کچا گوشت - عامر اشفاق

وہ تینوں صومالیہ کے ایک دور دراز میدانی لیکن بنجر اور ویران علاقے میں سے گزر رہے تھے۔ ایک ادھیڑ عمر ماں آسیہ اور دو بیٹے ایک نصراللہ 14 سال کا اور آبان 9 مہینے کا۔ تینوں کے ہونٹوں کی پنکھڑیاں پیاس کی وجہ سے کھردری زمین کی طرح ہوگئی تھیں۔ آج دوسرا دن تھا ان کو بغیر پانی کے، اور خوراک تو شاید چار پانچ دن پہلے ہی ختم ہوگئی تھی۔ آسیہ خود پیاس محسوس کرتی تو اس کو اپنے دونوں بیٹوں کی یاد آجاتی اور وہ پانی کا نام بھی نہیں لیتی تھی۔

نصراللہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے نڈھال تھا۔ وہ چلتے چلتے گر جاتا پھر آسیہ اسے اٹھاتی کہ بس یہ میدان پار کر لیں پھر خوراک ملے گی، پانی کے چشمے ہوں گے۔ سب سے زیادہ بری حالت تو آبان کی تھی اس نے پیاس اور بھوک کی وجہ سے آسمان سر پر اٹھایا ہوا تھا۔ آسیہ اسے غم کی وجہ سے سینے سے لگاتی۔ پر وہاں کیا ملتا؟ بھوک کی وجہ سے آبان کا چشمہ بند ہوگیا تھا۔ اب تو ہر کچھ دیر بعد آبان کے رونے کی ہلکی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ وہ بھی ادھ مری سی ۔

وہ رات ہونے پر ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آسیہ نے تھک ہار کر آبان کو نصراللہ کے حوالے کرنا چاہا مگر وہ ایک جگہ اوندھے منہ پڑا تھا۔ آسیہ کی ڈر کے مارے چیخ نکلی مگر وہ اتنی ہلکی تھی کہ خود بھی اسے نہ سن سکی۔ اس نے نصر اللہ کو سیدھا کیا اور پکارنے لگی، کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو پہلا سوال یہی کیا پانی پانی!

"بیٹا! بس ایک دن صبر کر لے، کل تک ہم اس میدان کو پار کر لیں گے۔ پھر پانی بھی بہت ہوگا اور روٹی بھی بہت ملے گی۔ " ماں تڑپتے ہوئے بولی۔

کچھ دیر بعد تینوں ریت پر پڑے تھے۔ سب کے ہونٹوں کی پپڑیاں جمی ہوئی تھیں۔ آبان کا رونا کب کا بند ہوچکا تھا۔ درحقیقت پیاس اور بھوک کی وجہ سے اس کی آواز ہی بند ہوگئی تھی۔ اس کے سینے کے زیر و بم سے پتا چل رہا تھا کہ وہ زندہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیصلہ - نصرت یوسف

آسیہ اپنے پرانے دن یاد کرنے لگی۔ ان کا گاؤں کسی زمانے میں سر سبز و شاداب ہوتا تھا۔ ہر تیسرے چوتھے ہفتے بارش ہوتی تھی۔ آسیہ اور اس کا شوہر کھیتوں میں کام کرتے تھے۔ اس کے بدلے ان کو کھانے پینے کا سامان مل جاتا تھا۔ غریب کو اور کیا چاہیے؟ پیٹ بھر کر کھانا یا کپڑے۔ زندگی سہل گزر رہی تھی پر اچانک بارشوں کا زور ٹوٹنے لگا۔ ہر ماہ برسنے والی بارش کا وقفہ لمبا ہوتا گیا۔ پھر فصلیں سوکھ گئیں، مویشی مرنے لگے۔ جب سال ڈیڑھ تک بارش نے منہ نہیں دکھایا تو آسیہ کا شوہر گاؤں سے باہر شہر کی طرف نکل گیا تاکہ شہر سے کچھ خوراک اور سامان کما کر لا سکے مگر وہ ابھی تک واپس نہیں پہنچا تھا۔ لیکن کئی مہینے ہوچکے اسے لاپتہ ہوئے۔ گاؤں کے لوگ آہستہ آہستہ نقل مکانی کر کے جاچکے تھے۔ آخری چند ایک گھر بچے تھے جو اب جانے والے تھے۔ آسیہ بھی اپنے شوہر کا انتظار کب تک کرتی؟ دو، تین بھیڑ بکریوں کو اونے پونے داموں بیچ کر خوراک حاصل کی اور گاؤں کے آخری جوہڑ سے کیچڑ ملا پانی بھر کر نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اس کے پاس بار برداری کے لیے کوئی جانور بھی نہیں تھا، اس لیے آہستہ آہستہ قافلے والوں سے پیچھے ہوتی گئی۔ ایک دو بار اسے تیز چلنے کو کہا گیا مگر یہ کس طرح اپنے دو بچوں کے ساتھ تیز چلتی؟ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا ، وہ سب سے بچھڑ کر پیچھے رہ گئی۔ خوراک تیزی سے کم ہونے لگی اور پھر خوراک ختم ہوئے تیسرا دن ہو رہا تھا جب پانی کی آخری بوند اس نے آبان کے منہ میں ڈالی۔

وہ تین دن سے اس بنجر ویرانے میں گونج رہے تھے۔ نیند تو کسی کو بھی نہیں آئی، بس ہلکی ہلکی غنودگی طاری تھی سب پر۔ صبح سب سے پہلے آسیہ نے آنکھ کھولی۔ اس نے نصراللہ اور آبان کی طرف دیکھا، دونوں سو رہے تھے۔ اچانک اس کے دل میں ایک بھیانک خیال آیا، وہ جلدی سے آبان کی طرف لپکی۔ وہی ہوا جس کا خوف تھا، موت اس سے پہلے آبان تک پہنچ چکی تھی۔ اس نے رونے اور چلانے کی کوشش کی، آنسو تو نہ آئے لیکن حلق سے بے ہنگم آوازیں نکلنا شروع ہوگئیں۔ اس نے جلدی سے نصراللہ کو جھنجھوڑ کر اٹھایا۔ وہ اٹھا اور بے تاثر آنکھوں سے اپنے بھائی کی لاش کو گھورتا رہا۔ حالات نے اسے وقت سے کہیں پہلے جوان کر دیا تھا مگر اس کی آنکھوں میں ذہانت کی بجائے ایک گھونٹ پانی کی طلب صاف نظر آرہی تھی۔ گلا چیخ چیخ کر کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ اس کی ماں اسے یوں خاموش دیکھ کر حیران رہ گئی۔ "ارے میرے لال! تو ٹھیک تو ہے نا؟ " لیکن نصراللہ نجانے کیا ہذیان بک رہا ہے تھا؟ وہ پریشان ہوگئی اور کچھ دیر بعد غنودگی میں چلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:   دعوت کے رد و قبول کے نتائج: موت اور برزخ - ابو یحیی

بھوک نے سب کے ہوش اڑا دیے تھے۔ اس وقت اگر اسے دنیا کا غلیظ ترین جانور سور بھی مل جاتا تو وہ شوق سے کھاتی۔ جب وہ دوبارہ اٹھی تو پیاس اور بھوک کی وجہ سے اسے چکر آ رہے تھے۔ وہ اٹھنے کی کوشش میں گر پڑی۔ نیم وا آنکھوں سے اس نے آبان کی لاش کی طرف دیکھا۔ نصر اللہ لاش پر جھکا ہوا تھا۔ وہ گھسٹتی ہوئی آہستہ آہستہ کر وہاں تک پہنچی۔ پہلے اسے خون کے چند قطرے نظر آئے اور آگے کا منظر دل دہلا دینے والا تھا۔


آج آبان کو مرے ہوئے پانچواں دن تھا۔ دو دن اس کے گوشت سے ملنے والی توانائی کی وجہ سے وہ بنجر میدان سے نکل آئے۔