لاہور کا انتخابی معرکہ - محمد عامر خاکوانی

لاہور میں این اے 120 کا انتخاب کئی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ضمنی انتخابات کو حکومت اور اپوزیشن دونوں حق وباطل کا معرکہ بنا نے کی کوشش کرتی ہیں۔ حکمران جماعت اپنی نشست واپس جیت لے تو اسے اپنی حکومتی کارکردگی کے حق میں ریفرنڈم قرار دیتی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن ضمنی انتخاب ہار جانے کو حکومتی دھاندلی اور اگر وہ سیٹ جیت لے تو اسے حکومت کے خلاف عوامی عدم اعتماد کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی داغ دیا جاتا ہے۔ ان دونوں صورتوں کا زمینی حقائق سے کچھ زیادہ تعلق نہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جنرل ٹرینڈز اہمیت تو رکھتے ہیں، الیکشن میں بسا اوقات کسی خاص جماعت کے حق میں یا مخالفت میں ایک لہر سی چلتی ہے، کچھ فیصد ووٹ اس سے ضرور متاثر ہوتے ہیں، کہیں یہ اثر زیادہ بھی ہوجاتا ہے، مگر ہمارے ہاں بیشتر حلقوں کی اپنی صورتحال اور ڈائنامکس ہوتی ہیں۔ مقامی بااثر شخصیات یعنی الیکٹ ایبلز، برادریاں، ڈیرے داری اور ووٹرز کے ساتھ کون کتنا جڑا رہا؟ یہ فیکٹرز زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔

پچھلے ڈھائی تین برسوں کے دوران پنجاب میں کئی ضمنی انتخابات ہوئے۔ ان میں سے بیشتر مسلم لیگ ن نے جیتے، اس کی وجوہات واضح ہیں۔ بعض مقابلے خاصے سخت اور کلوز گئے، جیسے لاہور میں سپیکر ایاز صادق بمشکل جیتے، وزیرآباد سے حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے نے سخت مقابلہ کیا اور تھوڑے مارجن سے افتخار چیمہ سے ہارے، جہلم میں فواد چودھری نے توقعات سے خاصے زیادہ ووٹ لیے۔ لودھراں سے جہانگیر ترین نے معرکہ مارلیا، مگر اس میں ان کی اپنی شخصیت اور بے پناہ مالی اخراجات کا بڑا اہم کردار تھا۔ لودھراں کے الیکشن کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ن کے خلاف کوئی نتیجہ اخذ کیا جاتا تو وہ غلط ہوتا۔ البتہ پنجاب کے ان ضمنی انتخابات میں دو باتیں واضح ہوگئیں۔ ایک یہ کہ پیپلزپارٹی کی مئی تیرہ کے انتخاب میں بدترین شکست کوئی اتفاق نہیں تھا، بلکہ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں یہ پارٹی اپنا ووٹ بینک اور سیاسی توقیر کھو چکی ہے۔ ہر معرکے میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کی ضمانت ضبط ہوئی، صورتحال یہ ہوگئی کہ ان کے لیے امیدوار ڈھونڈنا مشکل ہوگیا۔ دوسرا یہ اندازہ ہوگیا کہ تحریک انصاف ہی صوبے میں مسلم لیگ ن کی حقیقی حریف ہے اور جہاں ان کے پاس مضبوط امیدوار (الیکٹ ایبلز) آئے، وہاں فرق چار پانچ ہزارسے کم رہا۔ میرا خیال ہے کہ اسی فیکٹر نے عمران خان کو الیکٹ ایبلز کی حوصلہ افزائی پر اکسایا اور انہیں فردوس عاشق اعوان، نذر گوندل وغیرہ کو قبول کرنا پڑا۔

اس پس منظر میں مجھے حیرت ہوئی، جب عمران خان کا بیان پڑھا کہ این اے ایک سو بیس کے انتخاب پر سیاسی مستقبل کا دارومدار ہے۔ عمران خان پنجابی سلینگ کے مطابق بھولے بادشاہ ہیں، غیر ذمہ دارانہ بیان دینے میں تو انہیں کمال درجہ مہارت حاصل ہے۔ لاہور میں یہ حلقہ مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، پچھلے تیس چالیس سال سے اس پر شریف خاندان نے انویسٹمنٹ کی، حلقے کی من پسند تراش خراش کی گئی، مختلف برادریوں پر کام ہوتا رہا، ہزاروں کے قریب لوگوں کو ملازمتیں دی گئیں۔ انتہائی کوشش کر کے اسے محفوظ حلقہ بنایا گیا۔ اس قسم کے مقابلوں کو زیادہ ہائپ نہیں دی جاتی اور نہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ اس ضمنی انتخاب پر ہمارے سیاسی مستقبل کا دارومدار ہے۔ نرم سے نرم لفظوں میں عمران خان کے ایسے بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر دانشمندانہ کہا جائے گا۔ سادہ سی بات ہے کہ یہ مسلم لیگ ن کی سیٹ ہے، ان کا محفوظ حلقہ ہے، یہاں سے ان کا جیتنا کوئی خبر نہیں، ہاں اگر کوئی اپ سیٹ ہوجائے تو وہ یقیناً بڑی خبر بلکہ اخبارات کی شہ سرخی بن جائے گی۔ تحریک انصاف کا یہ سیٹ ہارنا کوئی معنی نہیں رکھتا نہ ہی اسے آئندہ انتخابات کا بیرومیٹر کہا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے یہی غلطی کراچی میں این اے 246 کے ضمنی انتخاب میں کی تھی، جب ایم کیو ایم کے مضبوط ترین (عزیز آباد والے) حلقے میں انہوں نے غیر ضروری ہائپ پیدا کی اور پھر بڑے مارجن سے شکست کھا کر سکون کا سانس لیا۔

یہ بھی پڑھیں:   حکم کے بغیر ایمپائر انگلی نہیں اٹھاتا - قادر خان یوسف زئی

این اے 120 لاہور کا ایک روایتی حلقہ ہے، اندرون شہر کے کچھ حصے اس میں آتے ہیں۔ اسلام پورہ، بلال گنج، نئی انارکلی، اردو بازار، ہال روڈ، کوپر روڈ، مزنگ، میو ہسپتال، ساندہ، کریم پارک، لوئر مال، شاہراہ فاطمہ جناح، موج دریا روڈ، سنت نگر، راج گڑھ، لٹن روڈ، چوبرجی، ریوازگارڈن، سول سیکرٹریٹ، پریم نگر، بند روڈ، راوی کالونی، کھوکھر ٹاؤن، مومن پورہ وغیرہ۔ لاہور کے یہ معروف علاقے ہیں، ان میں ہال روڈ، لٹن روڈ، نئی انارکلی، اردو بازار، میو ہسپتال سے متصل بازار وغیرہ تاجروں کے علاقے ہیں۔ چوبرجی سے متصلہ ریواز گارڈن وغیرہ لوئر مڈل کلاس علاقے ہیں۔ مزنگ، اسلام پورہ، ساندہ، کریم پارک وغیرہ پرانے لاہوریوں کے علاقے ہیں۔ مجموعی طور پر یہاں تجارتی مڈل کلاس، لوئر مڈل کلاس اور کچھ علاقے لوئر کلاس کے ہیں۔ طبقاتی طور پر یہ مسلم لیگ ن کی ٹارگٹ آڈینس ہے۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سیاسی یا مسلکی طور پر اینٹی نواز شریف ووٹ موجود ہے، روایتی طور پر پیپلزپارٹی کا بھی پچیس سے تیس ہزار تک ووٹ رہا ہے۔ پہلے یہ این اے پچانوے کہلاتا تھا، بعد میں کچھ ترامیم کے بعد یہ این اے ایک سو بیس کہلایا۔ این اے پچانوے کے زمانے میں اصغر خان نے میاں نواز شریف کے مقابلے میں زوردار معرکہ لڑا اور پینتیس ہزار ووٹ لیے، مگر میاں نواز شریف پچاس ہزار ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔

2002ء میں صورتحال ناگفتہ بہ تھی، حکومتی جبر کے باعث ن لیگ کو امیدوار ملنے مشکل ہوگئے تھے، بمشکل درجن بھر نشستیں انہیں مل پائیں، اس قدر برے حالات کے باوجود پرویز ملک جیسا اوسط درجے کا امیدوار بھی باآسانی جیت گیا، انہیں تینتیس ہزار یعنی چھیالیس فیصد کے قریب ووٹ ملے، دوسرے نمبر پر اس وقت پیپلز پارٹی کے الطاف قریشی رہے، انہیں انیس ہزار چند سو ووٹ ملے۔ 2008ء کے انتخابات میں میاں نواز شریف واپس آ چکے تھے، مگر انہوں نے الیکشن نہیں لڑا۔ اس حلقے سے ان کے عزیز بلال یاسین چھیاسٹھ ہزار کے قریب ووٹ لے کر جیت گئے، یہ تقریباً انسٹھ فیصد ووٹ بنتے تھے۔ دوسرے نمبر پر اس وقت پیپلزپارٹی کے جہانگیر بدر چوبیس ہزار ووٹ لے سکے۔ 2013ء کے انتخابات میں میاں نواز شریف نے ساڑھے اکیانوے ہزار ووٹ لیے جو تقریبا ساٹھ فیصد بنے۔ اس بار دوسرے نمبر پر تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد تھیں، انہوں نے باون ہزار ووٹ لیے جو تقریباساڑھے چونتیس فیصد بنتا تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے امیدوار کو اس بار دو ہزار کے قریب ووٹ ملے، یعنی وہ ووٹ بینک ٹوٹ کر تحریک انصاف کی طرف چلا گیا۔ اس الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ سلمان بٹ کو ایک ہزار سے کم ووٹ ملے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچہ کیوں رو رہا ہے؟ روبینہ فیصل

اس بار اصل مقابلہ مسلم لیگ ن کی بیگم کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد میں ہے۔ باقی امیدواروں کو ملنے والے ووٹ سے البتہ بعض اندازے لگانے ممکن ہو پائیں گے۔ مثال کے طور پر فیصل میر کے ووٹ پیپلزپارٹی کی موجودہ پوزیشن کو مزید واضح کر دیں گے۔ حافظ سعید کی ملی مسلم لیگ پہلی بار میدان میں اتری ہے، ان کے امیدوار یعقوب شیخ کے حاصل کردہ ووٹوں کو دلچسپی سے دیکھا جائے گا۔ تحریک لبیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنے آپ کو منوانے نکلی ہے، ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ملی مسلم لیگ اور سنی تنظیم لبیک یا رسول اللہ کو ملنے والے ووٹ مسلم لیگ ن کے کھاتے سے کم ہوں گے ۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو پچھلی بار کسی نے سیریس نہیں لیا تھا، البتہ ان کی جرات کو ضرور سراہا گیا۔ انہوں نے پچاس ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر بہت سوں کو حیران کر دیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کوئی اپ سیٹ کر پاتی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے گراس روٹ لیول پر اچھی ڈور ٹو ڈور مہم چلائی ہے۔ ڈاکٹر یاسمین معروف گائنا کالوجسٹ ہیں اور اس علاقے سے متصل گنگا رام ہسپتال میں برسوں کام کرتی رہی ہیں۔ پچھلی بار وہ جب کمپین میں تھیں تو بےشمار گھروں میں خواتین نے بتایا کہ ڈاکٹر صاحبہ گھر کا فلاں بچہ آپ کے ہاتھوں پیدا ہوا۔ دوسری جانب بیگم کلثوم نواز کے پیچھے میاں نواز شریف کی سیاسی قوت اور مسلم لیگ کی سیاسی عصبیت موجود ہے۔ صوبائی حکومت کا مکمل ایڈوانٹیج ان کی مہم کو ملا۔ سرکاری وسائل بے تحاشا خرچ ہوئے، ملازمتوں سے لے کر ترقیاتی کاموں تک بہت کچھ ہوتا رہا ہے، جسے الیکشن کمیشن حسب معمول چپ سادھ کر دیکھتا رہا۔ اس حوالے سے مختلف اخباری رپورٹس شائع ہوتی رہی ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کا تعلق گاما پہلوان کے خاندان سے ہے، پرانا لاہوری ووٹر ان کے خاندان کا احترام کرتا ہے۔ سپیکر ایاز صادق کا ضمنی انتخاب حمزہ شہباز کی زیرنگرانی لڑا گیا۔ حمزہ شہباز پنجاب کے بیشتر ضمنی انتخابات میں کمپین لیڈر تھے۔ وہ ن لیگ کے الیکشن سپیشلسٹ سمجھے جاتے ہیں، مگر اس بار انہیں میدان سے باہر کر دیا گیا ہے۔ باگ ڈور اس بار مریم نوازشریف کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنی والدہ کے الیکشن میں شاید ایک فیصد بھی رسک نہیں لینا چاہتیں، اس لیے تمام کنٹرول انہوں نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ مریم نواز شریف کا یہ پہلا سیاسی امتحان ہے۔ انتخابی نتیجہ جو بھی نکلے، اس کے براہ راست اثرات ان پر مرتب ہوں گے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.