تبصرہ کتب: جہاد اور روح جہاد - مجتبیٰ فاروق

دور جدید میں جن اسلامی اصطلاحات کو سب سے زیادہ بدنام کیا گیا ان میں جہاد سرفہرست ہے، اس قرآنی اصطلاح کو بدنام کرنے کا سلسلہ دنیا کے ہر کونے میں جاری ہے۔ کہیں جہاد کو دہشت گردی کا نام دیا جارہا ہے تو کہیں اس کو تشدد آ میز سرگرمیوں سے جوڑا جارہا ہے۔ غرض کہ مختلف انداز سے جہاد کے معنی و مفہوم کو مسخ کرنے کوششیں ہورہی ہیں لیکن اللہ کے فضل سے ہر دور میں علماء نے ان مذموم کوششوں کو نہ صرف ناکام کیا بلکہ جہاد کی اصل حقیقت بیان کر کے ان تمام غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جو لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کی جاتی ہیں۔مولانا محمدعلی جوہر کی اس صدا پر علما ء نے ہمیشہ لبیک کہا کہ ’’کاش کوئی اللہ کا بندہ (نوجوان) اٹھ کھڑا ہوجائے اور اسلام کا صحیح پیغام اور موقف پیش کرے تاکہ اسلام کے خلاف جو غلط فہمیاں پھلائی جارہی ہیں وہ دور ہوسکیں اور جہاد کی حقیقت لوگوں کے سامنے آسکے‘‘۔ بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں یہ کام مولانا مودودی علیہ الرحمہ نے انجام دیا،انھوں نے ’ ا لجہاد فی الاسلام‘ جیسی معرکہ آراء کتاب تصنیف کی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ رک گیا اور طویل عرصے کے بعد اَب کچھ کتابیں منصہ شہود پر آسکی ہیں۔مولانا محمد عنایت اللہ اسد سبحانی جو تحریک اسلامی کے ایک جید اور بے باک عالم دین ہیں، موصوف نے ’’ جہاد اور روح جہاد ‘‘ لکھ کر اس موضوع پر ایک اہم اضافہ کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قرآنی دلائل سے لیس ہے اور اس میں مستند احادیث سے بھی استنباط کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں قرآنی فکر اور اور اس کا مزاج جگہ جگہ جھلکتا ہے جو قاری کو قرآنی فکر کی گہرائی میں لے جا کر اس کے فکر کو معطر کردیتا ہے۔

مولانا نے کتاب کے آغازہی میں جہاد کی غرض و غایت بیان کی ہے کہ اسلام میں جہاد کسی مذہب یا کسی دین دھرم کے خلاف نہیں ہوتا، کسی نسل یا کسی قوم کے خلاف نہیں ہوتا، کسی ملک کے شہریوں سے نہیں ہوتا بلکہ جہاد ہمیشہ ان طاقتوں یا ان حکومتوں سے ہوتا ہے جو ظلم و استبداد کی عادی ہوتی ہیں۔ جو اپنی طاقت و سلطنت کا غلط استعمال کرتی ہیں اور ظلم و جبر سے دوسروں کی آزادیاں چھین لیتی ہیں۔ (جہاد اور روح جہاد، ص: ۲۷) مولانا مودودی نے بھی جہاد کے مقاصد میں یہ بات بیان کی ہے کہ اسلام نے بدی کے استیصال اور بدکاری کے دفع و انسداد کے لیے یہ کارگر تدبیر اختیار کی ہے کہ منظم جدوجہد سے اگر ضرورت پڑے اور اگر ممکن ہو تو جنگ(قتال) کے ذریعے سے تمام ظالم وجابر حکومتوں کو ختم کر دیا جائے اور ان کی جگہ وہ عادلانہ ومنصفانہ نظام حکومت قائم کیا جائے جس کی بنیاد خدا کے خوف پر اور خدا کے مقرر کردہ ضابطوں پر رکھی گئی ہو جو شخصی یا قومی یا طبقاتی اغراض کے بجائے خالصتاًانسانیت کی خدمت کرے۔(الجہاد فی الاسلام،ص ۱۱۷)

مولانا سبحانی نے اس بات کی بھی و ضاحت کی ہے کہ جہاد و قتال کے سلسلے میں علماء کے ذوقی اجتہاد ات پر اعتماد کرنا صحیح نہیں ہے۔ ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں براہ راست قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کی جائے، علماء و فقہاء کی بس وہی باتیں قابل قبول ہوتی ہیں جو قرآن و سنت کے محکم دلائل پر مبنی ہوں۔ رہیں وہ آراء جو ان کے محض ذوق فہم کی پیداوار ہوں تو اس طرح کے اہم معاملات میں وہ حجت نہیں بن سکتیں۔ ( جہاد اور روح جہاد،ص: ۳۱۸)

زیر تبصرہ کتاب تیرہ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے، دوسرے اور تیسرے باب میں جہاد کا مفہوم، روح اور مقصدکو بیان کیا گیا ہے۔ جس میں مصنف نے نہایت ہی متوازن اور معتدل انداز میں جہاد کی توضیح و تشریح کی ہے اور مختلف اشکالات کا جواب دیا ہے۔ قتال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تاریخ میں جن قوموں سے بھی اللہ کے نبیوں نے قتال کیا، وہ قتال ان کے کفر و شرک یا ان کی جہالت کی وجہ سے نہیں ہوا تھا اور نہ اس وجہ سے کہ ان کے نبیوں نے اتمام حجت کر دیا تھا۔ یہ قتال صرف اور صرف ان کے حد سے بڑھے ہوئے ظلم واستبداد کی وجہ سے ہوا تھا۔ (ص: ۱۱۷) چوتھا باب حضرت سلمان اور ملکہ سبا کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے کفر اور ظلم و استبداد کوواضح کیا۔ پانچویں باب میں انھوں نے ’’جہاد کے ضروری عناصر‘‘ کو بیان کیا ہے۔ چھٹا باب ’’ آزاد اور اور مضبوط سلطنت‘‘ کے عنوان سے ہے، جس میں انھوں نے اخوان المسلمون کے اسرائیل کے خلاف جہاد کا تجربہ بیان کیا ہے اور اس کے نتائج پر گفتگو کی ہے۔’’ جہاد اور امن عالم ‘‘کے نام سے ایک اور باب ہے جس میں مصنف نے صلح حدیبیہ کو موضوع بحث بنایا ہے اوراس ضمن میں عصر حاضر کے ایک دانشور کے خیالات کا تعاقب بھی کیا ہے۔ایک باب ’’ ظالم حکومتوں سے صلح ‘‘ میں صلح و مصالحت پر گفتگو ہے۔ ایک اور باب ہے ’’دفاعی حالت کیا ہوتی ہے؟ ‘‘، جس میں مصنف نے دفاع کی مختلف صورتوں کو بیان کیا ہے۔ اس باب میں مصنف نے خود کش حملو ں کے بارے میں کہا ہے کہ ’’اسلامی شریعت صرف ظالموں اور مجرموں سے لڑنے اور انہیں مارنے کی اجازت دیتی ہے، بے گناہوں کو کسی بھی صورت میں مارنے کی اجازت نہیں دیتی، اس پہلو سے غور کرنا چاہے کہ خود کشی اسلام میں جائز نہیں ہے ‘‘، لیکن اس بات پر بھی غور ہونا چاہیے کہ جہاں ظلم و جبر انتہا پر ہو، خون کی ندیاں بہ رہی ہوں، ماں بیٹیوں کی عزت محفوظ نہ ہو اور یہ سلسلہ کسی ملک یا خطے میں ایک طویل عرصے سے قائم ہو،وہاں مظلومین کو اپنے دفاع کے لیے کوئی عملی راستہ نظر نہ آئے تو ایسی صورت میں دفاع اور حق آزادی کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟

’’جہاد کے آداب ‘‘ کے عنوان سے ایک اور باب ہے جس میں مصنف نے جہادکے آداب پر مدلل گفتگو کی ہے۔ ایک باب ہے ’’ جہاد عصر حاضر میں ‘‘، یہ باب کافی اہمیت کا حامل ہے، اس میں مولانا نے واضح کیا ہے کہ جہاد کے لیے کوئی بھی اقدام کرنے سے پہلے مؤثر وسائل حاصل کرنے اور دفاعی تیاریاں مکمل کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ کتا ب کا آخری باب ہے’’ آج کی ضرورت‘‘۔ یہ کتاب کا سب سے اہم باب ہے۔ اس میں مولانا نے امت کے کرنے کے کاموں پر گفتگو کی ہے اور کہا ہے کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم فرزندان اسلام کی تعلیم تربیت کا خاص اہتمام کریں۔ دوسرا کام یہ کہ اسلام کی دلکش تصویر لوگوں کے سامنے لائیں اور لوگوں کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، ان غلط فہمیـوں کو دور کریں اور اس کے ساتھ ساتھ عصری علوم میں مہارت حاصل کرنا اور وقت کی رفتار پر نظر رکھنا بھی از حدضروری ہے۔ نیز صبر و تقوی سے بھی لیس ہونا نہایت ضروری ہے۔

مولانا سبحانی نے جہاد کے متعلق بعض مسلم علماء اور مفکرین کی کچھ آراء پرتنقید کی ہے جو مناسب بھی ہے البتہ اس سے اختلاف بھی کیا جاسکتاہے۔ لیکن کتاب نہایت عمدہ ہے، اس میں مصنف نے نظریہ جہاد پر متعدد نئے گوشوں کو بھی متعارف کرایا ہے جن سے اسلام کے فلسفہ جہاد کو مزید سمجھنے کا موقع ملے گا،اور جن حقائق کا تذکرہ کیا ہے وہ واقعی قابل غور ہیں۔علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ تذکیری پہلوؤں کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا۔’’ الجہاد فی الاسلام ‘‘کے بعد اس موضوع پرچند ہی کتابیں منظر عام پر آسکی ہیں،اور ان کتابوں میں یہ کتاب کافی اہمیت کی حامل ہے۔ عوام وخواص کے مطالعے کے لیے یہ قابل قدر اور لائق تحفہ ہے۔