عالم اسلام برما میں آخری مسلمان کے خاتمے کا منتظر؟ - سلمان اسلم

میں پچھلے کچھ دنوں سے انتہائی تکلیف میں ہوں اوریہ میری ذاتی تکلیف ہے، جو کسی کی دی ہوئی نہیں ہے بلکہ میرا اپنا دکھ ہے۔ اس دکھ اور تکلیف کے ذکر کا مقصد ہرگز کسی سے ہمدردی کا حصول نہیں بلکہ ایک اہم نقطے کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے۔

میں رات کی ڈیوٹی کرتا ہوں۔ صبح کے آخری گھنٹے میں سارے دفتری کام سمیٹ لیتا ہوں، کوئی انفارمیشن آگے پہنچانی ہو، کوئی انکوائری یا حادثے کی روداد دینی ہو، ان سب کو ایک رپورٹ کی صورت میں انفارمیشن بک میں درج کر کے تیار کر لیتا ہوں تاکہ اس ذمہ داری کا چارج دوسرے ہاتھ میں دیا جا سکے۔ اس لیے سوشل میڈیا پر بھی اپنی ذمہ داری کو سیمٹتا ہوں، میں نے جہاں تحریر لکھنی ہو کسی فکری مقصد کے لیے تو وہ کر لیتا ہوں اور جن کو اہم میسج کرنے ہوں تو وہ بھی ساتھ ہی کرتا ہوں۔

آج حسب معمول تمام کاموں سے فارغ ہوگیا تو میں جاتے جاتے آخر میں فیس بک پر کسی دوست کی اک پوسٹ پر نظر پڑگئی جو کہ 'خبریں' اخبار سے ایک حصہ کاٹ کر پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس میں سرخ لائن سے سرکل کیے گئے جملے نے مجھے اس پوسٹ پر روک دیا۔ حیرانی کی انتہا تھی جب پڑھا کہ "عالم اسلام برما میں آخری مسلمان کے ختم ہونے کا انتظا کر رہے ہیں " اخبار کو سرچ انجن پر ڈالا، وہاں سے 9 ستمبر 2017 کا اخبار صفحہ نمبر چھ تلاش کیا۔ وہ کہانی ایک مسلمان بہن کی اپنی روداد تھی، بربریت سے وہ داستان جس سے شاید جانور بھی نہ گزر پائے۔ وہ کہانی سامنے چند چیدہ چیدہ الفاظ میں مختصرا پیش کرتا ہوں۔

"فاطمہ نامی بہن جس کا تعلق برما سے تھا۔ والد مسجد کے امام، پرہیز گار اور حافظ قرآن تھے۔ صبح کے وقت والد مدرسے میں طلباء کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے اور میں نہانے کے لیے غسل خانے روم گئی ہوئی تھی کہ ایک دم سے دروازے پر دستک کی آوازیں آئی۔ کچھ لوگ اندر داخل ہوئے جن کے آنے کا شور کچھ عجیب سا تھا اور پھر گولیوں کی فائرنگ۔ میں حواس باختہ ہی تھی کہ کمرے سے چیخنے چلانے کی آوازیں آنے لگیں، یہ میری والدہ کی آواز تھی۔ میں ابھی کھڑے پہن ہی رہی تھی کہ ایک برمی درندہ واش روم کا دروازہ کھول کر زبردستی اندر آ گیا اور جو کپڑا بدن پر ڈالا تھا، بندوق کے نالی سے ہٹا دیا۔ ابّا کی بات یاد آ گئی کہ صاحب ایمان بیٹیاں بہادر ہوتی ہیں اور حالات کا مقابلہ دلیری سے کرتی ہیں۔ ایک دم سے میں نے قریب رکھا کپڑوں کا برتن اٹھایا اور اس حرام زادے پر چڑھ دوڑی۔ اس کمینے کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ 14 سال کی لڑکی اس پر یوں وار کرے گی۔ چوٹ اس کے سر پر لگی اور وہ اٹھ ہی نہ سکا لیکن اس دوران غسل خانے کے باہر کھڑا دوسرا درندہ گھس آیا اور بندوق کے بٹ سے میرے سر پر وار کیا۔ میں گرگئی، وہ اپنے بوٹوں سے مجھے لاتیں مارتا رہا۔ پھر دھکیلتا ہوا باہر لایا اور اپنے ساتھیوں کو چلّا کر کہا لے چلو اسے! اب اس سے ہم اپنی نسل پیدا کریں گے۔ جب ہوش آیا تو میں نے خود کو ایسی جگہ پایا جہاں میرے جیسی اور مجھ سے بھی چھوٹی لڑکیاں بے لباس زمین پر پڑی تھیں۔ خون کے سرخ نشانات ان کے جسموں پر تھے۔ مجھے اپنے درد کا احساس ہوا اور اٹھنے لگی تو بے اختیار ہاتھ سینے تک اٹھ گیا، ہاتھوں سے ہی ڈھانپ لیا۔ پانی طلب کیا تو نزدیک کھڑے درندہ لپکا اور میرے اوپر پیشاب کرتے ہوئے بولا یہ پیو پانی۔ پھر میری عصمت پامال ہوئی، وہ ختم ہوا تو نجانے کتنے درندوں کے ہاتھ لگی۔ دل میں بس ایک خواہش تھی کہ ایک کپڑے کا ٹکڑا میسر آ جائے، اتنا کہ میں جسم پر ڈال کر نماز پڑھ لوں۔ لیکن ایسا ممکن نہیں تھا۔ جسم پاک نہیں تھا کیونکہ روز ہمیں نجاست سے گزرنا پڑتا۔ وہاں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ لڑکیاں تھیں جن میں سے 90 بن بیاہے بچوں کو بھی جنم دے چکی تھیں۔ ان میں سے ایک وہ بھی تھی جس نے ایک بچے کو جنم دیا، وہ خود جسمانی طور رپ اتنی کمزور دی کہ بچے کو دودھ تک نہ پلا سکی۔ اس کا بچہ بھوک کی نظر ہو گیا۔ تب جو بدھ دائی آیا کرتی تھی اس نے کہا کہ ان کا کھانے کا نظام بدلوں، یہ کمزور ہیں بہت۔ پھر ہمیں کچھ بہتر کھانا ملنے لگا۔ ان کے ایک بدھ رہنما نے انہیں کہا تھا کہ ہم اپنی بدھ نسل ان سے بڑھائیں گے۔ پھر انسانی حقوق کی کوئی تنظیم آ گئی جس نے ہمیں اس جہنم سے نکالا۔ ان بدھوں نے ہم سب لڑکیوں پر ایک شرط عائد کی کہ وہ اپنے بچے چھوڑ دیں گی۔ بہت سی لڑکیاں ضد پر اڑ گئیں، جس پر انہیں جانے نہیں دیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ جس تنظیم نے ہمیں وہاں سے نکالا تھا، دراصل ہمارے پیسے ادا کیے تھے، ہمیں قیمت پر لیا گیا تھا اور تھائی لینڈ لے آئے۔ میں بچے کی پیدائش اس کے مرنے کے صدمے سے ابھی نکلی نہیں تھی کہ ایک مہینے بعد پھر حمل ہوگیا تھا جس کا تنظیم والوں نے اسقاط کرایا۔ ہمیں ایک اچھا ہوٹل میں رکھا گیا، اچھا کھلایا پلایا گیا اور پھر ۔۔۔۔ جسم فروشی کے دھندے پر لگا دیا گیا۔ ہم ان کے لیے پیسہ کمانے لگے۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ اس دن برمی درندوں نے مدرسے کو آگ لگائی تھی جس میں سب جل کر خاکستر ہو گئے تھے اور پورا گاؤں بھی برباد کردیا۔ میں آج پوچھتی ہوں عالم اسلام سے کہ کیا آپ سب برما میں آخری مسلمان کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟"

یہ بھی پڑھیں:   معصوم تصاویر - جویریہ ذاکر

اس قیامت خیز داستان کے بعد میں میرے لیے اپنے احساسات پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا۔ دنیا کے کسی کونے میں، کسی ملک میں کسی کو کانٹا چبھنے کا احساس ہوا اور نہ ہی ہمارے مسلم امت کے دعویدار رہنماؤں کے حلق میں نوالہ پھنسا۔ ہے نا حیرت کی بات کہ کل امریکہ کی ایک ریاست میں طوفان آیا تو مدد کے لیے سب سے پہلے ہمارے عرب آگے آئے۔ برما میں اس قیامت خیزی پر کسی کی آنکھ تک نم نہ ہوئی، ہمدردی کے دو بول ادا کرنے کی توفیق بھی کسی کو نصیب نہ ہوئی۔ ہم سے زیادہ تر غیرت مند خواجہ سرا ہیں کہ جب ان کے کسی ساتھی پر کہیں ظلم ہوتا ہے تو کم تعداد کے باوجود بھرپور احتجاج کرتے ہیں، ہمیں تو یہ توفیق بھی نہیں ملتی۔

کبھی مدد کی پکار پر محمد بن قاسم پورے علاقے کو کفر سے آزاد کرا دیتا تھا لیکن آج تخت پر موجود حاکموں کو بھونکنے کی توفیق بھی نہیں، عملی اقدامات کون اٹھائے گا؟

مسلمانوں کی عصمتیں تار تار ہو رہی ہیں اور ہم میلاد منانا جائز ہے یا نہیں کی بحثوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ہمیں علم ہی نہیں کہ چنگیز خان کی نسل میانمار میں ہماری برادری کے گلے کاٹ رہی ہے، ندیوں کاپانی سرخ ہو چکا ہے لیکن غیرت مسلم کہیں زندہ درگور ہو چکی ہے۔ واقعی لگتا ہے کہ عالم اسلام برما میں آخری مسلمان کے خاتمے کا انتظار کر رہا ہے۔