بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا - حافظ عبدالباسط رحمانی

’’سیتارام پورام‘‘ بھارت کے صوبہ آندھراپردیش کے شہر "ماچھیلی پٹنام" کا پسماندہ گاؤں ہے۔ 1992ء میں اس گاؤں کے ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ بیٹے کی پیدائش کی خوشی اس وقت کافور ہوجاتی ہے، جب یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ بچہ تو پیدائشی نابینا ہے۔ بچے کا نام’’ "سری کانت بولا‘‘ رکھا جاتا ہے۔ غربت اور علاقائی روایات کے مطابق ڈس ایبل بچہ والدین کے لیے بوجھ سمجھا جاتا ہے، لہذا اکثر و بیشتر ایسے پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے۔ غریب باپ نے روایات کے سیل رواں میں ڈوبنے کی بجائے اس کے آگے بند باندھنے کا فیصلہ کر لیا۔ باپ نے اس کی انگلی پکڑ لی، اور زندگی کی کٹھن شاہراہ پر ڈال دیا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے عام سکول میں داخل کروایا، لیکن سری کانت عدم توجہ کا شکار رہا۔ باپ نے نابیناؤں کے سکول میں داخل کروا دیا۔ جہاں سے میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں میں پاس کرلیا۔ اگلا مرحلہ انٹر میڈیٹ کا تھا، سری کانت سائنس پڑھنا چاہتا تھا، لیکن بینائی سے محرومی داخلے کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ اس نے ہمت ہارنے کی بجائے اس تصور کو بدلنے کی ٹھانی کہ "سائنس صرف آنکھوں والے ہی پڑھتے ہیں"۔ عدالت میں رٹ دائر کی اور چھ ماہ کے اندر فیصلہ اس کے حق میں ہو گیا۔ ایف ایس سی کے امتحان میں 98 فیصد نمبر لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی

۔ سری کانت" بولا" ابھی اس سے بھی آگے جانا چاہتا تھا، وہ انجینئرنگ کرنا چاہتا تھا، اس کے لیے اس نے انڈین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی طرف رخت سفر باندھا، لیکن یہاں بھی اس کی معذوری راستے کا پتھر بن کر آڑے آگئی۔ اس نے دوبارہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا، لیکن اس انسٹیٹیوٹ کی تاریخ نہ بدل سکی، ایک نابینا ہونہار نوجوان کو داخلہ نا مل سکا۔ "سری کانت بولا" ہمت ہارنے والا نہیں تھا، قدرت اس پر مہربان ہوئی، اور اس کی خبر امریکہ کے "میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی)کی انتظامیہ کو ہو گئی۔ انہوں نے مکمل وظیفہ پر اس نابینا طالب علم کو داخلہ دے دیا۔ ایم آئی ٹی نے تاریخ بدل ڈالی، پہلی مرتبہ کسی نابینا غیر ملکی طالبعلم کو انسٹیٹیوٹ میں مکمل وظیفہ پر داخلہ ملا۔ "سری کانت بولا" نے بزنس مینیجمنٹ کی تعلیم لی۔ 2012ء میں گریجویشن کی تکمیل کے بعد اس نے اپنے وطن کی راہ لی۔

یہ بھی پڑھیں:   شکوہ کریں تو کیوں؟ - مصباح الامین

"بولا" زندگی کے اس کٹھن سفر میں بہت کچھ سیکھ چکا تھا۔ اس نے بھارت میں اپنے جیسے معذور افراد کا سہارا بننے کی ٹھانی۔ حیدرآباد سے عملی زندگی کا سفر شروع کیا۔ بریل پرنٹنگ پریس کا آغاز کیا، جہاں مختلف طرح کے معذور افراد کے لیے تعلیمی مواد کی پرنٹنگ کا کام شروع کیا۔ 2012ء میں "بولانت انڈسٹریز" کے نام سے نیا کاروباری سلسلہ شروع کیا۔ اس میں ردی کاغذات اور پتوں کی ری سائیکلنگ کے بعد پیکنگ میٹیریل کی تیاری کا کام شروع کیا گیا۔ بھارتی کھرب پتی "رتن ٹاٹا " نے "بولا" کی کمپنی میں سرمایہ کاری کی، اور دیکھتے ہی دیکھتے کمپنی نے ترقی کی منازل طے کرنا شروع کردی۔ اس کمپنی کی خاص بات اس کے ملازمین ہیں، جن کی تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، اور تمام ملازمین کسی نا کسی معذوری کا شکار ہیں۔ اس کمپنی کے اس وقت چار مراکز آندھراپردیش، تلنگانہ اور کرناٹک میں قائم ہو چکے ہیں۔ صرف چار سال کے عرصہ میں کمپنی کی مالیت 50 کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے ۔فوربس میگزین کی 2017ء کی ایک رپورٹ کے مطابق "سری کانت بولا" ایشیاء کے ان تیس نوجوانوں میں سے ایک ہے، جن کی عمر تو 30 سال سے کم ہے، لیکن وہ مینوفیکچرنگ، انڈسٹری یا انرجی کے شعبے میں کسی بڑی کمپنی کے مالک ہیں۔ جبکہ "بولا" کی عمر ابھی 25 سال ہے۔

ہمارے پڑوسی ملک کا رہائشی یہ ہونہار نوجوان ایک مثال ہے آج کے نوجوانوں کے لئے، جو ذرا سی رکاوٹ کے بعد ہمت ہار بیٹھتے ہیں۔ "بولا" اور اس جیسی کئی مثالیں آئے روز ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ "سری کانت بولا" بھی اسی مٹی کا خمیر ہے، نارمل شخص بھی نہیں، بلکہ ایک معذور نوجوان ہے۔ لیکن معذوری اس کے جذبے کی راہ میں حائل نا ہوسکی۔ "بولا" کی کامیابی کے عوامل پر غور کریں، تو یوں نظر آتا ہے کہ وہ ایک نوجوان تھا اور محنت کے جذبے سے بھرپور تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ کسی بھی قوم وملک کی کامیابی وناکامی، فتح وشکست، ترقی وتنزل اور عروج وزوال نوجوانوں کی مرہون منت ہے۔ ہر انقلاب چاہے وہ سیاسی ہو یا اقتصادی، معاشرتی سطح کا ہو یا ملکی سطح کا، سائنسی میدان ہو یا اطلاعاتی ونشریاتی میدان، غرض سبھی میدانوں میں نوجوانوں کا کردار نہایت ہی اہم اور کلیدی ہوتا ہے۔ تاریخ انسانی کے تمام تر نمایاں کارناموں کو بغور دیکھا جائے تو، مرکزی کردار نوجوان کا ہی نظر آتا ہے۔ نوجوان جذبوں کا امین، حوصلوں کا پاسبان، صلاحتیوں کا پیکر، امنگوں کا ترجمان، قوت کا نشان، جفاکشی کی علامت، بلند پروازی کا آئینہ دار اور عزم کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ کسی دانا کا قول ہے ”اس قوم کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی جس قوم کے نوجوان ذمے دار اور محنتی ہوں، اور کسی قوم کی بربادی کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس قوم کے نوجوان بے فکرے اور کاہل ہو جائیں“۔

یہ بھی پڑھیں:   محنت ہے نام جس کا - مصباح الامین

تاریخ گواہ ہے کہ ہر انقلاب میں نوجوان طبقے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوانوں میں کام کرنے کا جذبہ اور انقلاب لانے کی امنگ ہوتی ہے۔ یہ مضبوط عزم اور بلند حوصلہ ہوتے ہیں۔ ان کی رگوں میں گرم خون اور سمندر کی سی طغیانی ہوتی ہے۔ یہ پہاڑوں ایسی ہمت رکھتے ہیں۔ ان کی قابلیت و ذہنی صلاحیتیں انھیں حالات کا رخ موڑ دینے، مشکلات جھیلنے اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ ساتھ وقت اور جان و مال کی قربانی دینے کا ذہن اور حوصلہ عطا کرتی ہیں اور ان کو وقتاً فوقتاً اس کے لیے ابھارتی رہتی ہیں۔ وطن عزیز میں بھی نوجوان کل آبادی کا ایک تہائی ہیں، جو کہ ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ یہاں بھی کئی ایسے ہونہار سپوت موجود ہیں، جو وقت کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف ضرورت ہے اس امر کی کہ، ہمارا نوجوان اپنی صلاحیتوں کو زیر استعمال لانا سیکھ لے، اور محنت کا عادی بن جائے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے حالات کا شکوہ کرتے رہنے سے کچھ بھی ہاتھ نہ آئے گا، کیونکہ انسان پتھر تو نہیں کہ بے حس و حرکت پڑا رہے، درخت بھی نہیں کہ ایک جگہ گڑا رہے، دیوار نہیں کہ ایک جگہ کھڑا رہے، مٹی کا ڈھیلا بھی نہیں کہ اڑا رہے اور نگینہ بھی نہیں کہ جڑا رہے، یہ تو انسان ہے، اس کی زندگی کا مقصد تو یہ ہے کہ، خود بھی پھلے پھولے اور محنت کرکے اپنی زندگی بھی قائم رکھے اور خلق خدا کو بھی فائدہ پہنچائے۔