تربیت کے لیے تربیت ضروری ہے - عبدالباسط ذوالفقار

دنیا میں آنے والے ہر انسان کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ تربیت کہتے ہیں پرداخت، یعنی سکھانے کو۔ دنیا میں آنے کے بعد اس کی پہلی تعلیم گاہ ماں کی گود ٹھہرتی ہے، جہاں سے وہ سیکھنا شروع کرتا ہے۔ گود تو کیا دنیا میں آنے سے پہلے ہی وہ بچہ والدین کے اثرات قبول کرنا شروع کر لیتا ہے۔

سائنس اس بات کا اقرار کرتی ہے کہ بچے کے ’’ڈی این اے ‘‘ میں والدین سے بہادری، شرم و حیاء، عادات، اچھے اخلاق جیسے اوصاف منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ بچہ کی بچپن میں جیسی تربیت کی جائے ویسی ہی بڑھاپے تک رہتی ہے کہ بچپن کی پچپن تک چلتی ہے۔ پھر یا تو باادب و بااخلاق اور بامہذب گردانا جاتا ہے یا پھرنالائق و بدتمیز سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ نالائق ٹھہرا تو ’’نااہل را چوں گرد گاں برگنبداست‘‘کہ نالائق کو تربیت کرنا ایسا ہے جیسے گنبد پر اخروٹ پھینکنا۔ پروندہ اگر تربیت یافتہ ہوگا توتربیت بھی اچھی کرے گا۔ نہیں تو پروان چڑھنے والا بچہ پرورش تو پا لے گا مگربہت کچھ غلط سیکھ کر۔

بچپن میں اگر بچے کو 'بچہ ہی تو ہے' بول، سوچ، سمجھ کر گزر گئے تووہ بری خصلت اس کے دل میں گھر کر جائے گی اور وہ بری عادت لیے پروان چڑھے گا، یہاں تک کہ وہ فطرت میں شامل ہوجائے گی۔ پھر اس سے چھٹکارا مشکل ہوگا۔ بچپن کا وقت ہی تربیت کا ہوتا ہے۔ اس وقت اگر اپنے فرض کو فرض نہ سمجھا تو بعد میں پچھتاوے سے ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ: ’’بچے بدتمیز ہوگئے، کیسا زمانہ ہے کوئی عزت احترام نہیں، نئی نسل کو تو ادب اداب کا پتا ہی نہیں۔ شکوہ کناں تو ٹھیک ہیں اپنی بات میں مگر

اپنی خرابیوں کو پس پشت ڈال کر

ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

ان کا اپنا لگایا پودا ہے، ایسا ہی پھل دے گا، اب وہی کٹائی ہو گی جو بویا تھا۔ ہم مکئی بو کے گندم مانگتے ہیں، ایسا تو نہیں ہوتا نا؟ پہلے پہل بچے کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی تھی۔ علم و ادب، اخلاق و کردار، عادات و اطوار سب ہی چیزوں پر خصوصی نگاہ رکھی جاتی تھی۔ بچے کو اگر کوئی ماں دودھ بھی پلاتی تھی تو باوضو، پاک صاف ہو کر، زبا ن ذکر اللہ سے رطب اللسان رہتی تھی۔ آج کل موبائل فون، انٹرنیٹ، چیٹنگ، میوزک، ڈراما، فلم، کیونکہ فرصت کا وقت ہوتا ہے۔ بچے کو گود میں لٹایا، وہ تو اپنا پیٹ بھرے گا، یہ موبائل میں مگن رہیں گی۔ ڈرامے کی جو قسط رہ گئی وہ دیکھ لی، فلم کا جو پارٹ رہ گیا تھا وہ پورا کیا، گانا سن لیا، یا دوسری واہیات چیزوں میں لگی رہیں۔ پھر یہی کچھ بچے میں منتقل ہوگا، اور ایسے ہی اثرات مرتب ہونگے۔ جب ماؤں کو فکر ہوتی تھی تو ان کی گودیں بھی پاکیزہ ہوا کرتی تھیں۔ بسا اوقات بچہ گو دکے اندرہی بہت سی آیات یاد کر لیا کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اور اب اعلیٰ تعلیم یافتہ دہشتگرد، ذمہ دار کون؟ - عبد الباسط بلوچ

تاریخ اسلام میں بہت سے بچوں کو ایسی مبارک گودیں نصیب ہوئی ہیں۔ ابھی بچے نے بولنا ہی شروع کیا ہے تو اس کی زبان پر قرآن کے الفاظ تھے۔ یہ وہ مائیں تھیں جنہیں فکر تھی، جو دور اندیش تھیں۔ بلند پرواز رکھتی تھیں، جب امید سے ہونے لگتیں تو ان کی احتیاط پہلے سے بڑھ جاتی کہ میرے منہ میں کوئی لقمۂ مشتبہ نہ چلا جائے، حرام تو دور کی بات تھی۔ اللہ نے جو دولت دی وہ ضائع نہ ہوجائے۔

اولاد بہت بڑی دولت ہے مگر توجہ نہیں ہے پہلی تعلیم گاہ ہی ویران ہے، ماں کی گود ہی اجڑی پڑی ہے۔ انبیاء علیہم السلام سے زیادہ دور اندیش کون ہوسکتا ہے؟ وہ دعا مانگ رہے ہیں: ’’اے اللہ!اولاد دے ایسی جو تیرے دین کی محافظ ہو۔ ‘‘ہم کیا عزم رکھتے یا کیا مانگتے ہیں؟ بچوں کے ذہن کچے ہوتے ہیں، وہ طبیعت پر زندگی گزارنا چاہتے ہیں، ماں سمجھتی ہے مجھ سے، باپ سمجھتا ہے مجھ سے محبت ہے جبکہ اولاد کو ایک سے بھی محبت نہیں۔ اس کو محبت اپنے نفس سے ہے۔ جب بڑے ہوں گے تو اندازہ ہو گا کہ کس سے محبت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے کے ذہن دیواریں خالی کینوس کی مانند ہیں، بچپن میں جو نقش ونگار، جیسا ماحول، جیسے خوابوں کی دنیا منقش کی جاتی ہے۔ وہ اس کے لیے پوری زندگی کا حوالہ بن جاتی ہے۔ جس طرح کی اخلاقیات سیکھتا ہے اس طرح کے کردار میں ڈھلتا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ، ہماری سوسائٹی، ہمارا ماحول ٹھیک نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ اس کی بنیاد جو کہ گھر ہے وہ ٹھیک نہیں۔ معاشرہ اوپر سے نازل ہونے سے تو رہا، یہی مخلوق اس معاشرے کاحصہ بنے گی۔ گھروں کی فضاؤں میں جو بگاڑ ہے اسے ٹھیک کریں گے تو معاشرہ خودبخود سنورتا جائے گا۔ بچے کی تربیت گھر سے ہوتی ہے، مت امید رکھیے کہ کوئی تعلیمی ادارہ، مکتب، مدرسہ، بچے کی تربیت کرے گا۔ جب والدین کو ہی فکر نہیں، جہاں بچہ کئی گھنٹے گزارتا ہے، وہیں اخلاق کی کمزوری ہے۔ سکول میں تو بچہ چند گھنٹے گزارتا ہے اور اس خانے میں تو اب ادب رہا ہی نہیں۔ وہ تو مارکیٹ کی ایک دوکان ہے، گاہک کم ہوا یا زیادہ۔ بنیاد تو گھر پر ہے جہاں ادب، احترام، عظمت، اخلاق ماں باپ کاوہاں سے تربیت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بچے آپ کی بات کیوں نہیں سنتے؟ - روبینہ شاہین

لیکن اب چونکہ عصر حاضر کے والدین کو آزادی چاہیے، ان سے نہ بچے کا بوجھ اٹھایا جا رہا ہے نہ ہی گھر پر شور شرابا برداشت ہے۔ سو بچے کو چند ماہ کی ہی عمر میں ڈے کیئر سنٹر کے سپرد اور ڈیڑھ سال کی عمر میں سکول میں ڈال کر اس کی آزادی اپنی آزادی کے لیے چھین لی جاتی ہے۔ جب کہ نماز بھی سات سال کی عمر میں فرض کی گئی ھے۔ ہم تو خوش ہیں کہ وہ لوگ ہمارے بچوں کو سنبھال رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے ! جس معاشرے میں ڈے کئیر سنٹر کھلتے ہیں، اسی میں اولڈ ہوم بھی کھلتے ہیں۔ آج آپ کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں، آپ کو آزادی اور سرمایہ چاہیے۔ کل کو یہ بچے جب بڑے ہوں گے تو ان کے پاس آپ کے بڑھاپے میں آپ کے لیے وقت نہیں ہوگا کیونکہ انہیں بھی سرمایہ اور آزادی چاہیے۔ لیکن کیا آزادی کی یہ شکل ہمیں قبول ہے؟ یاد رکھیں ، دنیا میں جہاں کہیں، جتنی بھی سرمایہ کاری کریں وہ موت تک ہے۔ لیکن اولاد کی اچھی تربیت ایسی سرمایہ کاری ہے جو اربوں کھربوں سال کام آئے گی۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اس کی نیکیاں مرنے کے بعد بھی والدین کو ملتی ہیں۔ ‘‘اس لیے جہاں آپ دنیا کی سرمایہ کاری کے لیے محنت کرتے ہیں۔ اپنی راحت و آرام، کاروبار، بینک دولت، آسائش و آرام کے لیے کرتے ہیں کہ نفع آئے گا، وہیں اپنا تھوڑا سا وقت، تھوڑا سا آرام، تھوڑی سی آزادی اپنی اولاد کے لیے بھی قربان کر دیں۔ اور بذات خود اپنی اولاد کی صحیح معنوں میں تربیت کریں۔ معاشرہ بھی بنے گا، دنیا و آخرت کی پریشانیوں سے بھی آزادی ملے گی۔