خدا کی تلاش - عبدالباسط ذوالفقار

مئی یا جون کا مہینہ تھا۔ گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ سورج گویا آگ برسا رہا تھا۔ ہر سمت گرم ہواؤں کے تھپیڑے استقبال کرتے ۔ تب عین دوپہر کے وقت جب سورج سوا نیزے پر تھا، نینا چھاؤں ہی چھاؤں، خیالوں میں مگن گھر کی سمت جارہی تھی کہ اچانک کوئی چیز دھڑام گرنے اور پھڑپھڑانے کی آواز آئی۔ اس نے دھڑکتے دل کو سنبھالا اور سہمتے ہوئے پیچھے مڑ کے دیکھا تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ ایک بے زبان پرندہ گرمی کی شدت سے بے حال ہو کر گر پڑا تھا۔ شاید پیاس نے اس کی اڑان چھین لی تھی اور پھڑپھڑاہٹ بے چین کردینے والی تھی۔

یکایک اُس کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسے اٹھا کے گھر لے جاؤں؟ اس خیال کو جھٹکتے ہوئے اسے کا دھیان اس پانی بوتل کی طرف گیا جو صبح کالج آتے ہوئے والدہ نے دی تھی۔ جھٹ سے بوتل نکالی، جس میں چند گھونٹ پانی موجود تھا۔ اس نے پرندے کی چونچ میں کچھ بوندیں ٹپکائیں تو اس کو کچھ قرار آیا۔ کچھ دیر بعد حواس بحال ہوئے تو وہ اڑ کر قریبی درخت پر بیٹھ گیا۔ اس کی آوازوں سے لگتا تھا کہ دعائیں دے رہا ہے۔

اب وہ بوتل واپس بیگ میں رکھ کر گھر کی سمت چلنے لگی۔ گرمی کافی بڑھ چکی تھی لیکن اسے اپنے اندر عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ تب اس نے سوچا کیوں نا آئس کریم خرید لوں؟ چھوٹو خوش ہو جائے گا۔ وہ آئس کریم لینے کے لیے مڑی ہی تھی کہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک چھوٹی سی بچی نظر آئی جس نے کندھے پر ایک میلی سے بوری اٹھائی ہوئی تھی اور اسے گھور رہی تھی۔ نینا نے آئس کریم خریدی لیکن اس معصوم بچی کو تھما دی۔

ذرا دیر بعد ایک بڑھیا گھٹڑی اٹھانے کی کوشش کرتی دکھائی دی۔ وہ دھیرے سے بڑھیا کے پاس سے گزری اور انہیں دیکھ کر کہا "اماں! اتنی گرمی میں پیدل چل رہی ہیں؟ سر پر اتنا وزن بھی ہے، کسی رکشے میں چلی جاتیں ؟" اماں نے زخمی نگاہوں سے نینا کی طرف دیکھا اور بولیں"بیٹا! نظر اب صحیح کام نہیں کرتی، نہ ہی پاؤں میں اتنی سکت ہے مگر مجبوریاں وزن اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ آج تو جو کمائے نجانے کہاں گرا گئے ۔ اب نہ آنہ نہ چونی، گاڑی میں جانے کا سوچوں تو کیسے؟ سو پیدل ہی چل پڑی۔ سانس لینے چھاؤں میں رکی تھی۔ بس کچی بستی تک ہی تو جانا ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   محاسبہ اور علاج - لطیف النساء

نینا نے گھر کی طرف روانہ ہونے لگی اور نکلتے ہی کچھ پیسے اپنے بٹوے سے گرا دیے، پھر خود اٹھائے اور اماں کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی "اماں! یہ لیں شاید آپ ہی کے گرے ہوئے پیسے ہیں۔" اماں نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہ پیسے اپنی مٹھی میں تھامے اور آگے بڑھنے ہی والی تھیں کہ اس نے روکتے ہوئے کہا "اماں! رکیں پانی بھی پی لیں۔" اب بزرگوں کی دعائیں بھی نینا کے ساتھ تھیں۔

پر سکون احساس کے ساتھ قدم اٹھاتی نینا کا دل اب محبت، سرشاری اور سکون سے لبریز تھا۔ اسے مس عینی کی وہ باتیں یاد آنے لگیں کہ بڑے بڑے کاموں کا انتظار نہ کیا کرو کہ اتنے پیسے آئیں گے تو فلاں خیراتی ادارے میں دیں گے، یتامیٰ و فقراء کی مدد کریں گے، بیوہ کی بیچارگی کا ازالہ کریں گے، بلکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کر گزرا کرو۔ اللہ تعالیٰ کو ہم بڑی بڑی عبادتوں، خدمتوں میں تلاش کرتے ہیں۔ مسجدوں، مندروں، کلیساؤں میں تلاش کرتے ہیں۔ اس ذات تک پہنچنے کے لیے خیراتی ادارے، دارالامان، یتیم خانے قائم کرتے ہیں جبکہ وہ چھوٹے سے بہانے کا انتظار کرتا ہے کہ کب میرا بندہ مجھے پا لے۔ وہ انسان کو ایک گلاس پانی، چند لقمے روٹی، گرمی میں سائے، منجمد کر دینے والی سردی میں ایک رضائی کے عوض بھی مل سکتا ہے۔ جس خوشی، راحت، سکون اور کرم کو ہم بڑے کاموں میں تلاش کرتے ہیں، وہ سکون، خوشی اور کرم اللہ کے بندوں کی چھوٹی چھوٹی امیدوں، حسرتوں میں رہتے ہیں۔ یاد رکھو! خدا تک پہنچنے کے راستے کمزور و ناتواں، مظلوم و بے بس لوگوں کے دلوں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ جب تک ان کا دل ہمارے لیے نہیں کھلتا اس وقت تک نہ تو ہم خوشی کو پا سکتے ہیں، نہ سکون، راحت اور کرم کو، اور نہ ہی خدا کی تلاش کامیاب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   محاسبہ اور علاج - لطیف النساء

اسے مغربی سائنسدان سگمنڈ فرائیڈ کا قصہ یاد آنے لگا، جب اس کے پاس ایک امیر ترین شخص آیا اور کہا کہ "میرے پاس دنیا کی تمام نعمتیں، سہولیات، آرائش و زیبائش کا سامان موجود ہے مگر مجھے پھر بھی نہ میرے دل کو قرار ہے نہ سکون۔" فرائیڈ نے کہا "تم روزانہ سو روپے کے پھول خرید کر بڑوں، بچوں، بوڑھوں اور غریبوں کے بچوں میں تقسیم کر دیا کرو۔" اس شخص نے ایسا ہی کیا کچھ دن بعد وہ اسے دلی خوشی کا احساس ہوا۔

نینا بھی جب کبھی مایوس سی ہوتی تو تعلق مع اللہ کے ساتھ ساتھ کالج سے واپسی پر ٹافیوں کے دو چار پیکٹ، چھوٹے کھلونے، غبارے، گیند وغیرہ خرید کر کچی بستی کی طرف چلی جاتی۔ جب غریب بچوں میں تقسیم کے بعد گھر کی طرف روانہ ہوتی تو اس کا دل خوشی سے سرشار، چہرہ پرسکون و مطمئن ہوتا۔

وہ سوچتی تھی واقعی کسی نے ٹھیک کہا تھا کہ "بڑی نیکیوں کے راستے لمبے اور چھوٹی نیکیوں کی مسافتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے چھوٹی چھوٹی نیکیوں سے ابتداء کرو، خدا مل جائے گا۔"

Comments

عبدالباسط ذوالفقار

عبدالباسط ذوالفقار

عبد الباسط ذوالفقار ضلع مانسہرہ کے رہائشی ہیں۔ سماجی موضوعات پر لکھی گئی ان کی تحاریر مختلف اخبارات، رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.