، مگر ڈھاک کے تین پات، وہی روایتی بڑھکیں۔

یہ بھی پڑھیں:   مذہب کارڈ کیا ہے؟ کیسے استعمال ہوتا ہے؟ شہیر شجاع

اگر کوئی شخص آپ کی تقلید کرتا ہو تو لازمی ہے کہ آپ اس کی تربیت اعلی ترین اخلاقیات کی روشنی میں کریں۔ چند ایک جماعتوں کو چھوڑ کر تمام جماعتوں کے قائدین اس سے یکسر لاعلم نظر آتے ہیں۔ کوئی پومی بٹ اور گلوبٹ کو پالتا ہے اور کوئی کھلاڑیوں اور جیالوں کو کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ شتر بے مہار ہوئے لوگ اندھا دھند تقلید میں اخلاقیات کا جنازہ نکالے پھر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں جے آئی ٹی کی سماعت کے دوران حکومتی اراکین کی زبان سن کر بچے گھروں میں پوچھتے رہے کہ یہ کیوں چیخ رہے ہیں۔ ان کو کسی نے مارا ہے یا کوئی ان کی ٹافی چھین کر بھاگ گیا ہے۔ اب بندہ کہاں سے بات شروع کرے اور کہاں سے سمجھانا شروع کرے۔ سرا ہی ہاتھ میں نہیں آ رہا۔ اپوزیشن جماعتوں نے وہ بخیے ادھیڑے ہیں لائیو آکر کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر پوگو دیکھنے میں عافیت جانی۔ پھر محترمہ گلالئی آگئیں اور بےرحم سوشل اور الیکٹرانک میڈیا نے اس کا پوسٹ مارٹم ایسا خوفناک کیا کہ اب خاندانی عورتیں سیاست میں آنے سے کنی کترا رہی ہیں۔

نواز شریف صاحب کی نااہلی کے بعد ان کے ووٹر کسی کی بات سننے کو تیار نہیں، اگر تنقید برائے اصلاح بھی ہوئی ہے تو پھر بھی گالم گلوچ ہی جھولی میں آئی ہے، اور تحریک انصاف کے وفادار کا لقب ملا ہے۔ اگر نواز لیگ کی کسی بات کی تعریف کی تو لفافہ صحافی کا لقب ملا۔ بات ختم کرتے ہوئے یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ رویہ خود سیاسی پارٹیوں کو بھگتنا پڑے گا۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ نقصان پھر اس سادہ عوام کا ہی ہوگا۔ موسمی پرندے تو پھر اڑ جائیں گے۔