ادریس آزاد سے چند گزارشات - داؤد ظفر ندیم

ادریس آزاد فیس بک پر ان لوگوں میں سے ہیں جن کی تحریروں کا میں بہت مداح ہوں، وہ بہت پچیدہ موضوعات کو بہت آسان فہم انداز سے پیش کرتے ہیں، ان کی منطق اور انداز اتنا سادہ ہوتا ہے کہ فلسفے اور سائنس کی بہت سی مشکل باتیں آسان ہو جاتی ہیں، ان کی شاعری بھی کمال کی ہوتی ہے۔ ان کے خیالات سے بھی اکثر اوقات اتفاق ہوتا ہے۔ وہ سائنس کے امکانات کو جس طریقے سے پیش کرتے ہیں، وہ بھی دلچسپ ہوتا ہے، بیشتر اوقات بہت سے ماہرین ان امکانات کو مسترد کرتے ہیں مگر مجھے تو یہ امکانات بہت ممکن لگتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ وہ اردو زبان میں لکھنے والے بہترین اذہان میں سے ایک ہیں۔

ان کی طرف سے کسی دوسرے اہل علم سے اختلاف ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہمیشہ متوقع ہوتا ہے، اور اکثر اوقات وہ جن باتوں پر دوسرے اہل علم سے اختلاف کرتے ہیں، میں ان کے نکات سے اتفاق کرتا ہوں، اس لیے میری ان کی عقیدت کا رشتہ اور گہرا اور مضبوط ہوجاتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وہ نوجوانوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں، وہ اپنے ماضی کے بارے میں جو کچھ بھی کہیں، مگر ہم لوگ انھیں سائنس و فلسفہ کے ایک بہترین استاد اور شارح کی حیثیث سے جانتے ہیں ۔

مگر مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی اہل علم سے اختلاف کرتے ہوئے اچانک جذباتی ہو جاتے ہیں۔ بیشتر اوقات جب ان کے اختلاف سے گہرا اتفاق ہوتا ہے، اور امید ہوتی ہے کہ وہ مخالف کو ایک مدلل جواب دیں گے، ان کی طرف سے ایسا جذباتی رویہ سامنے آتا ہے کہ بندہ دنگ رہ جاتا ہے۔ پاکستانی لوگوں کو جس رویے کی ضرورت ہے، وہ علمی اور فکری بنیادوں پر دوسروں کو جواب دینے کا ہے، اور اس معاملے میں ادریس آزاد ایک مستند حیثیث رکھتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اب صرف یہ ادریس آزاد کا معاملہ نہیں ہے، ان کے حلقے کے بہت سے لوگ ان کی طرف دیکھتے ہیں اور ان سے راہنمائی چاہتے ہیں۔ آپ کا مذہب سے مضبوط رشتہ ہی آپ کو ملحد اور متشکک اہل علم سے الگ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گالی بہترین دلیل ہے - ابو الحسین آزاد

جب ہم کسی ملحد یا متشکک اہل علم سے مکالمے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں پہلے سے اندازہ ہونا چاہیے کہ وہ کوئی اہل ایمان نہیں، جس سے ہم کسی مذہبی اور ایمانی رویے کی توقع رکھیں، بلکہ وہ ایک فلسفے کا ایک استاد یا شارح ہے جو مذہب کی روشنی میں علم کو نہیں دیکھتا۔ کوشش یہ کرنا چاہیے کہ اس سے مذہبی بات نہ کی جائے، اگر وہ ہمیں جذبات یا مذہبی حوالے سے محصور کرنے کی کوشش کرے تو اس کا یہ گھیرا علمی دلیل سے توڑا جائے۔

میرے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت ایک مسلمہ معیار ہے اور میں علامہ اقبال کو اس دور کے بڑے اہل علم میں سےایک سمجھتا ہوں۔ مجھے علامہ اقبال کی ان تشریحات سے بھی اتفاق ہے جو انھوں نے مغرب کے فلسفیوں بارے کی ہیں۔ مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے شارح اور اہل علم میری طرح نہیں سوچتے۔ وہ نبوت کے معاملے میں تشکیک کا شکار ہیں یا نعوذباللہ منکر ہیں۔ علامہ اقبال سے وہ خاص کینہ رکھتے ہیں، اس لیے میں ان سے ان موضوعات پر الجھنے کے بجائے ان کو نظرانداز کرنا مناسب سمجھتا ہوں، مگر میں یہ توقع رکھتا ہوں کہ کوئی دوسرا اہل علم ان کو ان باتوں کا علمی جواب دے سکتا ہے اور ادریس آزاد ان میں سے بہترین شخص ہیں۔

میں پرویز ہود بھائی، مبارک حیدر اور عمران بھنڈر جیسے اہل علم سے اختلاف رکھنے کے باوجود ان کا احترام کرتا ہوں، اور جب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی خاص معاملے میں پٹڑی سے اتر رہے ہیں، تو ان کو نظرانداز کرتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ان سے مکالمہ ان کی کسی علمی رائے کی روشنی میں ہونا چاہیے نہ کہ ان کے کسی ایسے بیان یا تحریر کو نشانہ بنایا جائے جو ہمارے عقیدے اور ہمارے خیال سے متصادم ہو۔ حتی کہ ابوبکر جیسے فاضل نوجوان سے بھی ان حوالوں سے گہرا اختلاف ہے، مگر ان اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان لوگوں سے مکالمے اور علمی اور فکری سطح پر بات کرنے کے بجائے ان سے عقیدے اور مذہب کی جنگ لڑنا شروع ہو جائیں۔ ہمارے مخالف پہلے ہی اس بات پر اپنا بیانیہ تیار کیے ہیں کہ ہم لوگوں کے پاس ان کے مقابلے میں کوئی علمی دلیل نہیں ہوتی بلکہ ایک سطحی جذباتیت کے سوا کچھ نہیں اور ہم دوسروں کو اشتعال دلا کر ان کو نیچا دکھانے اور لاجواب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   گالی بہترین دلیل ہے - ابو الحسین آزاد

میں ان لوگوں میں سے تھا جسے خوشی تھی کہ ادریس آزاد صاحب نے عمران شاہد بھنڈر کی علمی موشگافیوں کا جواب دینے کی ٹھانی ہے، اور میرے نزدیک یہ ایک زبردست بات تھی۔ ادریس آزاد کو عمران شاہد بھنڈر کے رویوں اور خیالات کا پتہ ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس تمام واقعہ کا جس طرح اختتام ہوا ہے، وہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ عمران شاہد بھنڈر نے حسب سابق ادریس آزاد صاحب کو اشتعال دلانے کی کوشش کی، اور اس میں کامیاب رہے۔

مجھے عمران شاہد بھنڈر سے کوئی گلہ نہیں کہ وہ ایک مخصوص ذہنیت کے شخص ہیں، ان سے بات کرتے ہوئے اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے مگر مجھے ادریس آزاد سے گلہ ہے کہ وہ ہمارے علمی نمائندے ہیں، یہ سطحی جذباتیت کا کام اپنے کسی بچونگڑے کے سپرد کریں۔ ان کو اہل علم کے مقابلے میں ایک اہل علم کی طرح بات کرنا چاہیے۔ انھوں نے جب مبارک حیدر، پرویز ہود بھائی اور ابوبکر کے خلاف بھی علمی سطح کے بجائے جذباتی سطح پر بات کی تھی، تو میں نے ان باتوں پر بڑے مہذب انداز سے ادریس بھائی سے اختلاف کیا تھا، اور آج بھی یہی کہتا ہوں کہ یا اپنے مخالفین کو علمی دلیل سے جواب دیا جائے یا خاموشی اختیار کی جائے۔ مجھے توقع ہے کہ ادریس بھائی میری گزارشات کو مثبت انداز میں لیں گے۔

Comments

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم

دائود ظفر ندیم تاریخ، عالمی اور مقامی سیاست، صوفی فکر اور دیسی حکمت میں دلچسپی رکھتے ہیں، سیاسیات اور اسلامیات میں ماسٹر کیا ہے۔ دلیل کے لیے باقاعدہ لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.