دعائے عجیب اور جہادِ اسلامی - حافظ یوسف سراج

یہ ایک عجیب دعا ہے، اتنی عجیب کہ آپ دنگ رہ جائیں۔ لیکن شاید ہی آپ نے کبھی اس دعاپر غور کیا ہو۔ اس کے باوجود کہ آپ نے زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہوں گی، بہت سی دعائیں سنی ہوں گی۔ بے شمار دعائیں تو قرآنِ مجید میں مذکور ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ دعائیں مختلف موقعوں پر پیارے رسول نے اللہ کے حضور عاجزی سے کی ہیں ،یہ دعائیں باوفا صحابہ نے امت کے فائدے کیلئے انتہائی حفاظت اور دیانت سے آگے بیان کردی ہیں اور کمال محبت سے محدثین نے یہ دعائیں احادیث کی کتابوں میں جمع کردی ہیں۔ یہ مسنون دعائیں کہلاتی ہیں ۔ یہ دعائیں زیادہ جامع، زیادہ بلیغ اور زیادہ ٹو دی پوائنٹ بھی ہوتی ہیں اوران کی قبولیت کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتاہے۔ بے شمار دعائیں آپ نے بزرگوں سے بھی سنی ہوں گی ۔ آپ جانتے ہیں کچھ دعائیں دنیا کے بارے میں ہوتی ہیں اور کچھ آخرت کے بارے میں ، کچھ دعائیں کامیابی کے بارے میںہوتی ہیں اور کچھ علم کے بارے میں ، کچھ اولاد کے بارے میں ہوتی ہیں اور کچھ والدین کے بارے میں۔ کچھ دعائیں اپنی استقامت کے بارے میں ہوتی ہیں اور کچھ ہدایت کے بارے میں،کچھ انبیا کی دعائیں ہوتی ہیں اورکچھ اولیا اورصلحا کی دعائیں ، کچھ دعائیں موقعوں سے متعلق ہوتی ہیںاورکچھ مقامات کے متعلق ۔ کچھ دعائیں نقصان اور بیماری سے بچنے کیلئے ہوتی ہیں اورکچھ دعائیں فتنوں سے تحفظ کے لئے ۔ فتنے کا مطلب ہوتاہے شدید آزمائش ۔ انسان کے لئے آزمائشیں بھی کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ قرآن نے مال اور اولاد کو بھی فتنہ کہا ہے اور قرآنِ مجید نے عورت کو بھی فتنہ کہاہے۔قرآن مجیدنے دنیا کو بھی فتنہ قرار دیاہے۔ مال، اولاد ، عورت اور دولت کے فتنہ ہونے کا مطلب ان چیزوں کی اہمیت بیان کرنابھی ہے کہ ان کی ضرورت و محبت کے پیش نظرا نسان ان پر زیادہ توجہ دیتے ہوئے کئی دفعہ اپنا مقصدِ اصلی اور سفرِ حقیقی بھلا بیٹھتاہے اور یوں یہ چیزیں انسان کے حق میں فتنہ بن جاتی ہیں۔ لیکن آج جس دعا کا میں تذکرہ کرنا چاہتاہوں ، وہ ان سب سے عجیب، الگ اور منفرد دعا ہے ، یہ دعا قرآنِ مجید میں مذکور ہے اور کم ہی لوگوں نے اس دعا پر غور کیا ہوگا۔ یہ دعا قرآنِ مجید کی سورت نمبر10سورۂ یونس کی آیت نمبر 85میں مذکور ہے، یہ سیدنا موسیٰ ؑ کی دعا ہے جو انھوں نے فرعون کے ظلم و ستم کے مقابل اللہ سے کی تھی۔ اس دعا کی انفرادیت اوراہمیت اور امتیاز اس کا حیرت انگیز مفہوم اور دعا کے عجیب تر لفظ ہیں۔سیدنا موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی
’’اے اللہ! ہمیں ظالم قوم کے لیے فتنہ نہ بنا ،اور اپنی رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات عطا فرما!‘‘

دعا کے لفظوں پر غور کیجیے تو آدمی دنگ رہ جاتاہے۔ ظلم فرعون کر رہا تھا، مار بنی اسرائیل کی قوم کوپڑ رہی تھی ۔ یہ قوم فرعون کی غلام تھی۔ انھیں کچھ حقوق حاصل نہ تھے، یہ قوم فرعون کا ہر ظلم سہتی اور ہر حکم بجا لاتی تھی۔ یہ قوم مسلمان تھی اورفرعون کافر تھا، ہونا تویہ چاہئے تھاکہ فتنہ فرعون کو قرار دیاجاتا،یہاں مگر دعا میں سیدنا موسیٰؑ یہ کہتے ہیں کہ یااللہ ہمیں فرعون کے لئے فتنہ نہ بنا۔ ا س کا کیا مطلب ہے اور یہ کہنے میں آخر کیا راز ہے ؟ آخر مسلمان ظالموں کیلئے اور کافروں کے لئے کس طرح فتنہ بن سکتے ہیں؟ اور پھر اس حال میں کہ وہ بے انتہا مظلوم ، بے نوا اور لاچار بھی ہوں؟اس سوال کے جواب کی طرف ہم بعد میں آتے ہیں ، پہلے تھوڑی دیر کیلئے ہم عہدِرسول اللہ کے مکہ میں چلتے ہیں۔

جس دن رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کریہ اعلان فرما دیاتھاکہ اے مکہ والو! تم اللہ کو ایک مان لو ، فلاح یاب ہو جاؤ گے اور عرب ہی نہیں تم عجم کے بھی مالک بن جاؤ گے، اسی دن سے مسلمانوں کیلئے مکہ جلتا ہوا تنور ہو گیااورزندگی کانٹوں کی سیج ہو کر خون اور خواہشات کا خراج مانگنے لگی۔ اسی دن سے اللہ کا گھررسول اللہ کیلئے اذیت کاگھراور مکہ شہر رسول اللہ ؐکے لیے زندگی کا مرگھٹ بنا دیا گیا۔ گالیاں دی گئیں ، آوازے کسے گئے ، کُوڑے پھینکے گئے ،کوڑے برسائے گئے ۔ اونٹ کی اوجھڑیاں پھینکی گئیں۔قتل کی سازشیں ہوئیں ، گلے دبائے گئے ، گھروں سے نکالا گیا ،مقاطعہ کیا گیا،شعب ابی طالب میں محصور کیا گیا، انسانوں کو پانی کی ایک بوند اور کھجور کانصف ٹکڑا تک نہ دینے اور تڑپا تڑپا کر مارنے کا عہد نامہ خد اکے گھر کی دیوار کے ساتھ لٹکا دیا گیا۔اپنے ہی ہم رنگ خون کے خونی رشتے داروں کو درختوں کے پتے اور چمڑے تک کھانے پر مجبور کردیاگیا۔سیدنابلال ؓکو برستے کوڑوں تلے تپتی ریت پرلٹایا گیا،عمرفاروقؓ جیسے عزت داروں کو اورابو ذر غفاریؓجیسے مسافر وں کو پورا مکہ مل کے مارتا اور ان جیسے دوسرے کمزور وں کواذیتیں پہنچاتا رہا۔یہاں تک کہ آلِ یاسرمظلومیت کا استعارہ ہوگئے اور یہاں تک کہ ابوجہل نے زندہ سیدہ سمیہؓ کی ایک ٹانگ ایک اونٹ سے اور دوسری ٹانگ دوسرے اونٹ سے باندھ کے دونوں اونٹوں کومخالف سمت میں دوڑا دیا،دیکھتے ہی دیکھتے جس سے سیدہ کا زندہ اور نازک بدن تڑپ تڑپ کے دو ٹکڑوں میں بٹ گیا اورآپ اسلام کی پہلی شہید کہلائیں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ تب مسلمان موجود تھے اور اللہ کے رسول بھی موجود تھے ، ان میں غیرت بھی تھی اور ان میں حمیت بھی تھی ، انھیں جان کی اتنی پروا بھی نہ تھی اوروہ بے باک اور نڈر اسلام کے سپاہی بھی تھے ، مگر وہ یہ ساری اذیت اور یہ سارے دکھ دیکھتے رہے اور جھیلتے رہے اور وہ چپ رہے اوروہ خاموش رہے ۔ وہ صبر کرتے رہے اوروہ اللہ کے اذن کا انتظار کرتے رہے۔اگرچہ بدلہ نہ بھی لے سکتے تو کم ازکم جان ضرور لڑا سکتے تھے ،وہ ظلم کے خلاف لڑ کے شہادت پا سکتے تھے۔ انھیں مگر ا بھی جہاد کا حکم نہ تھااور انھیں مگر اسلام کو انتقام، ردِ عمل طاقت اور لڑائی بھڑائی کا نہیں دلیل کا دین ثابت کرناتھا، اس لئے وہ ظلم سہتے رہے اورچپ رہے۔

بالآخر اذیت اور صبر کے دن تمام ہوئے اورپہلے ہجرت اور پھر جہاد کی اجازت مل گئی۔اجازت آئی توجہاد کیا گیااور جوانمردی دکھائی گئی ، تین سو تیرہ ہزاروں کے مقابل ، پیٹ پر پتھر باندھ کے عیاشوں کے مقابل ، نہتے اسلحہ کے انباروں کے مقابل ، کمزور طاقت کے پہاڑوں کے مقابل اور کھجور کی پکی فصل چھوڑ کے سرحد کے اس پا ررہنے والوں کے مقابل نکلتے رہے۔ اب بذریعہ جہادبتا دیاگیاکہ ہم جو چپ تھے تو یہ نہیں کہ زباںنہ تھی ، جو ہاتھ اٹھتے نہ تھے تو یہ نہ تھاکہ جذبۂ جہاد یا شوقِ شہادت نہ تھا ۔ ہاں مگر حکمت اور حکم الٰہی کا پاس تھا۔ یہ جہادجنگ نہ تھی، ایک سائنس تھی، یہ اسلامی تلوار کی نماز تھی اوریہ دنیاوی جنگ کا روزہ تھا، اس میں خشوع و خضوع بھی تھا، اس میں رقت بھی تھی، اس میں انسانیت بھی تھی اور اس میں حیرت انگیز ضابطے بھی تھے۔اس میں لڑنا بھی تھا اور اس میں صبر کرنا بھی تھا، اس میں وار کرنا بھی تھا اور اس میں ہاتھ روک رکھنا بھی تھا۔ یہ اندھے شعور اور اشتعال انگیز سفاکی کے ہاتھ چڑھی جنگ نہ تھی ،یہ شعور اور فکر کے ہاتھ میں تھمی ایک سائنٹیفک اورمہربان تلوار تھی ۔ یہ جھوٹ در جھوٹ اور پروپیگنڈے کی ڈریکولائی پیاس نہ تھی ، یہ نیلے آسمان پر سجی امنِ انسانیت کی ست رنگی آس تھی۔ اس میں قتال تو تھا پر اشتعال نہ تھا۔اس میںسفاک جارحیت نہ تھی اس میں دفاع تھا۔دفاع! کبھی اپنا ، کبھی اپنی سرحد کا، کبھی اپنے موقف کا اور کبھی اپنے مفاد کا ، کبھی ظلم و جبر کے نظام میں جکڑے خدا کے بندے اور خدا کے انسان کا۔(جاری ہے)

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com