پاکستان فلاحی مملکت کیوں نہ بن سکا؟ - پروفیسر جمیل چودھری

ہم میں سے اکثر کا جواب یہی ہوگا، کیوں نہیں؟ کرّۂ ارض پر اس وقت کئی ممالک ایسے ہیں جنہیں فلاحی ریاست کے رول ماڈل کے طورپر پیش کیاجاتا ہے۔ لوگ وہاں جاتے بھی رہتے ہیں، عوام کو ملنے والی سہولیات کا وہ خود مشاہدہ کرتے ہیں لیکن جب اپنے ملک کے حالات دیکھتے ہیں تو صورت حال محتلف نظر آتی ہیں۔

ناروے، ڈنمارک اور سوئیڈن اور کسی حدتک برطانیہ کو فلاحی ریاست کے رول ماڈل کے طورپر پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ ایسی فہرست میں دنیا میں اور بھی کئی چھوٹے بڑے ملک آتے ہیں۔ لیکن رول ماڈل کے طورپر عموماً اوپر والے 3سکنڈے نیوین ممالک زیادہ اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ ان ممالک کے شہریوں کو حکومتوں کی طرف سے بہت سی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ زندگی میں پریشانیاں کم ہیں، کسی کے بیمار ہونے پر صحت کے ادارے سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ شہریوں کو صحت مند رکھنا ریاستیں اپنی ذمہ داری سمجھتی ہیں۔ ابتدائی تعلیم بھی وہاں بہت سستی اور معیاری ہے۔ ہر طالب علم کے لیے ابتدائی تعلیم کے ادارے ایک ہی جیسے ہیں۔ صاف پانی، رہائش اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں بھی آسانیاں ہی آسانیاں ہیں۔

ہمارے ملک کو بنے ہوئے بھی اب70سال ہوگئے ہیں۔ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ پاکستان اب تک لوگوں کو ضروری سہولیات کیوں نہیں دے سکا؟ غربت کیوں کم نہ ہوئی؟ مڈل کلاس کیوں نہ ابھر سکی؟ روزگار کے مواقع نہ ہونے سے اب تک80 لاکھ پاکستانی دنیا کے دوسرے ممالک میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ملک میں صنعت ناکام ہوچکی ہے۔ اس وقت100ٹیکسٹائل ملیں مکمل طورپر بند ہیں اور کئی بند ہونے کے قریب ہیں۔ باقی صنعتوں کا بھی اچھا حال نہیں ہے۔ گزشتہ مالی سال میں تجارتی خسارہ30 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

ہم میں سے ہر شخص کی خواہش بھی ہے اور ضرورت بھی ہے کہ پاکستان بھی اعلیٰ درجے کی فلاحی ریاست بنے۔ کچھ وجوہات اور حالات ایسے ہیں جن کی وجہ سے ہماری ریاست عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان سابقہ ہندوستان سے الگ ہوکر ایک نئی ریاست بنا تھا۔ تقسیم کے وقت ہی ایسے مسائل پیدا ہوگئے جن سے بھارت اور پاکستان میں مستقل دشمنی پیدا ہوگئی۔ نہری پانی کا مسٔلہ جلد ہی حل کر لیاگیا تھا لیکن ریاست جموں وکشمیر پر بھارت کے زبردستی قبضے کے بعد دونوں ملکوں میں مستقل دشمنی پیداہوگئی۔ جنگیں بھی لڑی گئیں۔ نقصان پاکستان کا زیادہ ہوا لیکن کشمیر اور پانیوں کا مسٔلہ 70 سال سے جوں کا توں چلا آرہا ہے۔ دفاع پر ہندوستان بھی بہت خرچ کرتا ہے لیکن پاکستان کو اپنے سالانہ بجٹ کا20 فیصد سے زیادہ حصہ ہرسال دفاع پر خرچ کرنا پڑتا ہے۔ اگرہندوستان سے جھگڑے ختم ہوجائیں تو ہم اپنا دفاعی خرچ کم کرکے اسے عوامی سہولیات پر خرچ کرسکتے ہیں۔ اب دو دہائیوں سے ہمارے مغربی بارڈر پر بھی ہر وقت جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

پاکستان اس وقت دو دشمنوں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ دونوں کی طویل سرحدیں ہم سے لگتی ہیں۔ موجودہ مالی سال2017-18ء میں ہمارادفاعی بجٹ920 ارب روپے اور فوجی پنشنز کا خرچ180 ارب روپے ہے۔ یہ خرچ بجٹ کے20 سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ پھر سول آرمڈفورسز کا خرچ، ان میں ایف سی، رینجرز، لیویز، سکاؤٹس، سی ٹی ڈی فورسز اور پولیس کے اخراجات علیحدہ ہیں۔ پھر پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی کی جنگ پر بڑے پیمانے پر اخراجات ہورہے ہیں۔ اسلحہ کی خرید اور جانوں کے بدلے دی جانے والی رقومات اور اثاثوں کی تباہی کے معاوضے یہ رقومات بھی اربوں میں جا پہنچتی ہیں۔ کیا دنیا میں کوئی اور ایسا ملک ہے؟ جس کی سرحدوں کی وہ صورت حال ہو جیسے پاکستان کی ہے؟ مشرقی سرحد3 ہزار کلومیٹر اور مغربی افغانی سرحد2400کلومیٹر طویل، دونوں طرف ہر وقت جھڑپیں اور فائرنگ۔ وسائل کا بڑا حصہ اس صورت حال کو کنٹرول کرنے پر لگ رہا ہے۔ یہ ہماری مجبوری ہے، ہم نے اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے دفاع کو تو ناقابل تسخیر بنانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اندر کی خبر - یاسر الیاس

جن3 ممالک کی مثال اوپر بطور فلاحی ریاست کے دی گئی ہے ان میں سے کسی بھی ملک کی سرحدوں پر مستقل دشمن نہ ہے اور نہ ہی اتنی بڑی فوج اور جدید اسلحہ رکھنا پڑتا ہے۔ ناروے، ڈنمارک یا سوئیڈن، آپ نے کبھی بھی ان کو کسی دوسرے ملک سے جنگ کرتے نہ دیکھا ہوگا۔ ان کے دفاعی اخراجات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حکومتی وسائل کا تمام حصہ لوگوں کو سہولیات پہنچانے کے لیے استعمال کرلیاجاتا ہے۔

اب آپ کو ایک بڑی وجہ سمجھ آگئی ہوگی پاکستان کے فلاحی ریاست نہ بننے کی، دوسری بڑی اور اہم وجہ حکومت اور معاشرے میں اونچے درجے کی کرپشن ہے۔ ہمارا درجہ کرپٹ ممالک میں اونچے درجے پر ہے۔ اداروں اور محکموں میں فنڈز کی خرد برد کھلم کھلا ہوتی ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لیے گزشتہ سال تقریباً ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن وسائل کا بمشکل نصف حصہ ہی ہرسال مختلف پروجیکٹس پر لگتا ہے۔ اور باقی مختلف چینلز سے ادھر ادھر ہوکر ماثر اور بڑے لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ غیرترقیاتی اخراجات کا بھی بڑا حصہ ایک سال میں ضائع ہوجاتا ہے۔ نیچے سے لیکر اوپر تک لوگ کسی نہ کسی شکل میں کرپشن میں مبتلا ہیں۔ اسی لیے کئی سال پہلے نیب کے ایک چئیر مین نے کہا تھاکہ سالانہ12۔ ارب روپے پاکستانی خزانے سے لوٹ لیے جاتے ہیں۔ ایسی خبریں آپ سنتے بھی رہتے ہیں۔ یہ وہ مرض ہے جس کی شدت دنیا کے دیگر ممالک میں کم ہے۔ اور خاص طورپر ان ممالک میں جنہیں ہم فلاحی رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ یہ ہماری اپنی پھیلائی ہوئی بیماری ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ کے مقدمہ پر ایکشن لیاگیا، جس میں ایک طاقتور خاندان کی تلاشی لی گئی۔ امید ہے احتساب کا یہ کام جاری رہے گا۔ ہم اس بیماری کی وجہ سے دنیا بھر میں بدنام ہیں۔ میں کرپشن کو میں فلاحی ریاست کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہوں۔

فلاحی ریاست نہ بننے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم افغانستان کے پڑوسی ہیں اور یہ حیثیت تبدیل بھی نہیں ہوسکتی۔ افغانستان پر جب روس نے حملہ کیا تو ہم نے اور ہماری فوج نے جہادی تنظیموں کی پرورش کی۔ پھر افغانستان پر امریکہ چڑھ دوڑا اور بے شمار دہشت گرد تنظیمیں پیدا ہوئیں اور ان کی سرکوبی کے لیے قوم اب تک اربوں روپے خرچ کررہی ہے۔ آپریشن راہ راست سے لیکر ردالفساد تک ہم نے بہت کچھ کیا۔ 120 ارب ڈالر کے نقصان کا اندازہ اب تک لگایا جاچکا ہے۔

جو ملک خوشحال ہیں اور فلاحی ریاست بنے ہوئے ہیں وہ خوش قسمت ہیں کہ ان کے ساتھ وہ سرحد نہیں ہے، جسے ڈیورنڈ لائن کہاجاتا ہے۔ یہ کھلا بارڈر پاکستان میں سمگلنگ کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہے۔ افغانی تاجر بے شمار اشیاء افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام سے منگوا کر ہمارے ملک پاکستان میں ہی فروخت کردیتے ہیں۔ یوں ہمیں کسٹم ڈیوٹی کے شعبے میں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ناروے، ڈنمارک اور سوئیڈن کے ساتھ کوئی نقصان پہنچانے والی سرحد نہیں ہے۔ یہ سرحد پاکستان کے لیے بڑے مالیاتی نقصان کا سبب بنی ہوئی ہے۔ سمگلنگ روکنے کی تمام تدبیریں بہادر افغانیوں نے ناکام کردی ہیں۔ افغان سرحد نے جومسائل دہشت گردی اور سمگلنگ کے پیدا کیے ہیں ہماری تمام حکومتیں اب تک ان کے حل میں ناکام نظر آتی ہیں۔ جب افغانی اسے قانونی سرحد ہی نہیں مانتے تو پاکستان اس سرحد کی وجہ سے پیداہونے والے مسائل حل ہی نہیں کرسکتا۔

ایک اور مسٔلہ ہمارے ہاں ٹیکس نہ دینے کا ہے۔ صرف اور صرف 11 لاکھ لوگ باقاعدگی سے ٹیکس اداکرتے ہیں۔ قابل ادا ٹیکس لوگوں کی تعداد کبھی30 لاکھ اور کبھی36 لاکھ بتائی جاتی ہے۔ جب خزانے میں پیسہ ہی نہیں آئے گا تو عوام کو بڑی پیمانے پر سہولیات پہنچانے اور ملک کو فلاحی ریاست میں بدلنے کا کام نہیں ہوسکتا۔ یہاں بھی بڑی بڑی کمپنیاں اور افراد ٹیکس سے بچنے کے لیے بڑے تکنیکی طریقے اختیار کرتے ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ، ٹیکس کے ماہر وکلاء، بیوروکریسی اور فرم کے مالک تمام ہی ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے متحد ہوجاتے ہیں۔ تو پھر ریاست کا خزانہ تو خالی رہنا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   انتخابی حلقے اور انوکھی فرمائشیں - فیاض راجہ

اسی سلسلے کی ملتی جلتی صورت حال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر خفیہ معیشت پیدا ہوچکی ہے۔ اسے کھلی معیشت کا80 فیصد بتایا جارہا ہے۔ اس 80 فیصد معیشت کی حکومتی ادائیگیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے ملک فلاحی ریاستوں میں تبدیل نہیں ہوسکتے۔ دوستوں کو یہ تو معلوم ہی ہے کہ غیر ملکی قرض 62 ارب ڈالر ہوچکا ہے۔ ہمیں اپنے سالانہ بجٹ سے ہی غیر ملکی قرض کی قسطیں اداکرنی پڑتی ہیں یہ رقم دفاع سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ فلاحی کاموں کے لیے بہت کم رقم بچتی ہے اور پھر جناب ایک اور اہم بات تو ابھی رہ گئی ہے۔ جن3 ریاستوں کے رول ماڈل کا ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں ان کی آبادیاں درجہ ذیل ہیں: ناروے 51لاکھ، ڈنمارک 57لاکھ اور سوئیڈن 98لاکھ۔ یہ کل 2کروڑ اور6لاکھ ہوئے اور ہمارا ملک جس کی آزادی کے وقت صرف3 کروڑ آبادی تھی اور اب موجودہ آبادی کی گنتی کے مطابق21 کروڑ ہوچکی ہے۔ یعنی "صرف اور صرف" 7 گنا اضافہ! ہم ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار ہی نہیں۔

موجودہ مردم شماری جس کو میں انسان شماری کہنا پسند کرتا ہوں۔ اس کے مطابق ہماری آبادی میں شرح نمو2.4 فیصد ہے جو 1998ء کی 2.6 سے معمولی ہی کم ہوئی ہے۔ جن یورپی ممالک کو ہم فلاحی ریاستیں شمارکرتے ہیں وہاں آبادی میں ہرسال معمولی سااضافہ ہوتا ہے۔ وسائل ہرسال جب متعین تعداد پر ہی خرچ ہوں گے تو ان کی حالت تو لازماً بہتر ہوگی۔ پاکستان کی اصل آبادی میں وہ لوگ بالکل علیحدہ ہیں جو وسائل تو استعمال کرتے ہیں لیکن یہاں کے باشندے نہیں ہیں اور کماتے بھی نہیں ہیں۔ ان کی تعداد بھی 20سے 40 لاکھ بتائی جاتی ہے۔

فلاحی ریاست کے راستے میں یہاں کا قدیم جاگیر دارانہ نظام بھی رکاوٹ ہے۔ دو مرتبہ کی زرعی اصلاحات کے باوجود ابھی تک سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں وڈیرہ شاہی نظام ہے۔ ہر کاشتکار کے پاس اپنی ملکیتی زرعی زمین کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ زراعت میں انصاف یہیں سے شروع ہوتا ہے اور یہی رائے سب سے بڑے فقیہ امام ابو حنیفہ کی ہے۔ مسلم امہ کے سب سے بڑے فقیہہ کے مطابق زمین اس کی ہے جو اسے کاشت کرتا ہے۔ جاگیر دارانہ نظام فلاحی ریاست کے عین برعکس ہے۔ فلاحی ریاست بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایسی انتخابی اصلاحات کریں جن کے بعد صاف اور شفاف الیکشن ہوسکیں۔ الیکشن پر اخراجات نہ بڑھیں۔ صرف ٹی وی اور ریڈیو پر ہر امیدوار خطاب کرے اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، مسائل کا ادراک رکھنے والے اور مسائل کو حل کرنے کی جرات کرنے والے لوگ منتخب ہوسکیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پرانے سیاسی خاندانوں کی بجائے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے نئے لوگ آئیں، ترجیحات تبدیل کریں، موٹرویز کی بجائے صاف پانی کی فراہمی، سستی خوراک، اعلیٰ درجے کی سکول تک تعلیم لازمی اورمفت ہو اور صحت کی سہولیات فراہم کریں۔ بے گھر لوگوں کو سستی رہائش کی فراہمی ہو۔ سستی پبلک ٹرانسپورٹ بڑے شہروں میں تو اب نظر آتی ہے، اسے انٹر سٹی تک پھیلا یا جائے۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اوپر درج کردہ مشکل حالات میں بھی عوام کو فائدہ پہنچانے کے پروگرام جرات سے بنائیں۔ مشکل سیکیورٹی حالات کے ہوتے ہوئے بھی ہمیں اپنے ملک کو فلاحی ریاست میں ڈھالنے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ درحقیقت، مشکلات میں گھرے پاکستان کو فلاحی ریاست میں بدلنا عظیم کارنامہ ہوگا۔