جوائنٹ فیملی سسٹم فائدہ مند یا نقصان دہ؟ - بنت طاہر قریشی

"جوائنٹ فیملی سسٹم،" بظاہر یہ جملہ سننے اور بولنے میں جتنا خوش کن اور فرحت آگین محسوس ہوتا ہے لیکن حقیقت دراصل اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی وجہ ہے ہمارے بیشتر خاندانی و عائلی مسائل کی جڑ اور وجہ یہی جوائنٹ فیملی سسٹم ہے۔ اگر میں"جوائنٹ فیملی سسٹم" کو " خوبصورت رشتوں اور ان کے مابین محبتوں کا قاتل سسٹم" کہوں تو یقیناً بے جا نہ ہوگا۔ اسی "جوائنٹ فیملی سسٹم"نے نجانے کتنے ایسے گھروں کا شیرازہ بکھیراہے، جہاں کبھی محبت و خلوص بھرا ماحول ہوا کرتا تھا اور نجانے کتنے ہی مٹھاس بھرے رشتوں میں تلخیوں اور نفرتوں کا نہ ختم ہونے والا زہر گھولا ہے۔

یہی وہ سسٹم ہے جو ساس بہو،نند بھاوج، دیورانی جیٹھانی کی چپقلش اور ان احترام بھرے رشتوں کے درمیان نفرت کی پیداوار کا سبب ہے۔

یہی وہ منحوس سسٹم ہے جو کبھی بیٹی کے اجڑ کر واپس میکے لوٹ آنے اور کبھی بہو کے جل کر مرجانے کا سبب ہے۔

خونی رشتوں میں نااتفاقی،دلوں کی رنجش،بغض، حسد اور عداوت بھی اسی سسٹم کی سوغات ہیں۔

یہی نہیں بلکہ ان دنیاوی قباحتوں اور نقصانات سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر اسلامی نقطہ نظر سے جوائنٹ فیملی سسٹم کو دیکھا اور پرکھا جائے تو تب بھی یہ صریح اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

مثال کے طور پر پردہ اسلام کا حکم ہے جس کی خلاف ورزی پر سخت عذاب وعقاب کی وعید ہے،لیکن اس سسٹم میں سب سے زیادہ خلاف ورزی اس حکم کی ہوتی ہے۔ ایک حدیث ملاحظہ فرمائیے نبی ﷺ کا فرمان ہے إیاكم والدخولَ على النساءِ . فقال رجلٌ من الأنصارِ : یا رسولَ اللهِ ! أفرأیتَ الحموَ ؟ قال : الحموُ الموتُ (صحیح مسلم:2172) ترجمہ : اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو، ایک انصاری نے عرض کیا: یا رسول اللہ حمو(دیور) کے بارے میں آپ ﷺکا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا کہ حمو(دیور) تو موت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   شکوہ کریں تو کیوں؟ - مصباح الامین

ذرا غور فرمائیے کہ یہ حدیث بتلاتی ہے ایسا خاندانی نظام ٹھیک نہیں ہے جس میں دیور و بھابھی کا اختلاط ہو کیونکہ دیور عائلی نظام کے لیے موت ہوا کرتا ہے۔ اس حدیث کو اگر آپ ہمارے معاشرے میں کثرت سے رونما ہونے والے افسوسناک اور عبرتناک واقعات پر منطبق کریں تو اس نظام کی قباحت و شناعت میں آپ کو کوئی شک واقع نہیں ہوگا۔ یہی نہیں بلکہ ہمیں دور نبوی اور صحابہ کے دور میں کہیں بھی جوائنٹ فیملی سسٹم کی کوئی مثال نظر نہیں آتی ۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سسٹم قرون اولیٰ نہیں بلکہ برصغیر پاک و ہند کی ثقافت ہے اور مسلمانوں نے دیگر ہندووانہ رسم و رواج کی طرح اس کو بھی اپنالیا بلکہ اتنا ضروری سمجھ لیا کہ اس کی مخالفت کرنے والا اور اس سسٹم کو ناپسند کرنے والا گویا ان کی نظر میں کبیرہ گناہ و قطع رحمی کا مرتکب اور والدین کا نافرمان ہے۔

صرف یہی نہیں اگر کوئی نوجوان اپنے گھر کو بچانے کے لیے اس نظام سے علیحدگی اختیار کرے تو وہ صرف والدین ہی نہیں بلکہ عزیز و اقارب کی نظر میں بھی ملزم کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ جس کے بعد اس کو انتہائی نامناسب رویوں یہاں تک کے والدین کی جانب سے قطع تعلقی کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے اور یہ رویہ مزید کئی نقصانات اور خرابیوں کی وجہ بنتا ہے۔

ہمارے سامنےپیغمبر صلی الله علیہ وسلم کے گھرانے کی مثال ہے، گیارہ ازواج مطہرات ہیں مگر سب کی سب الگ حجرات میں مقیم ۔ ان سے زیادہ اتحادو اتفاق اور محبت کا دعویدار اور کون ہوسکتا ہے؟

اگر مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم ) میں یہ قباحتیں اور برائیاں نہ ہوتیں تو یقیناً ہمیں اسی نظام کے تحت زندگی گذارنے کی تلقین کی جاتی کیونکہ اسلام کے عائلی قوانین واحکامات سے زیادہ جامع اور کوئی عائلی قانون نہیں۔ رشتوں کے تقدس اور احترام کا جتنا دعویدار دین اسلام ہے،اتناکوئی دوسرا مذہب نہیں ہے لیکن چونکہ ہمیں مشترکہ خاندانی نظام کے تحت رہنے سے نا تو صریحاً منع کیا گیا ہے نہ ہی اس نظام کی کلّی حمایت کی گئی ہے بلکہ افراد کے حقوق و فرائض (مثلاً میاں بیوی،والدین اولاد،بہن بھائی، دیگر اقرباء اور اجنبیوں کے)بتادئیے گئے ہیں اس لیے اگر کوئی"جوائنٹ فیملی سسٹم" کو اختیار کرتا ہے مگر تمام احکامات اسلامی ، غیر محارم رشتوں کے اختلاط سے پرہیز، تمام مشترکہ معاملات میں عدل و انصاف، ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کی مکمل پاسداری،اور تمام رشتوں کے مقام اور ان کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا وغیرہ، کی بقدر استطاعت رعایت کرتے ہوئے تو پھر ہم بھی اس"جوائنٹ فیملی سسٹم"کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس نظام کی مخالفت سے ہمارا مقصود رشتوں کے درمیان دوری نہیں بلکہ اس نظام میں موجود وہ نا انصافیاں و زیادتیاں اور غیر شرعی امور ہیں جو اس سسٹم کا جزو لاینفک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شکوہ کریں تو کیوں؟ - مصباح الامین

لہٰذا اگر جوائنٹ فیملی سسٹم ان سب خرابیوں سے پاک ہو تو یقیناً یہ کسی بھی خاندان کے لیے دنیا میں ہی اللہ کا انعام ہوتا ہے، لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر اس سے اجتناب اور اس کی مخالفت ہی میں دین و دنیا کا سکون اور بھلائی ہے۔