تجارت سیرت کی روشنی میں - عبید الرحمٰن معاویہ

اسلام صرف مسجدکی چار دیواری میں محصور مذہب کا نام نہیں ہے، وہ رہبانیت کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ معاشرت کے تمام امور میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔اگر کوئی شخص نیک اور صالح بننا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے ان سنتوں پر عمل کرے جن پر معاشرہ یا خاندان مزاحمت نہیں کرتا۔ جیسے کھانے، پینے کی سنتیں، سونے جاگنے کی سنتیں۔ ان سنتوں سے نور پیدا ہو گا اور اسی نور سے روح کو تقویت ملے گی اور پھر دوسری سنتوں پر عمل کرنا آسان ہو جائے گا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عمل سے، کردار سے، زبان حال اور زبان قال سے زندگی کے ہر شعبے کے متعلق تعلیم دیتے رہتے تھے۔ گویا کہ دین اسلام میں ہر شعبے، ہر طبقے کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ شرط طلبِ صادق ہے۔ کوئی شہری دیہاتی، مسافر ومقیم، تندرست و مریض، میاں بیوی، بیٹا بیٹی، ماں باپ، مزدور و مضارب، تاجر یا صنعتکار ہو اور یہ چاہے کہ دین کے زریں ابواب کی روشنی میں اپنا کام کریں تو اس کو مایوسی کا سامنا نہیں ہو گا۔ جناب رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم نے ہر لحاظ سے بہترین و کامل نمونہ پیش کیا۔

تجارت کو صرف دنیا داری کا کام سمجھا جاتا ہے لیکن اگر تجارت میں سنت کی نیت کی جائے کہ اس سے حلال رزق تلاش کرے گا اور اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرے گا تو تجارت کا سارا کام اجر و ثواب کا ذریعہ بن جائے گا۔ بس اس کا لحاظ رکھا جائے کہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کرتا ہو۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نقل کی ہے۔ فرماتے ہیں التاجر الصدوق الامین مع النبیین و الصدیقین و الشهداء یوم القیامۃ یعنی سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے روز انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا (ترمذی شریف)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود تجارت کا پیشہ اپنایا اور رزق حلال کی تلاش کا حکم پورا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو میراث میں صرف چند بکریاں، چند اونٹ اور باندی ملی تھی، جسے بعد میں آزاد کر دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتدائی کفالت دادا عبد المطلب نے کی، پھر ان کی وفات کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کفالت کی ذمہ داری چچا ابو طالب نے سنبھال لی، جو خود بھی تجارت کرتے تھے۔ یہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تجارت کی سدھ بدھ سیکھی۔ تجارت کی غرض سے دوسرے شہروں کا رخ کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ساتھ لے جاتے۔ مکہ مکرمہ میں معاش کے دو ہی طریقے عام تھے۔ گلہ بانی اور تجارت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع میں اجرت پر بکریاں چَراتے تھے پھر تجارت کو اپنا پیشہ بنا لیا۔

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بارہ برس تھی تو آپ نے تجارت کی غرض سے پہلا سفر کیا۔ یہ ملک شام کا سفر تھا۔ لیکن مقام تیما پر ایک یہودی راہب جو بحیرا راہب کے نام سے جانے جاتے تھے اور تورات کے عالم تھے۔ ان کے کہنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واپس بھیج دیا۔

دوسرا سفر بھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملک شام کا ہی کیاجس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا مال تجارت لے کرگئے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی مال دار خاتون تھیں۔ اس کے ساتھ وہ تجربہ کار اور عقل مند بھی بہت تھیں۔ اور اس کے علاوہ نیک سیرت بھی تھیں۔ وہ جن کو ہوشیار گردانتی اپنا مال تجارت ان کے سپرد کرتی تھیں کہ فلاں جگہ جاؤ اور جا کر فروخت کر آؤ اس قدر اجرت دی جائے گی۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم اگر چہ اس وقت تک نبوت کا ظہور نہیں ہوا تھا لیکن آپ کی امانت و دیانت کا چرچا ہر جانب ہی تھا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے برگزیدہ اور پاک اخلاق ہی تھے کہ آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور تھے۔ یہ اوصاف کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ آپ میرا سامان تجارت شام لے جائیں۔ ہم خدمت کے لیے ایک غلام آپ کے ساتھ کر دیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ کے ساتھ شام کا سفر کیا یہ سفر ١٦ ذی الحجہ کو شروع کیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقلمندی اور دیانت کے ساتھ سامان فروخت کیا جس کی وجہ سے منافع پہلے کی نسبت بہت زیادہ ہوا۔ خرید و فروخت کے دوران ایک شخص سے بات بڑھ گئی تو اس نے لات و عزىٰ کی قسم اٹھاؤ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نا صرف انکار فرمایا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ میں جب ان کے قریب سے گزرتا ہوں تو منہ پھیر لیتا ہوں۔ اس شخص نے کہا کہ حق اور سچ بات یہی ہے جو تم نے کہی ہے۔ پھر میسرہ کی جانب متوجہ ہو کر کہنے لگا کہ خدا کی قسم یہ وہی نبی ہے، جس کی صفات، ہمارے علماء کتابوں میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔

اس تجارت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو دو گنا نفع ہوااور وہ میسرہ کی زبانی واقعات سن کر بہت متاثر ہوئیں اور نکاح کا پیغام بھیجا۔ آپ نے پچیس سال کی عمر میں یہ نکاح کیا۔ ایک اور بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا سامان لے کر سفر کیا۔ یہ سفر آپ نے یمن کی طرف کیا۔ امام حاکم رحمةاللہ المستدرک میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نےنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوجرش(یمن) کی طرف دو مرتبہ تجارت کے لیے روانہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سفر اونٹنیوں کے عوض کیا تھا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجارتی اسفار میں اپنے اخلاق کریمانہ، حسن معاملہ، راست بازی، صدق و دیانت کی وجہ سے بہت شہرت حاصل کی۔ پہلے ہی صادق اور امین کا لقب مشہور تھا، اب لوگ بے خوب وخطر، کھلے اعتماد سے، بے دھڑک ہو کر اپنی امانتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رکھواتے۔ تجارتی معاملات میں کامیابی کے لیے معاملات کی صفائی اور لڑائی جھگڑے سے پرہیز اہم ترین کردار ادا کرتا ہے۔ یہ تمام صفات نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ چناچہ حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم شرکاء میں سے بہترین شریک تھے۔ نہ لڑائی کرتے تھے، نہ جھگڑا ۔ ابن سعد رحمةاللہ خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں رقم دراز ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب عالم شباب میں قدم رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت اور مروّت کے اعتبار سے اپنی قوم میں سب سے زیادہ ممتاز، اخلاق میں سب سے اعلیٰ، میل جول میں سب سے زیادہ فرحت بخش، ہمسائیگی میں سب سے زیادہ کریم اور خوش گوار، حلم و تحمل کا پیکر گفتگو میں صادق اور راست گو۔ فحش گوئی اور ایذا رسانی میں کوسوں دور بھاگنے والے، بردباری میں بے مثال، توضع اور انکساری کے علاوہ منکسر المزاجی میں بھی باکمال، ہر ایک سے ہم درد اقر بہی خواہ، وعدہ کے پکے اور انتہا درجے کے امانت دار۔ گویا کہ خدا وند قدوس نے ان کی ذات میں صفات کے تمام امور صالح اور آخلاقی فاضلہ مرتکز کر دیے تھے۔ اس بنا پر آپ کو الامین کا لقب عنایت کیا گیا تھا۔ (طبقات ابن سعد) (پیغمبر اسلام اور تجارت)

ایک با اخلاق تاجر میں ایفائے عہد کا وصف بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو شور شرابے اور بحث و تکرار سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمانہ جاہلیت میں میرے شریک تھے۔ کتنے بہترین شریک تھے کہ نہ شور شرابہ کرتے، نہ ہی بحث و تکرار اور نہ ہی جھگڑا ۔

اعلان نبوت سے قبل بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نہایت پاکیزہ اور معاملات نہایت کھرے اور تعلقات نہایت استوار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کا چرچا نہ صرف مکہ کے اردگرد بلکہ بیرونِ مکہ بھی بہت تھا کیونکہ پھول کی مہک صرف چمن تک ہی قید نہیں ہوتی۔ بلکہ وہ چمن کی حدیں عبور کرتے ہوئے باہر کے ماحول کوبھی معطر کرتی رہتی ہے اور دوسروں کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہے۔

عبد اللہ بن ابی الحمساد ایک معمولی انسان تھے۔ جناب سرکارِ دو عالم کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کوئی سودا ہو رہا تھا۔ دوران گفتگو کام یاد آگیا۔ وہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنے لگا کہ آپ میرا انتظار کر یں، میں ابھی آ کر بات کرتا ہوں۔ آپ کی زبان سے اچھا نکل گیا۔ عبداللہ بن ابی الحمساد تو بھول گئے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقام پر انتظار فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتظار کرتے کرتے دو دن گزر گئے۔ تیسرے روز عبد اللہ کو یاد آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مقام پر پایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل غصہ نہ فرمایا۔ دھیمی آواز میں صرف اتنا فرمایا کہ تو نے مجھے پریشان کیا، میں تیرا انتظار کرتا رہا۔(ابو داؤد)

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول سے تاجروں میں پائی جانے والی کئی بری خصلتوں کی مزاحمت بیان کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تاجروں کو رزق دیا جاتا ہے اور احتکار کرنے والا ملعون ہے۔ (مشکوٰۃ) یعنی شہر کے باہر سے غلہ وغیرہ لا کر فروخت کرے تو رزق دیا جاتا ہے اور اس کے رزق میں برکت بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے بر خلاف مخلوق خدا کی پریشانیوں اور غذائی قلت سے فائدہ اٹھا کر غلہ وغیرہ کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کرنے والا گناہگار ہے۔ وہ خیر و بھلائی سے دور رہتا ہے اور تب تک رہتا ہے جب تک اس لعنت میں مبتلا رہتا ہے۔

اشیاء خورد و نوش کی ناجائز ذخیرہ اندوزی کر کے علاقے کو قحط میں مبتلا کرنا شرعاً نا جائز ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلہ روک کر گراں نرخ پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتا ہے، اللہ تعالٰی اسے جذام و افلاس میں مبتلا کر دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ) یعنی جو شخص مخلوق خدا کو خاص طور پر مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالتا ہے تو اللہ تعالٰی اسے جسمانی و مالی بلاؤں میں مبتلا فرما دیتے ہیں۔ جو شخص انہیں نفع و فائدہ پہنچاتا ہے، اللہ تعالٰی اس کے جسم و مال میں برکت عطا فرما دیتے ہیں۔

تاجر اگر شریعت کی حدود و قیود میں رہ کر، حصول رزق حلال کی نیت کرتے ہوئے تجارت کرے تو اس کا کام اجر سے خالی نہیں ہے یعنی حصولِ رزق حلال عین عبادت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */