وزیراعلیٰ صاحب! یہ اسرائیل نہیں ہے - احسان کوہاٹی

دن بھر خبروں کی تلاش میں مارا ماری کے بعد سیلانی نے کام سمیٹا کمپیوٹر بند کیا اور خود کو حوصلہ دینے لگا، نہیں یار! حوصلہ رکھ، پریشان مت ہو، آج ایسا نہیں ہوگا، خیر رہے گی۔ تسلی دلاسوں کے بعد سیلانی نے اپنا بیگ کاندھے سے لٹکایا، پی کیپ سر پر جمائی، سن گلاسزسے آنکھوں کو ڈھکا اور شرٹ کے سارے بٹن بند کر کے راستے کی دھول مٹی کے دخول کے سارے راستے حتٰی المقدور بند کر کے اٹھ کھڑا ہو ا۔ اس نے دفتر کے ساتھیوں کو ہاتھ ہلاکر خداحافظ کہا اور نکلنے کو تھا کہ اس کی نظر میز پر رکھی امی کی دواؤں پر پڑگئی۔ وہ یہ چھوڑے جا رہا تھا۔ سیلانی نے جھٹ سے ہاتھ بڑھا کر دواؤں کی تھیلی بھی لی اوراللہ کا نام لے کر ایک پرعذاب سفر کی طرف چل پڑا۔

سیلانی کو گھر جانے کے لیے کراچی کے بدترین راستوں میں سے ایک راستے پر سے گزرنا ہوتا ہے ماری پور روڈ پر، آئی سی آئی کے اپنی نوعیت کے عجیب پل سے پہلے اسے جناح برج کے فٹ پاتھ پر اپنی مہارت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، کراچی بندرگاہ سے نکلنے والے وزنی کنٹینر وں سے لدے ٹرالر اس روڈ پر چوبیس گھنٹے ٹریفک قوانین کو روندتے رہتے ہیں ان ساٹھ ساٹھ فٹ لمبے وزنی ٹرالروں کی وجہ سے اس روڈ پرکسی کا بھی سفر ’’سفر آخرت‘‘ ہوسکتا ہے۔ یہ چلتے پھرتے عذاب نیٹی جیٹی کے موڑ سے ہی جناح برج کو جام کرنا شروع کر دیتے ہیں اوراس کا سبب آئی سی آئی پل کا وہ ٹریفک سگنل ہے جو پاکستان میں شاید ہی کہیں ہو۔ سیلانی کو نہیں یادکہ اس نے کسی پل پر ٹریفک سگنل دیکھا ہو۔ اس وجہ سے یہاں گاڑیوں کی قطاریں لگنامعمول ہے اس قطار سے بچنے کے لیے موٹرسائیکل سوار تین فٹ چوڑے فٹ پاتھ پر چڑھ جاتے ہیں لیکن سیلانی کی پریشانی یہ آئی سی آئی کا پل تھا، نہ اسے ماری پور روڈ پر اڑتی دھول مٹی کی کوئی پروا تھی۔ وہ اب اس کا عادی ہو چکا ہے کراچی کی سڑکوں پر بکھری غلاظت اور گڑھوں کو اہل کراچی اپنا نصیب سمجھ کرخاموش ہو چکے ہیں۔ انہیں یقین ہو چلا ہے کہ سندھ کی جیالی حکومت اور ماتم کناں حق پرست میئر نے اسے دنیا کا غلیظ ترین شہر بنا کر ہی چھوڑنا ہے۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ والے جلد ہی یہ اعزاز کراچی والوں کے نام کرنے والے ہیں۔

سیلانی دفتر سے نیچے اترا اور موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے گھر کی طرف چل پڑا صدر کے گنجان آباد علاقے سے برنس روڈ اور برنس روڈ سے آئی آئی چندریگر روڈ تک پہنچنے میں اسے کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی یا یوں کہہ لیں کہ کوئی نئی پریشانی نہیں ہوئی۔ وہ اپنے فولادی گھوڑے کا ایڑ لگاتاہواآئی سی آئی کے پل تک پہنچ گیا۔ آج حیرت انگیز طور پر کہیں ٹریفک جام نہیں ملا تھا۔ اس نے’’ پل عذاب ‘‘سے اسی رفتار میں موٹرسائیکل دوڑائی جیسے کوئی قبرستان میں پچھل پیری کو دیکھ کر دوڑتا ہے، پر اس کی یہ ساری رفتار پیپلز اسٹیڈیم تک پہنچتے پہنچتے دھری کی دھری رہ گئی۔ وہاں پر گاڑیاں واپس پلٹ پلٹ کر آرہی تھیں۔ یہ اس بات کی علامت تھیں کہ گلبائی کے پاس سائیٹ ایسوسی ایشن کے تعاون سے شہریوں کو اذیت دینے کا سلسلہ پورے اہتمام سے جاری و ساری ہے۔

سیلانی نے بھی واپس پلٹنے میں سیکنڈنہیں لگایااور جہاں سے آیا تھا ، دوبارہ اسی طرف چل پڑا۔ سیلانی اس بدنصیب علاقے میں رہتا ہے جہاں آج بھی ’’بھٹوزندہ‘‘ ہے۔ ماری پور کی اکثریت پیپلز پارٹی کے جیالوں کی ہے۔ یہاں سے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا تیراپنے ہدف پر پہنچتا رہا ہے، اس کے باوجود یہاں صرف ترقیاتی کاموں کی تختیاں پہنچتی رہی ہیں۔ پینے کے پانی سے لے کرسیوریج تک اورصحت کے مسائل سے لے کر صفائی ستھرائی تک ہر مسئلہ یہاں پوری شدت سے موجود تھا اور موجود ہے۔ سندھ کی جیالی اور حق پرست حکومتوں نے یہ مسائل ختم کرنے کے بجائے انہیں قومی ورثے کی حیثیت دے رکھی ہے اور صرف حیثیت ہی نہیں دی ان مسائل کی حفاظت بھی کی ہے۔ آج یہ سارے مسائل یہاں کی گلیوں سڑکوں پرننگے ناچ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا عذاب ہاکس بے روڈ کا بھی ہے جو خیر سے کل جس شدت سے تھا آج اسی شدت سے ہے اور سیلانی کی واپسی کا سبب یہی تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کا مقدمہ - حسیب عماد صدیقی

ہاکس بے روڈ ماری پور کو مرکزی شہر سے ملاتی ہے۔ یہی سڑک شہریوں کو ہاکس بے، سینڈز پٹ اور پیر اڈائز پوائنٹ کے ساحل تک پہنچاتی ہے۔ اسی سڑک کے ذریعے ایٹمی بجلی گھر کے ملازمین آتے جاتے ہیں۔ اس کے ایک طرف لیاری ندی غلیظ پانی لیے سمندری حیات کا صفایا کر رہی ہے اور دوسری جانب پاک فضائیہ کے ہوائی مستقر 'مسرور' کی دیوار ہے جس پر واضح لکھا ہوا ہے دیوار کودنے والے کوگولی مار دی جائے گی۔ ماری پور والے دائیں بائیں نہیں ہوسکتے۔ انہیں مجبوراً اسی روڈ پر ناک کی سیدھ میں چلناپڑتاہے۔ اگر یہ سڑک بند کر دی جائے تو ماری پور والوں کو مرکزی شہر تک پہنچنے کے لیے بیس کلومیٹر کا چکر کاٹ کر مواچھ گوٹھ والا ویران راستہ پکڑنا پڑتاہے جو ایک الگ عذاب ہے۔

ہاکس بے روڈ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں گلبائی کے پاس ایک نالہ فیکٹریوں کا پانی لے کر لیاری ندی جاتا ہے۔ برسوں عشروں سے صفائی نہ ہونے کے سبب یہ نالہ مٹی گارے سے لبالب بھر چکا ہے۔ اس کے روڈ کے نیچے سے گزرنے والے سیوریج پائپ کیچڑ سے مکمل طور پر بھر چکے ہیں۔ عید پر بارشوں کے بعد یہ نالہ سڑک پر آ کر ناچنے لگا۔ کمبخت نے ایک کلومیٹر کا روڈ ادھیڑکر رکھ دیا اور اس ایک کلومیٹر کی پٹی پرگہرے گڑھے پڑ گئے، جنہیں مٹیالے پانی نے لبالب بھر رکھا ہے۔ اس میں آئے دن موٹرسائکل سوار گر کر ہڈی جوڑ والے کے پاس پہنچتے رہتے ہیں، کئی کئی ٹن وزنی سامان سے لوڈ ٹرک ان گڑھوں کی وجہ سے اپنے ٹائی راڈ تڑواکر گھنٹوں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کے پیچھے ٹریفک کی سات سات کلومیٹر لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ حد تو یہ کہ ہفتہ آٹھ ستمبر کو ہاکس میں ڈوبنے والے بارہ افراد کی لاشوں کو اسپتال پہنچانے کے لیے بھی یہاں سے راستہ نہیں ملا، بمشکل چار لاشوں کو ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکالا۔ یہاں جب بھی ٹریفک جام ہوتا ہے بڑا ہی خوفناک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے جب سیلانی نے اس کم بخت نالے سے پانچ کلومیٹر دورہی ٹریفک کو پلٹتے دیکھا تو سمجھ گیا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ اس نے موٹرسائیکل گھمالی اور ابھی جا ہی رہا تھا کہ پیچھے سے ایک شناسا آواز آئی

’’اڑے بھائی کدھر؟ مسئلہ کیا ہے ٹریپک واپس کیوں آرہا ہے؟‘‘واجا ماری پور کا ہی رہائشی اور سیلانی کے شناساؤں میں سے ہے

’’وہی نالہ عذاب بنا ہوا ہے روڈ جام ہے‘‘

’’خدا حکومت کو اسی نالے میں غرق کرے، ہمارا زندگی عذاب بنا دیا ہے۔ آج شادی کے بعد میرا بچی گھرآیا ہے میں کیسے جاؤں ؟‘‘سیلانی کیا کہتا؟ سوائے افسوس کرنے کے، وہ کہنے لگا ’’تم اخبار میں خبر شبر دیو، مراد علی شاہ کو بولو، یہ ماری پور اسرائیل میں نہیں ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کا علاقہ ہے اگر یہی حال رہا تو الیکشن میں ووٹ لینے مت آنا۔ میرانام لکھ کر بولنا کہ کوئی پی پی پی کے لیے ووٹ لینے آیا تو شیر محمد ولیج والا اسی نالے میں سر پکڑ کر غوطہ ماری کرے گا ‘‘اس کے بعد واجا کے کہے جانے والے الفاظ وہ تھے، جو سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتے ہیں مگر کسی لغت میں نہیں ملتے اور نہ قابل اشاعت ہوتے ہیں۔

سیلانی واپس تو پلٹ پڑا لیکن اسے پریشانی تھی کہ والدہ کی دوائیاں اس کے پاس تھیں اور گھر پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ خیر، کیا کرتا؟ بکتا جھکتا چھوٹی بہن کے گھر پہنچا تو وہاں تالا منہ چڑا رہا تھا۔ سیلانی کے فون کرنے پر پتہ چلا کہ بچہ پارٹی کی ضد پروہ سند باد پلے لینڈ آئے ہوئے ہیں۔ سیلانی نے پھر موٹرسائیکل اسٹارٹ کی اور نیپا چورنگی کے پاس پلے لینڈ پہنچا۔ بہن سے گھر کی چابیاں لیں اور واپس آکر بیگ ایک طرف پھینکا اور جوتے دوسری طرف پھینک کر صوفے پر گر گیاوہ۔ سخت بدمزہ ہو رہا تھا۔

سیلانی نے تین دن پہلے ڈپٹی کمشنر غربی کواپنے سیل فون سے نالے کی تباہ کاریوں کی وڈیوفلم بنا کر بھیج دی تھی۔ انہیں فون پر ساری صورتحال سے آگاہ کیا تھا ماری پور والوں کی بے بسی اور پریشانی بتاتے ہوئے درخواست کی تھی کہ پلیز اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ کریں، ورنہ لوگ رُل جائیں گے۔ انہوں نے یقین دہانی بھی کرائی اور کہا کہ ایم ڈی سائیٹ سے ان کی بات ہوئی ہے۔ یہ نالا سائیٹ ایسوسی ایشن کی ذمہ داری ہے، وہی اس کو صاف کروائیں گے لیکن سائیٹ والوں نے اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوتی تو آج یہ حال ہوتا؟سیلانی نے اپنا سیل فون نکالا اور کمشنرکراچی اعجاز احمد خان سے رابطہ کرنے لگا پتہ چلا تھا کہ وہ حج پر گئے ہوئے تھے اور دو روز پہلے ہی واپس آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   قربانی کا فلسفہ - قدسیہ ملک

سیلانی نے ساری وڈیو بھیج کر معاملہ کی سنگینی بتائی۔ کمشنر کراچی درد دل رکھنے والے افسران میں سے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر میں ان کی کال آگئی، ساری صورتحال جاننے کے بعد وہ متحرک ہوگئے۔ ان کا ایس ایم ایس آیا کہ ایم ڈی سائٹ سے رابطہ ہو گیا ہے، اس نے کہا ہے کہ صفائی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ سیلانی ایم ڈی سائٹ کی یقین دہانی کو چیک کرنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ کمشنرصاحب کو شکریہ ادا کرکے فون ایک طرف رکھ کر سوچنے لگا کراچی کے ساتھ ایسا کیوں ؟کراچی کے شہری ان مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض ہوچکے ہیں۔ قائم علی شاہ کے بوڑھے اقتدار کے بعد مراد علی شاہ کے آنے سے سب ہی یہی سمجھے تھے کہ ان کیمراد بر آئی ہے لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ کراچی ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی کی باہمی چپقلش میں تباہ ہو نہیں رہا، تباہ ہو چکا ہے۔

جلتے کڑھتے ہوئے سیلانی نے ریفریجریٹر سے کھانا نکال کرگرم کیا، کھایا، چائے بنا کر پی اور آرام کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں بہن اور بچہ پارٹی بھی آگئی۔ سیلانی نے ان سے کچھ دیر گپ شپ کی اور شب بخیر کہہ کر سونے چلا گیا لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ادھڑے روڈ کا مسئلہ اک روز کا میں حل نہیں ہونا تھا۔ وہ پریشان تھا کہ کس طرح دفترآنا جانا کرے گا؟ اسی ادھیڑ بن میں رات کا جانے کون سا پہر تھا جب اس کی آنکھ لگی وہ کم ہی سو پایا، شاید دو تین گھنٹے ہی کہ صبح ہوگئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھا، بہن سے اجازت لے کر گھرکی طرف موٹرسائیکل دوڑانے لگا۔ وہ بیچاری ناشتے کا کہتی رہ گئی لیکن سیلانی نے معذرت کرلی۔ صبح سویرے روڈ پر رش کم ہوتا ہے، اسے امید تھی کہ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ سائیٹ ایسوسی ایشن کی غلاظت سے کسی نہ کسی طرح نکل جائے گا اور ایسا ہی ہوا وہ اطمینان سے ادھڑے ہوئے روڈ تک تو پہنچ گیا۔ ٹریفک کم ہونے کی وجہ سے اس عذاب سے گزرنے کے امکانات بھی خاصے روشن تھے۔ وہ وہاں رک کر جائزہ لینے لگا کہ ایم ڈی سائیٹ نے کوئی کام شروع کرایا ہے کہ نہیں؟ اسے وہاں وہی ابتر صورتحال دکھائی دی۔ نالہ اپنے کناروں سے اچھل اچھل کر سندھ حکومت کی گڈ گورنس پر بہہ رہا تھا۔ سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا ٹریفک پولیس کا سیکشن افسر سب انسپکٹر ریاض آنکھوں میں جگ رتے کی سرخی لیے کھڑا ملا۔ یہ اللہ کا بندہ اپنے تعلقات سے کئی بار ٹریکٹر منگوا کر گڑھے بھرواچکا ہے مگر بہتا پانی مٹی کہاں چھوڑتا ہے پھر کئی کئی ٹن وزنی ٹرک جب کسی عفریت کی طرح آگے بڑھتے ہیں تو ان کے پہیوں کی گردش سیکنڈوں میں مٹی نکال کر گڑھوں کا حجم بڑھا دیتی ہے۔ انسپکٹر ریاض نے سیلانی کی طرف دیکھا اور لاچارگی سے کہنے لگا’’بڑا براحال ہے، کل رات ایک بجے تک شیرشاہ سے آئی سی آئی تک سارا روڈ جام تھا۔ ہماری تو یہاں کھڑے کھڑے مت ماری گئی ہے۔‘‘

مت آپ کی نہیں عوام کی ماری گئی ہے جو جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پر چپ ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ یہی سزا ہے۔ یہ سزا نہیں ہے یہ تو سزا کا آغاز ہے، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ سیلانی نے یہ کہہ کر بائیک کو گیئر لگایا اوراللہ کا نام لے کر گڑھوں سے بھری سڑک پرچل پڑااو ر جاتے ہوئے سڑک پر بہتے نالے کے پانی کو دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ماری پور کے حوالے سے جو بھی خبر احسان کوہاٹی ,ا بو لخیر ,حسیب عماد صدیقی نے دی یہ قابل تحسین ہے مگر ہم بچے سے بڑے اور بڑے سے بڑھاپے کی حدود میں داخل ہو گے مگر یہ مسلہ جوں کا توں رہا اللہ کرے اقتدار اعلی کی بند آنکھ کھل جاے,اور ماری پور کے پیپلز پارٹی کو ووٹ وینے والی عوام کی بھی کہ بھٹو کے نام پہ کب تک اپنا احتصال کرواتے رہیں گے- فرح شاھد ,