یونیورسٹی کا متوسط طبقہ اور سیاسی اپر کلاس - ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ظفر معین ناصر نے ایک فکر انگیز اور اچھی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کی طالبات کا پوزیشن لینا قابل ستائش ہے۔ یونیورسٹی میں پھر طالبات بازی لے گئی ہیں۔

یہ تو ہمیشہ سے ہوتا ہے ایک زمانہ تھا کہ طلبہ بازی لے جاتے تھے۔ اب طالبات نے انہیں بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے کئی برسوں سے طالبات طلبہ سے بہت آگے ہیں۔ طالبات محنت کرتی ہیں۔ اپنا وقت بے کار قسم کے مشاغل میں ضائع نہیں کرتیں۔

وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے یہ بات ایک نمائندہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی اور سماجی طور پر آگے لے جانے میں یونیورسٹی بہت بڑا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس میں متوسط طبقے کا بہت بڑا رول ہوگا۔ یونیورسٹی میں متوسط طبقے کی نمائندگی بہت بڑی نمایاں اور اہم ہے۔ طلبہ و طالبات بیشتر مڈل کلاس کے ہوتے ہیں۔ امیر گھروں سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات کی تعداد بہت کم ہوتی ہے بلکہ اساتذہ بھی زیادہ تر متوسط طبقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

پروفیسر ظفر معین ناصر نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے مقابلے میں طالبات امتحانات میں اچھی پوزیشن حاصل کرتی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے یہ بھی بہت پتے کی بات کی ہے کہ اب تو ہر شعبے میں خواتین آگے بڑھ رہی ہیں۔ یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہ وقت قریب ہے کہ یہ کہا جائے گا کہ پنجاب یونیورسٹی برائے طالبات، یونیورسٹی میں لیڈی پروفیسرز بھی بہت ہیں بلکہ اب انہیں بھی صرف پروفیسر کہا جاتا ہے۔ صدر شعبہ کے لئے بھی ان کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ البتہ وائس چانسلر کے طور پر ابھی کوئی خاتون نہیں آئی۔ شعبہ ابلاغیات کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نوشینہ قابل ذکر ہیں۔

نوائے وقت میں ایک بہت زبردست تصویر شائع ہوئی ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ آصف ایک دروازے کی اوٹ میں چھپے ہوئے کھڑے ہیں ان کے ہاتھ میں کچھ نوٹس ہیں اور وہ بغور ان کا مطالعہ کر رہے ہیں بلکہ انہیں زبانی یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اپنی نااہلی سے پہلے نواز شریف صدر اوباما سے ملتے ہوئے باادب بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھ میں کچھ چٹیں ہیں جنہیں دیکھ دیکھ کر وہ بات چیت کر رہے ہیں۔ آخر نوازشریف خواجہ آصف کے لیڈر ہیں۔

برادرم فاروق ستار کو بات کرتے ہوئے ذرا سی احتیاط کی ضرورت ہے۔ لفظوں کے انتخاب پر توجہ کریں اور کسی موازنے کیلئے دیکھ لیا کریں کہ مشابہت یا مطابقت ٹھیک ہے۔
انہوں نے کراچی کی صورتحال کو برما کے مظلوم روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے برابر قرار دیا ہے جو کچھ وہاں ہوا وہ پاکستان میں نہیں ہوتا۔ سنگین صورتحال بنانے میں کراچی کے مہاجر لیڈروں اور سیاستدانوں کا بڑا حصہ ہے۔ قتل و غارت کی ابتدا الطاف حسین کی غیر ملکی قیادت میں شروع ہوئی تھی کراچی میں بھی قتل عام اس طرح کبھی نہیں ہوا جو برما میں ہوا ہے۔ فاروق ستار دوست ہیں ان کا احترام ہے وہ بھی سچائی کی پہچان کریں۔ اور بات کرتے ہوئے سیاست کے پردوں سے باہر بھی آئیں۔ ہم انہیں ایک معتدل اور مناسب لیڈر سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے لیڈر ہیں۔ صرف کراچی کے نہیں اور صرف مہاجروں کے لیڈر نہیں ہیں۔ اپنی حیثیت کا خیال کریں۔ لگتا ہے کہ نوازشریف کی جانشین مریم نواز ہیں۔ انہوں نے بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلائی ہے۔ اس کے بعد لاہور کے بڑے بڑے اپنے تئیں لیڈر بنے ہوئے سیاستدانوں کو مایوسی ہوئی ہے کئی سینئر لوگ مریم نواز کے پیچھے پیچھے کبھی سر جھکائے کبھی سر اٹھائے نظر آتے ہیں کہ ن لیگی سیاست پر ترس آتا ہے۔ یہ سیاسی اپر کلاس ہے۔

پرویز ملک تو مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر ہیں۔ انہیں میں نے مریم نواز کی قیادت میں ایک معزز کارکن کی طرح دیکھا تو بڑا مزا آیا؟
مریم نواز نے بھی اپنی تقریر میں اہم اور متحرک عورتوں کا ذکر کیا۔ ان میں شائستہ پرویز ملک کا نام بھی تھا مگر پرویز ملک کا نام نہ تھا۔ البتہ مریم نے خاص طور پر عمران نذیر کا ذکر کیا اور بہت شکر گزار لہجے میں کیا۔ تو خوشی ہوئی۔ ’’حق بہ حقدار رسید‘‘ لگتا ہے کہ کلثوم نواز الیکشن نہیں بلکہ مریم نواز الیکشن لڑ رہی ہیں۔ اس میں کیا راز ہے کہ نوازشریف اپنا جانشین تو مریم نواز کو بنانا چاہتے ہیں۔ اور ٹکٹ کلثوم نواز کو دے دیا ہے۔ عارضی وزیراعظم خاقان عباسی کے بعد اب وزیراعظم کسی سینئر شخصیت کو ہونا چاہئے کلثوم نواز بہرحال نوازشریف سے اچھی وزیراعظم ہونگی۔ کم از کم نااہل تو نہیں ہونگی وہ زیادہ سے زیادہ چند مہینوں کے لئے ہونگی۔ باقاعدہ وزیراعظم تو مریم نواز کو ہونا ہے؟

مجھے لگتا ہے کہ کلثوم نواز کے لئے الیکشن کمپین مریم نواز کو لیڈر بنانے کا ایک بہانہ ہے اور نوازشریف ، شہبازشریف کو اپنا لیڈر ماننے والے چودھری نثار کے خدشات اور تحفظات اپنی جگہ غور طلب ہیں۔