انتخابی حلقہ بندیاں؛ ماضی، حال، مستقبل - فیاض راجہ

آج کا پاکستان 1971ء تک مغربی پاکستان کہلاتا تھا۔ ون پرسن ون ووٹ کے اصول کے تحت ملک کے پہلے عام انتخابات 1970ء میں ہوئے تو مغربی پاکستان میں رجسڑڈ ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 57 لاکھ 30 ہزار 280 اور قومی اسمبلی کی عمومی نشستوں کی تعداد 138 تھی۔ جس میں پنجاب کی 82، سندھ کی 27، خیبر پختونخواہ کی 25 جبکہ بلوچستان کی 4 نشستیں تھیں۔ فاٹا ریجن کی 7 نشستیں، خیبر پختونخواہ کی 25 نشستوں میں شامل تھیں جبکہ اسلام آباد کی ایک نشست، پنجاب کی 82 نشستوں میں شامل تھی۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 86 ہزار 451 تھی۔

1977ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 2 کروڑ 98 لاکھ 83 ہزار 212 اور قومی اسمبلی کی عمومی نشستوں کی تعداد 200 تھی۔ جس میں پنجاب کی 116، سندھ کی 43، خیبر پختونخواہ کی 34 جبکہ بلوچستان کی 7 نشستیں تھیں۔ قومی اسمبلی کی ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 49 ہزار 416 تھی۔

1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 3 کروڑ 25 لاکھ 89 ہزار 996 جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 207 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 57 ہزار 439 تھی۔

1988ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 4 کروڑ 61 لاکھ 94 ہزار 417 جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 207 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 23 ہزار 161 تھی۔

1990ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 4 کروڑ 70 لاکھ 65 ہزار 330 جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 207 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 27 ہزار 368 تھی۔

1993ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 207 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹڑز کی تعداد 2 لاکھ 65 ہزار 700 تھی۔

1997ءکے عام انتخابات میں رجسڑڈ ووٹوں کی کل تعداد 5 کروڑ 50 لاکھ 68 ہزار 24 جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 207 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 66 ہزار 29 تھی۔

2002ء کے عام انتخابات میں 1998ء کی مردم شماری کی روشنی میں قومی اسمبلی کی عمومی (براہ راست انتخاب) نشستوں کی تعداد 207 سے بڑھا کر 272 کر دی گئی جبکہ مذکورہ عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 7 کروڑ 13 لاکھ 58 ہزار 40 تھی۔ قومی اسمبلی کی 272 عمومی نشستوں میں سے پنجاب کی 148، سندھ کی 61، خیبر پختونخواہ کی 35، بلوچستان کی 14، فاٹا کی 12 جبکہ اسلام آباد کی 2 نشستیں تھیں۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 62 ہزار 345 تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   ٹیکس دیجیے لیکن ٹھہریے، پہلے رشوت دیجیے - آصف محمود

2008ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 7 کروڑ 99 لاکھ، 28 ہزار 55 جبکہ قومی اسمبلی کی عمومی نشستوں کی تعداد 272 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 93 ہزار 853 تھی۔

2013ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 8 کروڑ 61 لاکھ 89 ہزار 802 جبکہ قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد 272 تھی۔ ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 16 ہزار 874 تھی۔

2017ء کی مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 نفوس پر مشتمل ہے۔ جون 2017ء تک ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 9 کروڑ 70 لاکھ 21 ہزار 340 ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں آئندہ ہونے والے 2018ء کے عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 10 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر آئندہ انتخابات سے قبل قومی اسمبلی کی عمومی نشستوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو قومی اسمبلی کی ایک نشست میں اوسط رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 3 لاکھ 67 ہزار 647 تک جا پہنچے گی۔

1998ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی 13 کروڑ 23 لاکھ 52 ہزار 279 تھی۔ 2002ء کے عام انتخابات میں 1998ء کی مردم شماری کی روشنی میں قومی اسمبلی میں عمومی نشستوں کی تعداد کو 207 سے بڑھا کر 272 کر دیا گیا تھا۔ یوں 2002ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کے ایک حلقے کی اوسط آبادی 4 لاکھ 86 ہزار 589 تھی۔ اگر آئندہ عام انتخابات سے قبل قومی اسمبلی کے حلقوں میں اضافہ نہ کیاگیا تو 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی قومی اسمبلی کے ایک حلقے کی اوسط آبادی 7 لاکھ 63 ہزار 876 ہوجائے گی۔

اگر 2002ء کے الیکشن آرڈر میں وضع کیے گئے فارمولے پر نظر ڈالی جائے تو 1998ء کی مردم شماری کے مطابق پنجاب کی آبادی 7 کروڑ 36 لاکھ 21 ہزار 290 تھی، اور کل آبادی میں پنجاب کا حصہ 55.62 تھا۔ سندھ کی آبادی 3 کروڑ 4 لاکھ 39 ہزار 893 جبکہ کل آبادی میں حصہ 22.99 فیصد تھا۔ خیبر پختونخواہ کی آبادی 1 کروڑ 77 لاکھ 43 ہزار 645 جبکہ کل آبادی میں حصہ 13.40 فیصد تھا۔ بلوچستان کی آبادی 65 لاکھ 65 ہزار 835 جبکہ کل آبادی میں حصہ 4.96 فیصد تھا۔ فاٹا کی آبادی 31 لاکھ 76 ہزار 331 جبکہ کل آبادی میں حصہ 2.39 فیصد تھا۔ اسلام آباد کی آبادی 8 لاکھ 5 ہزار 235 جبکہ کل آبادی میں حصہ 0.60 فیصد تھا۔

2002ء میں چاروں صوبوں، فاٹا اور اسلام آباد کے درمیان قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کی تقسیم کی گئی تو پنجاب کو 54.41 فیصد (148 نشستیں)، سندھ کو 22.42 فیصد (61 نشستیں)، خیبر پختونخوا کو 12.86 فیصد (35 نشستیں)، بلوچستان کو 5.14 فیصد (14 نشستیں)، فاٹا کو 4.41 فیصد (12 نشستیں) جبکہ اسلام آباد کو 0.73 فیصد (2 نشستیں) حصہ ملا۔

یہ بھی پڑھیں:   جنوبی ایشیا کا پہلا انسداد تشدد مرکز - رانا اعجازحسین چوہان

اعداد و شمار سے واضح ہے کہ باہمی اعتماد سازی پر عمل کرتے ہوئے پنجاب، سندھ اور خیبر پختنونخواہ کے حصے میں کچھ کمی کرتے ہوئے بلوچستان، اسلام آباد اور فاٹا کو اپنے حصے سے بڑھ کر دیا گیا۔

2002ء کی حلقہ بندیوں کے فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر فی حلقہ 4 لاکھ، 86 ہزار 589 افراد کی آبادی کو فارمولا مانا جائے تو 2017ء کی مردم شماری میں سامنے آنے والی کل آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 520 افراد کے نتیجے میں، ملک میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات 2018ء میں قومی اسمبلی کے انتخابی حلقوں کی کل تعداد 272 سے بڑھ کر 427 تک پہنچ سکتی ہے۔

2017ء کی مردم شماری کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی 11 کروڑ 12 لاکھ 442 (52.94 فیصد) ، سندھ کی آبادی 4 کروڑ 78 لاکھ (23.04 فیصد) ، خیبر پختونخوا کی آبادی 3 کروڑ 5 لاکھ 23 ہزار 371 (14.69 فیصد)، بلوچستان کی آبادی 1 کروڑ 23 لاکھ 44 ہزار 408 (5.94 فیصد)، فاٹا کی آبادی 50 لاکھ 1 ہزار 676 (2.40 فیصد) جبکہ اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ، 6 ہزار 572 ( 0.96 فیصد ) ہے۔

2002ء انتخابی ایکٹ کے تحت کی گئی حلقہ بندیوں کے فارمولے کو سامنے رکھا جائے تو 2018ء کی قومی اسمبلی کی متوقع 427 عمومی نشستوں میں سے پنجاب کے حصے میں 218 (51.05 فیصد)، سندھ کے حصے میں 99 (23.18 فیصد)، خیبر پختونخوا کے حصے میں 64 (14.98 فیصد )، بلوچستان کے حصے میں 26 (6.08 فیصد)، فاٹا کے حصے میں 17 (3.98 فیصد) جبکہ اسلام آباد کے حصے میں 3 (0.70 فیصد) عمومی نشستیں آسکتی ہیں۔

مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار کی روشنی میں اقلیتیوں کی نشستیں آئندہ عام انتخابات میں 10 سے بڑھ کر 13 ہوسکتی ہیں۔ 2002ء میں خواتین کے لیے قومی اسمبلی میں خصوصی فارمولے کے تحت 60 نشستیں رکھی گئی تھیں۔ حالیہ مردم شماری میں ملک میں خواتین کی تعداد میں معمولی کمی کے باعث مذکورہ نشستوں کی یہی تعداد برقرار رہ سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست کی روشنی میں اگر آئین میں تبدیلی کرتے ہوئے مردم شماری کے عبوری اعدادوشمار کو حلقہ بندیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی تو 2018ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں ملک میں قائم ہونے والی آئندہ قومی اسمبلی کل 500 نشستوں پر مشتمل ہو سکتی ہے جس میں 427 عمومی (براہ راست انتخاب والی)،13 اقلیتی جبکہ 60 خواتین کی مخصوص نشستیں ہوں گی۔