آئزک… سو لفظوں کی کہانی- مبشر علی زیدی

’’آپ کی کہانیاں سو ہی لفظوں کی کیوں ہوتی ہیں؟‘‘
اس نوجوان نے پوچھا۔
’’اس لئے کہ میں سو سال جینا چاہتا ہوں۔‘‘
میں نے بات بنائی۔
وہ مجھے آرٹس کونسل میں ملا تھا۔
’’آپ کے ساتھ یاد گار تصویر کھنچوانا چاہتا تھا۔‘‘
اس نے فرمائش کی۔
بعد میں اس تصویر کو اس نے اپنا فیس بک کور بنا لیا۔
پھر اس نے بھی کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔
چند دن پہلے اس کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا۔
اخبار میں یہ خبر یوں شائع ہوئی:
’’تیس لفظوں کی کہانیاں لکھنے والے نوجوان آئزک عمر ٹریفک حادثے میں جاں بحق۔‘‘