لائیکس کا چسکا - عثمان آفریدی

کمرہ اونچی آواز میں لگے گانوں سے گونج رہا تھا۔ صباء موبائل فون ہاتھ میں لیے کسی سے ٹیکسٹ پر بات کر رہی تھی۔ موسیقی اور گپ شپ ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ وہ اچانک کھڑی ہوئی اور موسیقی کی آواز کم کر کے میرے پاس آئی۔

"سلمیٰ!یار صائمہ کے بھائی ایک حادثے میں انتقال ہوگیا ہے۔ بہت دکھ ہوا، دل رو رہا ہے۔ پتہ نہیں اس بےچاری پر کیا گزری ہو گی؟ ان کا ایک ہی بھائی تھا۔"

کچھ دیر بعد اس نے واٹس ایپ پر پیغام بھیجا کہ "میری پیاری بہن اور بہترین دوست! تمہارے بھائی کا سن کے بہت دکھ ہوا، میرا دل رو رہا ہے۔ کاش میں ابھی اس غم اور دکھ کی گھڑی میں تمہارے ساتھ ہوتی، تمہیں حوصلہ دیتی۔ لیکن میں تمہارے میں برابر کی شریک ہوں 😢😢"

اس کے بعد فیس بک پر اسٹیٹس لگایا " میری بہت قریبی دوست کا بھائی ایک حادثے میں وفات پا گیا ہے، اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور ان کے گھر والوں کو صبر جمیل دے" ۔ نیچے لوگوں کی "آمین" اور "انا للہ" شروع ہوگئی۔

پھر انسٹاگرام کی باری آئی، جہاں صائمہ کے بھائی کی تصویر لگا کر لکھا کہ " میری دوست کا یہ پھول سا بھائی آج ہمیں سوگوار چھوڑ گیا، میرے گھر میں بہت ہی سوگوار ماحول ہے۔ دعاؤں میں یاد رکھیں "

یہ تمام "فرائض" انجام دینے کے بعد صباء نے آواز لگائی، "سلمیٰ!ذرا آواز تو بڑھانا!"

پھر ایک مرتبہ پھر ٹیکسٹنگ شروع ہوگئی، گویا اپنے حصے کا کام ہو چکا ہو، دنیا کو بتا دیا، اس کے بعد آخر کیا رہتا تھا؟

"صباء آپی! آپ صائمہ کے گھر نہیں جائیں گی؟"

"نہیں یار، اتنی ہمت کہاں؟ شام کو علیشہ کے بھائی کی شادی پر بھی تو جانا ہے۔"

سوال ہے کہ کیا ہم فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام وغیرہ پر انتقال کی خبر دے کر اور تعزیت کے لائیکس اور شیئرز سمیٹ پر اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے آزاد ہو جاتے ہیں؟ یا اس کو بھی لائیک حاصل کرنے کے چسکے کا ایک آسان طریقہ سمجھتے ہیں؟