ڈینگی مچھر: وائرس، سازش یا غفلت؟ اعجاز سالار

اگر ڈینگی مچھر پنجاب جیسے ترقی یافتہ صوبہ پر حملہ کر سکتا ہے تو کوئی قباحت نہیں کہ وہ خیبر پختون خواہ پر بھی حملہ آور ہو لہٰذا اس معاملہ سیاست چمکانا گٹھیا سیاست کی مثال ہے۔

گزشتہ دنوں ڈینگی مچھر سے جتنے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں ان سب سے اور ان کی خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے مگر اس بیماری پھیلانے والے مچھر کے بارے میں معلومات لی جائیں تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ اس مہلک مچھر کا وجود ہی دراصل نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں جو تاثرات پائے جاتے ہیں وہ سائنسی اصولوں اور زمینی حقائق کے منافی ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ عام طور پر صاف پانی کے پاس ہی سے پھیلتا ہے جبکہ سائنسی مشاہدات سے کسی بھی طرح ثابت نہیں ہوتا کہ صاف شفاف پانی سے کوئی وائرس یا جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور زمینی حقائق دیکھے جائیں تو ترقی یافتہ علاقوں میں سوئمنگ پول ہوتے ہیں اگر یہ مان لیا جائے تو اس بیماری کا پایا جانا انہیں علاقوں میں کیوں نہیں ہے؟

اس وائرس زدہ مچھر کی جو نشانی بتائی گئی تو معلوم ہوا کہ اس قسم کے مچھر عرصہ دراز سے دیہاتی علاقوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس قسم کی کوئی بیماری نہ تھی۔ تو بتایا جاتا ہے کہ نسلی لحاظ سے وہی ہے مگر نر اور مادہ کی بات ہے یعنی اگر مادہ مچھر کے کاٹنے سے یہ وائرس منتقل ہوتا ہے۔ مگر یہ تاثر بھی غلط ہے کیونکہ مکھی سے لے کر سانپ، بچھو سمیت تقریبا سب مہلک اور زہریلے جانور اور حشرات چاہے نر ہو یا مادہ نقصان ایک ہی جتنا دیتے ہیں اور اگر نر اور مادہ والی اس بات کو بھی تسلیم کیا جائے تو کیا اس مچھر کا مادہ پہلے موجود نہیں تھا؟ کچھ لوگوں کایہ خیال ہے کہ یہ ایک ایسا وائرس ہے کہ جس کو قصداً کسی علاقے میں پھیلا دیا جاتا ہے تاکہ وہاں کے عوام پر ایک خوف طاری ہو یا وہ اس وائرس سے متاثر ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

مگر میری ذاتی رائے ہے کہ اس قسم کے جراثیم اور وائرس اس گندگی سے پھیلتا ہے جو گندے نالوں میں قیام پاکستان سے پہلے سے موجود ہے اور جن کو اب مختلف وجوہات سے کھدائی کے ذریعے کھولا جا تا ہے۔ جیسے پنجاب میں میٹرو بس کے لیے لاہور شہر میں بڑے پیمانے پر کھدائیاں ہوئیں۔ اس کھدائی میں بڑے پیمانے پر گندے نالے اور گٹر لائنیں بھی آغیں جو کہ بابائے قوم کے زمانے سے کبھی بند اور کبھی کھلی ہوتی تھیں۔ ان میں پتہ نہیں کون کون سے وائرس جمع ہو گئے ہوں گے۔ اب کھلنے سے وہی جراثیم اور زہریلے وائرس لاہور میں پھیلنا شروع ہوگئے۔ لیکن پنجاب کے عوام اور حکومت نے بروقت اقدامات جیسے آگہی مہم چلائی اور احتیاط، تشخیص، علاج اور مزید پھیلنے سے روکنے کی اطمینان بخش تدابیر سے اس وائرس پر قابو تو پا لیا مگر اس گندگی گو ویسے کا ویسے چھوڑ دیا۔ اس کے بارے میں کوئی نئی پالیسی نہیں بنائی گئی جو اس مہلک بیماریوں کا سبب بنی۔

اسی طرح سندھ کے دارالحکومت کراچی جو پاکستان کا سب بڑا اور کاروباری ہے۔ مگر نکاسی اور صفائی کی انتہائی ناقص صورتحال ہے۔ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر ہر بازار، گلی کوچے میں اور شاہراہوں پر نکل رہے ہیں۔ گندے نالوں اور گٹر لائنوں پر کسی بھی قسم کے جراثیم کش اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں مگر شہر کے عوام کچھ نجی تنظیموں کے ذریعے اپنی مدد آپ کے تحت شہر کی صفائی کی کوشش کرتے ہیں۔ گٹر کے ڈھکن تک کا عوام خود بند و بست کر رہے ہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی یہ حالات ہیں مگر وہاں کی چونکہ آبادی کم ہے اس لیے وہاں ابھی یہ مسائل اتنے نہیں ہیں۔

لیکن خیبر پختونخوا پر نظر ڈالی جائے تو اس معاملے میں صوبائی حکومت بے پروا دکھائی دیتی ہے۔ گزشتہ کئی سال سے وہی گھسی پٹی پرانی میونسپل کمیٹیاں ہیں جن کی گاڑیاں یا تو کسی کونے میں پڑی خراب ہوتی ہیں اور یا نہایت بری حالت میں شہر کے کسی مخصوص علاقے سے کچرا اٹھانے کی ناکام کوشش کرتی نظر آتی ہیں۔ عملہ اکثر غائب رہتا ہے اور شہر بھر کی گندگی اور غلاظت شہر میں ہی رہتی ہے۔ یہ نہ صرف صوبائی دار الحکومت پشاور میں بلکہ صوبے کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ہورہا ہےلیکن پشاور چونکہ قدیم دور سے آباد ہے اور آبادی بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے مگر کسی بھی صوبائی حکومت اس ناقص نظام پر کوئی نئی پالیسی بنائی۔ موجودہ صوبائی حکومت نے بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح انہی قدیمی پالیسیوں میں کاغذی کارروائی کر کے تھوڑی سا رد و بدل کرکے "تبدیلی" کا شوشا چھوڑ کر جان چھڑا لی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   لبرلز کی خوشنودی کے لیے عمران، نواز ایک ہو گئے - انصار عباسی

دراصل اسی تبدیلی کے نعرے کی وجہ سے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت سے توقعات بہت زیادہ تھیں۔ حکومت پنجاب کے مقابلے میں میٹرو بس منصوبہ ناقص منصوبہ سازی کی وجہ سے مختلف قسم کے مسائل کا سبب بنا اور یوں مہلک جراثیم اور وائرس صوبہ بھر میں پھیلتا جارہا ہے۔ چونکہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی منصوبہ کی ناکامی یا اس سے مرتب ہونے والے اثرات کا بھی جائزہ لے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کی روک تھام کرے مگر یہ وفاقی ذمہ داری بھی ہے کہ صوبائی حکومتوں کی کار کردگی بہتر بنانے میں مدد دے اور ساتھ ساتھ ان کو ان معاملات سے نمٹنے پر بھی زور دیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبے مسائل کے شکار نہ ہو عوام کا پیسہ ضائع ہونے کے بجائے عوام کو سہولیات فراہم کرنے پر لگے۔ یوں ہر اس ڈینگی مچھر سے نجات ملے جو ملکی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہو۔