تسی وی بڑے مذاقیے ہو خان صاحب - ثمینہ رشید

عمران خان بھی بڑا ہی عجیب لیڈر ہے، بیس سال تک اس ملک و قوم کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اور اس ملک کے میڈیا اور نام نہاد دانشوروں کا مزاج بھی نہیں سمجھتا۔

اب اس ملک میں میڈیا کے ساتھ ساتھ قوم کی اکثریت کا مزاج بھی یہ بن چکا ہے کہ یہ بڑے بڑے جھوٹ ہضم کرجاتی ہے لیکن احتجاج تو دور کی بات ناگواری کا اظہار تک نہیں کرتی۔ البتہ اگر کوئی ایمانداری اور سچائی کے ساتھ اپنی بات کرے تو میڈیا، صحافی اور دانشورانِ قوم کی ہنسی ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ اور یہی نہیں سچ سن کر ان کے سیاسی ہاضمے پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔

عمران خان کےایک بیان کو لے کر جس طرح سے جیونیوز پر بریکنگ نیوز اور سلیم صافی کے تجزیے سے جو سلسلہ شروع ہوا، وہ دانشوروں کی سوشل میڈیا پہ چھلانگیں لگانے پہ بھی نہ تھما۔
کیا کہا تھا عمران خان نے؟
یہی نا کہ ایک طرح سے اچھا ہوا کہ دو ہزار تیرہ میں ہماری گورنمنٹ نہ بنی کیونکہ ہمارے پاس تجربہ نہیں تھا۔ کے پی کے میں بھی شروع میں ہمیں پتہ نہ چلتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ آہستہ آہستہ ہم نے سیکھا۔
یہ ایک بے ریا لیڈر کا ایمان دارانہ بیان تھا، جس نے سچائی بیان کی کہ کس طرح سے انہوں نے کام شروع کیا اور سیکھا۔

یہ کسی موروثی پارٹی کے لیڈر کا نہیں، بیس سال کے عزم اور جنون کا سفر طے کرکے اس منزل پہنچنے والے ایک رہنما کا بیان تھا۔
یہ کسی ڈکٹیٹر کے پالنے سے نکل کر وزیرِ اعلی بننے اور پھر وزیر اعظم بننے والے کا بیان نہیں تھا۔
یہ ایک جدوجہد کی علامت اور مستقل مزاجی سے ایک منزل کی طرف بڑھنے والے لیڈر کا بیان تھا۔
لیکن ہم بحیثیت قوم سچائی سننے کے عادی نہیں۔ ہمیں ہمارے ریاکار اور بے وقوف بنانے والے سیاسی رہنماؤں کی عادت ہے۔ اس لئے ہمیں ایسے سچے بیان لطیفے سے کم نہیں لگتے ۔ کہ ارے یہ کیسا لیڈر ہے؟ یہ کیسی باتیں کر رہا ہے؟

آئیے پڑھیے اور موازنہ کیجیے کہ ہم بحثیت قوم کس بات کے عادی ہیں۔

ایک سندھ کی جماعت ہے جو ستر کی دہائی سے مرکز پہ تین مرتبہ اور سندھ پہ مسلسل حکمرانی کر رہی ہے لیکن کیا کارکردگی ہے:
تھر میں آج بھی سیکڑوں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔ لیکن حکومت سب ٹھیک ہے کا نعرہ لگاتے نہیں تھکتی۔ اندرون سندھ کی بدحالی ، صحت و تعلیم کی سہولتوں کا فقدان، غربت ، ٹوٹی سڑکیں اور ناقص نکاسی آب اور سب سے بڑھ کر وڈیروں کا ظلم پہ مبنی نظام۔ کچھ نہیں بدلتا لیکن حکومتیں روز جھوٹے بیان جاری کرتی ہیں ۔ نہ کسی دانشور کے قلم میں جنبش ہوتی ہے نہ صافی صاحب کی زبان سے سچ نکلتا ہے کہ ان کاسچ بس عمران خان کے بغض سے ہی لبریز نظر آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم ابھی مایوس نہیں ہوئے! شیخ خالد زاہد

کراچی میں کچرے کے ڈھیر تک نہ اٹھا سکنے والی حکومت کیسے روشنیوں کے شہر کو گندگی کے ڈھیر میں تبدیل کردیتی ہے ۔ روز حکومتی وزراء جھوٹے بیانات جاری کرتے ہیں لیکن صحافی ، میڈیا اور دانشور سر ہلا ہلا کر داد دیتے ہیں۔ مذاق اڑانا تو دور کی بات جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی جرات بھی نہیں ہوتی۔

ایک اور بڑی ”شریف“ جماعت ہے جو پنجاب پہ کم و بیش تیس سال سے قابض ہے اور مرکز پہ بھی تین باریاں لے چکی ہے۔ ملک کی ترقی کے گن گاتی رہتی ہے لیکن پھر بھی ایک ایسا حلقہ جہاں سے وزیراعظم الیکشن لڑتا ہے یعنی این اے 120، اس کے بڑے مسائل میں شامل ہیں:
صاف پانی کی فراہمی
نکاسئی آب کا نامناسب انتظام
گندگی کے ڈھیر
ٹوٹی پھوٹی سڑکیں
یہ ایک حلقے کی صورتحال ہے جہاں سے سابق وزیراعظم الیکشن لڑتے رہے ہیں۔ اگر اس حلقے کا یہ حال ہے تو باقی حلقوں کا تو اللہ ہی نگہبان ہوگا۔
اس کے باوجود وہ سابق وزیراعظم مسلسل دعوے کرتے تھے کہ ہم نے ملک کو بہت ترقی دی ۔ معشیت کو عروج دیا، موٹر ویز دیں۔
جی جناب آپ نے ”ایسے“ ہی ”بڑے بڑے“ کام کئے جہاں سے آپ کو کچھ ”بچت“ ہوسکے لیکن آپ اپنے حلقے میں صاف پانی تک نہ فراہم کرسکے۔ کیونکہ اس سے بھلا آپ کو کیا فائدہ ہوجانا تھا؟ تو ایساسر درد کون مول لے۔ عوام جب ایسے ہی بے وقوف بن جاتی ہے تو بس پھر زیادہ کام کرنے کی بھلا کیا ضرورت ہے۔

تیس سال بعد بھی الیکشن کی کمپئین میں سابق وزیراعظم کی بیٹی علاقے کے مسائل پہ بات کرنے کے بجائے کہتی نظر آتی ہیں:
میں اپنی بیمار ماں کو چھوڑ کر الیکشن کی مہم چلا رہی ہوں مایوس نہ کرنا
صاف پانی کی فراہمی کے وعدے تک نہیں کیے جاتے، بس راگ الاپا جاتا ہے کہ میرا باپ کرپٹ نہیں اس کے خلاف سازش ہوئی۔
لیکن ان باتوں پہ کسی صحافی اور دانشور کو ہنسی آتی ہے نہ ہی ان بی بی کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ کیونکہ جھوٹ سننے کی عادت بھی کیا بری عادت ہے کانوں کو سچ بھلا ہی نہیں لگتا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر پر امریکہ ثالثی کی پیشکش اور بھارتی ہٹ دھرمی - آصف خورشید رانا

دوسری طرف پنجاب کے وزیراعلی ہیں جو دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ لاہور کو پیرس بنادیں گے اور ہر سال لاہور میں بارش کے بعد پیرس تو نہیں لیکن پیرس کے لانگ بوٹ پہنے شو بازیاں کرتے نظر آتے ہیں اور یہی صحافی، میڈیا اور دانشور ان کی مدح سرائی کرتے نہیں تھکتے۔

ہمارے موجودہ وزیراعظم ہیں شاہد خاقان عباسی جو ایک ہی ایل این جی ٹرمینل کا چار بار افتتاح کرتے ہیں کسی کو ہنسنا یاد نہیں آتا۔

دوسری جانب عمران خان ہے جسے کے پی کے کی حکومت پلیٹ میں رکھ کر نہیں ملی بلکہ بیس سال کی جدوجہد کے بعد ملی ۔ جو اپنے پہلے حکومتی تجربے کے بارے میں ایمانداری سے بات کرتے ہیں تو سچ نہ سننے کی عادی قوم کے دانشوروں کو کسی لطیفے سے کم معلوم نہیں ہوتا۔

یہ وہ صوبہ ہے جہاں ایک جماعت کو پہلی مرتبہ حکومت ملی اور انہوں نے اپنے پہلے چار سال میں:
چھوٹے چھوٹے کئی ڈیم بنا کر دیہاتوں کو بجلی کئ فراہمی کی کوشش کی۔
اپنے صوبے کی پولیس کے نظام کو غیر سیاسی اور کرپشن سے پاک غیر جانبدارانہ بنایا۔
ہر قسم کی انفارمیشن تک عوامی رسائی کا قانون بنایا۔
صحت و تعلیم کے نظام میں اتنی بہتری آئی جو پچھلے پینسٹھ سالوں میں نہ ہوئی تھی۔
بلدیاتی نظام کے تحت ہر کونسل کو بلا تفریق ایک جیسا اور خطیر فنڈ مہیا کیا کہ وہ اپنے علاقے کے مسائل کو مقامی سطح پر حل کریں۔
پہلی مرتبہ کئی اداروں میں صرف میرٹ پہ بھرتیاں ہوئیں۔
بلین ٹری کا منصوبہ ماحولیات کی بہتری کا ایک اور سنگِ میل ہے۔
اور یہ کسی عام صوبے کی بات نہیں اس صوبے کی بات ہے جو دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔
اتنا کچھ اپنے پہلے دورِ حکومت میں کر کے دکھانے والی پارٹی کا لیڈر پھر بھی اپنی کامیابی کے جھوٹے پروپیگنڈے کے بجائے کھل کر بیان کرتا ہے کہ یہ سب آسان نہیں تھا۔ وہ بلا جھجھک کہتا ہے کہ جو تبدیلی وہ لانے کا خواہشمند ہے اسکے اپنے صوبے میں اس تبدیلی کی راہ میں بڑے بڑے لوگ اور بیورکریسی حائل ہے۔ جو خود احتسابی پہ اور سچ پہ یقین رکھتا ہے۔ جو قوم سے جھوٹے وعدے نہیں کرتا ۔ جو اپنے جھوٹے کارناموں کے راگ بھی نہیں الاپتا۔
جو کہتا ہے کہ ہم نے سیکھا، ہم سیکھ رہے ہیں اور ہم سیکھتے رہیں گے۔

یہ کیسی باتیں کرتے ہو خان صاحب۔ جھوٹ کے بازار میں سچ کی دکان سجاتے ہو؟
تسی وی بڑے مذاقیے ہو خان صاحب

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • عمران خان واقعی اس ملک کی سیاستدان کا عجیب و غریب کردار ہیں ۔اسی لئے صاحبان سیاست انہیں سیاستدان ماننے سے انکاری ہیں اور بڑے بڑے سیاستدان برملا کہہ چکےہیں کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔واقعی عمران خان کو سیاست نہیں آتی کیوں کہ عمران خان روایتی سیاستدان نہیں ہے ۔اسے جھوٹ اور مکرو فریب کی سیاست نہیں آتی۔اس لکھی ہوئی تقریر پڑھنے میں مسئلہ ہوتا ہے وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے موقع پر زبانی کہہ دیتا ہے ۔وہ تقریر کرتے وقت زرا بھی نہیں اٹکتا۔یہی تو عمران خان کا قصور ہے کہ وہ سچ بولتا ہے ایک ایسے دیس میں جہاں سچ کو ایک تہمت سمجھا جاتا ہے ۔
    کاش کہ اس ملک میں سیاسی شعور ارتقاء کی ابتدائی منزلوں کو طے کر کے اس مقام پر پہنچے کہ ہر حکمران عمران خان کی طرح اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرے اور آئیندہ مزید بہتری کے عزم کا اعادہ کرے اور عوام اور سیاسی کارکنان اس کے اس عمل کی ستائش کریں نہ کہ پروپیگنڈہ شروع کردیا جائے ۔
    باقی آپ سے اتفاق ہے کہ خان صاحب واقعی مزاقیے ہیں