پسو کونز کا حسن بےمثال - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

کوئی لمحہ ایسا بھی آتا ہے جب انسان، محبت میں، آنکھ اور دل بن جاتا ہے یا یوں سمجھیے کہ دل آنکھ بن جاتا ہے، اور یہ آنکھ خالق کائنات کی تخلیقی خوبی کے اعتراف میں خالق سے جڑ جاتی ہے. یہ لمحہ بےحد قیمتی ہوتا ہے اسے روک لینا چاہیے. اس منظر میں ٹھہر کر اس منظر میں خود کو سمو کر اور اس لمحے میں جی کر اپنی عبدیت کو معبود کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر آمادہ پا کر. جب ملے جہاں ملے اس لمحے کو گزرنے مت دیجیے. کسی تجزیاتی خیال کو یہاں مت آنے دیجیے .کیا کیوں کیسے سے پیچھا چھڑا لیجیے. ہر ہم سفر سے بیگانہ ہو جائیے. بس عبد اور معبود کی یکجائی کے اس لمحے کو امر ہونے دیجیے. خالق کائنات سے جوڑنے والے لمحے میں غیر کا خیال آنا بھی گناہ ہے.

ایسے لمحات ہر سفر میں سامنے آتے ہیں، دو صد سترہ کے سفر میں یہ لمحہ پسو کونز کی کی پہلی دید نے عطا کیا. اس پہاڑی سلسلے کی چھب اس کے ہمسایہ پہاڑوں سے مکمل الگ ہے، اس کی شکل جیسے مختلف سائز کی آئس کریم کونز، منفرد اور بےترتیب سی ترتیب سے الگ سجا کر رکھ دی گئی ہوں، ان کونز کا رنگ بھی جداگانہ ہے. نسبتا ہلکے رنگ کی چٹانیں ہیں. جگلوٹ روڈ کا ایک موڑ مڑتے ہی سامنے منظر کے بیچوں بیچ شاہ خاور کی کرنوں سے نہائی ہلکی گلابی براؤن سی چٹانیں نظر پڑتی ہیں، جن کا حسن دل پر الہام کی مانند اترتا ہے، اور خالق کی حسن تخلیق کا گرویدہ کر دیتا ہے.

اس ٹرپ سے چند ماہ پہلے آفس میں حسن مہدی بخاری صاحب سے ٹرپ کے حوالے سے گفتگو ہوئی، جو ایک جانے مانے فوٹوگرافر ہیں. انہوں نے پسو کونز کا تذکرہ کیا، کیونکہ میں نے دیکھ نہیں رکھی تھیں، سو ذہن میں کوئی خاص تصور نہیں بن پایا. جس وقت پسو کونز پر اصل میں نظر پڑی تو جس حالت میں تھی، وہیں جامد ہوگئی، بس ساری زندگی آنکھوں میں سمٹ آئی اور دل خدا کی ثنا میں مصروف ہوگیا. چند لمحے سرکے تو ہڑبڑا کر چند شاٹس اس حسن دلفریب کے کھینچے. تب تک بھی، میں اس پہاڑی سلسلے کے نام سے ناواقف تھی، تب ''ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے''، والی کیفیت تھی. دل کو تسلی تھی کہ جگلوٹ کا یہ حسن اگلے روز درہ خنجراب سے آتے ہوئے دوبارہ دیکھنے کو ملے گا. اگلے روز واپسی پر نگاہیں مناظر سے سیراب ہو رہی تھیں اور دل چٹانوں کی تلاش میں تھا. جب یہ حسن احاطہ نگاہ میں آیا تو بس باقی سب پھر پس منظر میں چلا گیا، عاشق، نگاہ، دل اور ثناء بس. اسی دوران آنکھ کے کونے نے ایک چٹان پر کنداں ''پسو pasu '' پڑھا اور عقب میں کونز دیکھیں تو مہدی صاحب کی کہی باتیں دماغ میں گونجیں اور یوریکا پسو کونز کا نعرہ بلند کیا.

اللہ اللہ پتھر کی بےترتیب چٹانوں میں ایسا رعب حسن بھی ہو سکتا ہے جو خوفزدہ کرنے کے بجائے خالق کے اور قریب کر دے.
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظيم
بندہ ہے کوچہ گرد ابھی، خواجہ بلند بام ابھی

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں