ہم سب لبرل ہیں - درّ صدف ایمان

ذہنی آزادی، ایسی آزادی جس میں یہ احساس ہوتا ہے کہ جو کررہے ہیں، درست کر رہے ہیں، اس سے کسی کو نقصان نہیں ہورہا یا تھوڑا اضافہ کردیں تو ذہنی آزادی کا اثر شخصی آزادی پر۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ کیا بات ہوئی کہ "ہم سب لبرل ہیں"، تو دیکھیں بس تھوڑا سا اپنے آپ کو، اپنے ہاتھ میں پکڑے موبائل کو۔ اس کے ذریعے کوئی دین کا کام کر رہا ہے، تو کوئی فلاح معاشرہ کا اور دیکھا جائے تو یہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں۔ اکثریت سوشل میڈیا کا تعلیمی، کاروباری، اخلاقی، شرعی،دینی کاموں میں بہترین و منظّم طور پر استعمال کر رہی ہے، مگر اس کے علاوہ یہ ایک ایسا راستہ ہے جس نے ہم سب کو لبرل ازم کی راہ کا مسافر بنادیا ہے۔ بس فرق تھوڑا سا یہ ہے کہ کوئی دھیمی دھیمی چال سے چل رہا ہے، کوئی بجلی کی تیزی سے، کوئی اعتدال پسندی سے اور کوئی ٹھہر ٹھہر کر۔ آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے یہ کیسی عجیب بات ہے۔

ذرا غور کریں، پہلے لڑکیوں کے پاس موبائل ہوتا تھا تو وہ اپنا نمبر کس قدر مخفی اور حفاظت سے رکھتی تھیں؟ کہیں کسی غلط ہاتھ میں نہ لگ جائے، ایک میسیج اگر رونگ نمبر سے آجانا تھا تو پریشان ہوجاتی تھیں، اور اگر یہ سلسلہ جاری رہتا تو تیسرے دن نمبر تبدیل کرلیتیں یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے میں۔ پھر نیا نمبر پہلے سے زیادہ حفاظت سے رکھا جاتا مگر آج کیا ہورہا ہے؟واٹس ایپ پر مخلوط گروپس میں نمبر مگر کوئی پریشانی نہیں۔ یہی حال فیس بک پر ہے۔ پہلے موبائل پر انجان نمبر سے ہی کال آجاتی تو گھر کے کسی مرد کو موبائل دیا جاتا تھا کہ وہ سنیں بات کرے۔ مگر اب الٹی گنگا بہنے لگی ہے، چیٹ گروپس، دینی و معاشرتی کاموں کے لیے گروپس اور اگر جنم دن ہو تو دنیا جہان سے ولادت کی مبارکباد، کیک شیک، پھول شول کی تصاویر، اسمائلی، ایموجیز۔ یہی نہیں اگر نسبت یعنی منگنی ہوجائے اسٹیٹس دیا جاتا ہے۔ اب اس منگنی کے ننھے سے اسٹیٹس پر ڈھیروں دعائیں، کمنٹس انجان خواتین و حضرات کی طرف سے موصول ہورہے۔ اب جب نا محرموں کی لمبی فہرست دعائیں دے رہی ہے تو بے چارے یا بے چاری منگیتر کا کیا قصور کہ وہ اپنی آنے والی زندگی کے لیے دعا نہ کرے؟ آخر کو لبرل ہیں ہم!

یہ بھی پڑھیں:   تاریخ کی غلط سائیڈ پر کون ہے؟ سید معظم معین

اور تو اور ہماری اعلیٰ و پاکیزہ سوچ کہ مخلوط ادارے نہ ہوں، پردہ ہو وغیرہ وغیرہ، مگر اس سوشل میڈیا پر ہم لوگوں نے خود مخلوط ادارے تشکیل دیے ہیں۔ ہمارے بیان ہوتے ہیں کہ پاکستان اس لیے حاصل نہیں کیا گیا کہ یہاں کی بیٹی دوپٹہ اتارے مگر افسوس پاکستان کی بیٹی، جی ہاں قوم و ملّت کی بیٹی بہترین طور پر پر آج دوپٹے پہن کر بھی وہی کام کر رہی ہے، جسے دوپٹہ اتار کر کرنے والی کر رہی ہے یا معتبر الفاظ میں جو کام اسے زیبا نہیں دیتے وہ کام۔

ایسی بہت سی مثالیں ہیں جنہیں لکھنے سے صرف مضمون طوالت اختیار کرے گا، اس لیے اپنی بات کا مافی الضمیر سمجھانے کے لیے بس اتنا کہتی ہوں کہ ہماری اقدار و روایات یہ نہیں تھیں، جس طرف ہم چل پڑے ہیں، اور چلے ہی جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے فوائد سے انکار نہیں مگر اس کے نقصانات سے ہم سب واقف ہوتے ہوئے بھی انجان بنے ہوئے ہیں۔ چند سالوں میں سینکڑوں واقعات ہوچکے ہیں جو ہماری نوجوان نسل سے متعلق ہیں۔ کبھی خودکشی کے، تو کبھی قتل کے، کبھی اجتماعی خودکشی کے، تو کبھی اجتماعی قتل کے، کبھی لڑکے کی بربادی کے تو کبھی لڑکی کی تباہی کے، کبھی لڑکی کی لاش پنکھے سے لٹکی ملی، تو کبھی لڑکے کی لاش اسکول کے فرش سے.....

یہ ایک ایسا زہر ہے جو رفتہ رفتہ ہماری سوچوں کو، ہمارے معاشرے کو، ہمارے مذہب کو، ہماری روایات کو، ہمارے طریقوں کو اور ہماری نوجوان نسل کی شرم و حیا کو اور فکر و شعور کوختم کر رہا ہے اور بخوبی اپنے مشن میں کامیاب ہورہا ہے ۔

میں اپنے آپ کو اس سب سے بری الذمہ نہیں کر رہی، نہ ہی ان باتوں کا کوئی خاص ہدف مگر مجھے یہ ادراک کرتے ہوئے شرمندگی ضرور ہورہی ہے جس لبرل ازم کو ہم برا سمجھتے ہیں اسی کا حصہ ہم لوگ خود بھی بخوشی بنے ہوئے ہیں ۔ ہم سب لبرل ہیں اور مزید لبرل ہونے جارہے ہیں، کیونکہ...... جواب آپ لوگ خود سوچ لیں!