یہ لاشہ تانیہ کا نہیں، قانون کا ہے - عابد محمود عزام

معاملہ صرف ایک مقتولہ تانیہ اور اس کے قاتل خان نوحانی کا نہیں ہے، بلکہ دو طبقات کی طویل داستان ہے، جن میں سے ایک طبقہ طاقتور اور دوسرا کمزور ہے۔ تانیہ کا ”سنگین جرم“ تو یہ تھا کہ جامشورو سیہون شریف کے غنڈے وڈیرے خان نوحانی نے میٹرک کی طالبہ تانیہ کا رشتہ مانگا، اس نے شادی سے انکار کر دیا، جس کی پاداش میں دہشت گرد وڈیرے نے اسے اس کے والدین کے سامنے موت کے گھاٹ اتارا اور متکبرانہ انداز میں لاش کی تصویریں بناتا ہوا چلا گیا۔ تانیہ نے غریب ہوتے ہوئے اپنی مرضی کو وڈیرے کی مرضی پر ترجیح دے کر جو ”جرم“ کیا تھا، بلاشبہ اس کی سزا تو اسے دے دی گئی۔ وہ یہ نہ جانتی تھی کہ وہ جس معاشرے میں جی رہی ہے، وہاں کمزور اور غریب عوام کی حیثیت غلام سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔

اس معاشرے میں کمزور کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے جو تانیہ کے ساتھ ہوا ہے۔ جو بھی کمزور اور غریب، بااثر افراد کی ناک کٹوائے، اس کی گردن کاٹ دی جاتی ہے۔ یہ معاشرہ شاید جنگل کا روپ دھارچکا ہے ۔ جنگ میں تو کوئی قانون نہیں ہوتا، لیکن یہاں تو قانون بھی طاقتور کا رکھوالا ہے، جو کمزور کو تو فوراً گرفت میں لے لیتا ہے، لیکن طاقتور کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے۔ آپ نے آج تک کتنے بااثر افراد کو سزا ملتی دیکھی ہے؟ وہاں تو ملتی ہوگی، جہاں مقابل بھی افراد بااثر ا ہی ہوں، لیکن جہاں بااثر افراد کے مقابل کمزور ہو، وہاں قانون کو بھی بااثر افراد کا محافظ ہی سمجھیے!کیا اسی معاشرے میں وڈیرے اپنے مزدوروں پر کتے نہیں چھوڑتے؟ کیا ان کی ٹانگیں نہیں توڑی گئیں؟ کیا ان کے ہاتھ نہیں کاٹے گئے؟ کیا ان پر ٹریکٹر نہیں چلائے گئے؟ لیکن کیا آپ نے کسی ظالم وڈیرے، جاگیردار یا ایم این اے کو سزا ہوتی دیکھی ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   معاملہ سندھ میں ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کا- محمد عامر خاکوانی

اگر معاملہ سوشل میڈیا پر آگیا تو چار دن شور مچتا ہے۔ دو دن بعد الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا بھی چپ سادھ لیتا ہے اور اس کے بعد وہ ظالم پھر سے کمزوروں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے کے لیے آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں۔ ان کو کوئی سزا نہیں ہوتی، کیوں ؟ صرف اس لیے یہاں کا قانون کمزور کے لیے ہے۔ قانون بااثر افراد کے گھر کا ملازم ہے۔ کیا اسی معاشرے میں گھر میں کام ہونے والے کتنے بچے قتل نہیں ہوئے، کیا کسی ایک کے بھی قاتل کو پھانسی ملی؟ نہیں ہوئی نا، کیوں؟ اس لیے کہ یہاں قانون طاقتور کا محافظ ہے۔ بھوک سے مرتا کوئی غریب ایک ہزار روپے بھی چوری کرلے تو اسے فوراً جیل بھیج دیا جاتا ہے، لیکن ملک کی دولت لوٹ کر اربوں روپے اپنے بینکوں میں منتقل کرنے والے، کروڑوں اور اربوں کی کرپشن کرنے والوں میں سے کتنوں کو جیلوں میں سڑنا پڑا؟ نہیں نا! کیوں، صرف اس لیے یہ قانون ان کا نوکر ہے۔

آج بھی غریب کسی جھوٹے اور چھوٹے سے کیس میں بیس بیس جیل میں سڑتا رہتا ہے، لیکن بااثر افراد قتل بھی کرلیں تو قانون ان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ پاتا۔ کوئی غریب کسی پولیس والے سے اونچی آواز سے بات بھی کرلے تو اس کے خلاف اپنی مرضی کا پرچہ کاٹ کر برسوں اسے جیلوں میں سڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے ہے، بااثر افراد کے کہنے پر کتنے غریبوں پر پرچے کاٹ کر ان سے انتقام لیا جاتا ہے، جیلوں میں سڑنے والوں کی ایک بڑی تعداد بے گناہ لوگ ہیں، لیکن بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے والے، غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنے والے، غریبوں کی بیٹیوں کو اغوا کر نے والے کتنے بااثر افراد کو قانون نے سزا دی ہے؟ وہاں تو پولیس والے بھی ان بااثر افراد کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے نظر آتے ہیں۔ کیا دہشتگرد صرف دھماکا کرنے والا ہوتا ہے؟ آرمی پبلک اسکول میں حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی طرح غریب عوام کی زندگی اجیرن کرنے والے، غریب عوام کو قتل کرنے والے غنڈوں، وڈیروں، بدمعاشوں اور دہشتگردوں کو سولی پر کیوں نہیں چڑھایا جاتا؟لیکن ان سے انصاف کی کیا توقع کی جائے ، جنہوں نے خود کئی کئی غنڈے پالے ہوئے ہیں، جن کا کام ہی صرف غریبوں کو دبانا، دھمکانا، ان کی زمینوں پر قبضے کرنا اور مخالفین کو مارنا ہے۔ کیا مختلف جماعتوں نے ٹارگٹ کلرز نہیں پالے؟ جو خود موت بانٹتے ہوں، کیا وہ غریب عوام کو انصاف دیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:   ہندو لڑکیوں کی شادی، حقائق کیا ہیں؟ آصف محمود

جس سندھ میں تانیہ کو ایک وڈیرے غنڈے نے قتل کیا ہے، اسی سندھ میںشاہ رخ خاں جتوئی وڈیرے نے ایک ایس پی کی بیٹی کو چھیڑا تھا، بھائی نے منع کیا تو اس کو قتل کردیا تھا۔قانون وہاں بھی قانون کے رکھوالے ایس پی کی بیٹی کی عصمت اور اس کے بیٹے کے قتل سے انصاف نہ کرسکا، بلکہ شاہ رخ کے سامنے جھک گیا تھا، کیا یہ قانون ایک مزدور قادر خان خاصخیلی کی بیٹی تانیہ خاصخیلی کو قتل کرنے والے دہشتگرد خان نوحانی کو پھانسی پر لٹکا سکے گا؟ہر گز نہیں،لیکن افسوس تو اس عوام کی بدقسمتی پر ہے جو برسوں سے انہی لوگوں کو ملک پر مسلط کرتے آ رہے ہیں، جن کے علاقوں میں جاکر اگر تحقیق کی جائے تو ان میں سے 80فیصد کرپشن، لڑائی جھگڑے، قتل، زمینوں پر قبضے اور اغوا سمیت مختلف قسم کے جرائم میں ملوث نہ ہوں گے، لیکن پھر بھی حاکم یہی ظالم طاقتور ہیں اور محکوم اس ملک کے کروڑوں کمزور عوام ہیں۔
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات!

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.