دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے سے بڑھ کر کام کیا۔
غیر ملکی میڈیا اداروں کے نمائندوں کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مسئلے کے پرامن حل کیلیے اس خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں زیادہ پرعزم ہے، پاکستان امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کیلیے تیار ہے کیونکہ دونوں ممالک کے تعلقات کئی دہائیوں پر مشتمل ہیں اور انہیں صرف مسئلہ افغانستان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا مسئلہ بلاشبہ پاکستان کیلیے باعث تشویش ہے اور اس کے حل کیلئے ہم نے بہت کچھ کیا ہے اور اسے شکست دی ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ وہ میرانشاہ کا دورہ کریں اور خود اس بات کا مشاہدہ کریں کہ پاکستان کہ فوج نے کس طرح دہشتگردی کیخلاف جنگ میں عظیم قربانیاں پیش کرتے ہوئے علاقے کو کلیئر کیا ہے۔

وزیراعظم نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے سرحدی علاقوں کے ساتھ شمالی وزیرستان بھی ویسا ہی علاقہ ہے تاہم انٹرنیشنل سیکیورٹی اسسٹنس فورس (ایساف) نے وہاں کیا حاصل کیا؟ پاکستان مشترکہ گشت اور چوکیوں کیلئے تیار ہے، ہم نے افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد پر باڑ لگائی ہے اور اگر دوسری جانب سے ایسا کیا جاتا ہے تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔ دوسری جانب سے دہشت گردوں کی موجودگی، پاکستانی سرحدی علاقوں پر حملوں کے حوالے سے پاکستان کے خدشات دور کرنے کی ضرورت ہے، سرحد کی دوسری جانب سے بہت کچھ ہو رہا ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: پاکستان پر پابندی یا فوجی امداد میں کٹوتی امریکا کیلیے نقصان دہ ہو گی، وزیراعظم
وزیراعظم پاکستان نے اس تاثر کو یکسر رد کر دیا کہ حملے پاکستانی علاقے سے کیے جاتے ہیں اور انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں حکومت کی اچانک تبدیلی کے بعد نئی حکومت نے ایک ہفتے کے اندر کام شروع کیا اور اب معاملات معمول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔ میری حکومت کا مینڈیٹ جمہوری عمل کو مکمل کرنا اور جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہے۔ ملک میں جمہوری نظام وقت گزرنے کیساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے، ریاستی اداروں کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔

وزیراعظم نے اس امر کو سختی سے رد کیا کہ ملک میں جمہوریت پٹڑی سے اتر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کے بارے میں بحث زور پکڑ سکتی ہے لیکن بالآخر یہ معاملہ طے پا جائے گا۔ ’’برکس‘‘ اعلامیے کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ بیان پاکستان کیلیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں بعض کالعدم تنظیموں کے بارے میں بات کی گئی ہے۔ کالعدم تنظیموں کے حوالے سے پاکستان اور چینی حکومتوں کی پالیسی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ خارجہ پالیسی حکومت کے تابع ہے اور فوج حکومت کا حصہ ہے۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت نے کم سے کم افراط زر کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام کامیابی سے مکمل کیا ہے، اب ہمیں آئی ایم ایف سے رجوع نہیں کرنا پڑے گا، توقع ہے کہ حکومت اپنے معاشی اہداف حاصل کرے گی۔ اسٹاک ایکسچینج بھی آنے والے دنوں میں اوپر جائیگی جب کہ موجودہ اقتصادی مسائل یقیناً ایک چیلنج ہیں لیکن ہم ان سے نبردآزما ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ روپے کی قدر میں کمی نہیں کی جا رہی۔

پاک امریکا تعلقات میں اتارچڑھاؤ سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور عسکری تعلقات استوار ہیں جو مزید مضبوط ہوں گے۔ امریکا نے صدر ٹرمپ کے افغانستان اور جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی بیان سے پیدا ہونے والے بعض تاثرات کو واضح نہیں کیا۔ پاکستان ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور امریکی کمپنیوں کیلیے یہاں اربوں ڈالر کے مواقع ہیں۔ ہم دہشت گردی کیخلاف امریکا کیساتھ ملکر کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور اگر دونوں ممالک کو کوئی تحفظات ہیں تو اسے دور کیا جانا چاہیے۔ ہم ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی اسی کی توقع رکھتے ہیں۔
لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ پرامن تعلقات قائم رکھنے کیلیے کوششوں کا خیر مقدم کیا اور وہ اس مسئلے کو پرامن طور پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ ہم اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں اپنا نکتہ نظر اجاگر کریں گے جس میں افغانستان اور بھارت کا احاطہ کیا جائیگا۔ عالمی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ دنیا کے بڑے دارالحکومتوں کا دورہ کر رہے ہیں جہاں ان ممالک کی قیادت کے ساتھ صدر ٹرمپ کا بیان بھی زیر بحث آئے گا۔ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کی ثالثی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس معاملے کو دو ممالک کے درمیان کے طور پر دیکھتے ہیں۔