کیا صرف قندیل بلوچ "باغی" تھی؟ - اسماعیل احمد

ہمارے میڈیا کا خدا بھلا کرے، انہیں کبھی بھی وہ لوگ قابلِ تقلید یا دکھانے کے قابل نہیں لگے جو رنگ و نور کی دھنک سے بھرپور مین اسٹریم میڈیا انڈسٹری کو چھوڑ کر کسی بڑے مقصد کے پیش ِ نظر اُن سے دور چلے جاتے ہیں۔کبھی بھی جنید جمشید یا سارہ چوہدری کے بارے میں نہیں کہا جائے گا کہ وہ بھی باغی تھے۔ اللہ کا دیا سب کچھ ہونے کے باوجودجنہوں نے موجودہ دور کی میڈیا انڈسٹری سے بغاوت کرکے اپنے لیے نئی منزلیں منتخب کر لیں۔قوم کے لیے رول ماڈل کے طور پر ہمارے میڈیا کے پاس قندیل بلوچ کی اسٹوریز ہیں۔واقعی خبر کی تعریف پر اس کی جزئیات سمیت عمل ہو رہا ہے" کتا انسان کو کاٹ لے تو یہ خبر نہیں لیکن انسان کتے کو کاٹ لے تو یہ خبر ہے"۔ قندیل بلوچ کی کہانی کو لائقِ تقلید بنا کر ایک بار پھر قوم کے مزاج کے ساتھ نہایت خوبصورتی سے کھیلا جارہا ہے یعنی یہ خواہش ہے کہ آج کا باپ چونکہ ماڈرن زمانے کا ایک شہری ہے سو وہ زمانے کی تبدیلیوں کو اپنے اندر سموتے ہوئے اپنی بیٹی کو وہ سب کچھ کرنے کی آزادی دے جو بیٹی چاہے۔ اب چاہے وہ اپنی تباہی کا سامان بھی کرے تب بھی اسے تباہ ہونے کا پورا اختیار دے دیا جائے۔

فلم کی بجائے ٹی وی کا میڈیم جدید دور کے انسان پر اس پہلو سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے کہ ٹی وی ہر گھر میں چلتا ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہمیں پیسے خرچ کر کے سینما گھر میں نہیں جانا پڑتا۔پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی بات کی جائے تو یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا کہ پاکستان نے لاجواب ڈرامے اس شعبے کے ناقدرین اور ناظرین کے سامنے پیش کیے اور اپنے خطے کی ڈرامہ انڈسٹری پر اپنی انفرادیت کو ثابت کیا۔ کبھی اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمدندیم قاسمی، امجد اسلام امجد، فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین، شوکت صدیقی کے ڈرامے پرائم ٹائم کے دوران مصروف شہروں کی سڑکوں، گلیوں، چوراہوں کو سنسان کر دیا کرتے تھے۔ پاکستان ٹیلی وژن میں کچھ نئے لکھنے والوں نے بھی کمال کی چیزیں پیش کیں۔ پاکستان کے ان عظیم ادیبوں اور دانشوروں کے انسانی معاشروں کے معاملات اور اخلاقیات کی بابت نظریات زمینی حقائق کی بھرپور عکاسی کرتے تھے اور انہی نظریا ت کو ٹی وی ڈرامہ کی صورت پیش کیا جاتاتھا۔" وارث "کس کو یاد نہیں؟ کیا کوئی "من چلے کا سودا "کو بھول سکتا ہے؟ "قاسمی کہانی "دنیا کی کہانیوں کی کیا خوبصورت ترجمانی تھی؟ "تنہائیاں "نے آن ایئر ہو کے کتنی محفلیں جما دی تھیں؟ "ان کہی" کی صورت کتنی باتیں کہہ دی گئیں؟ "دھوپ کنارے" کتنے لوگوں کے لیے چھاؤں مہیا کرتا رہا۔ یہی نہیں، لائقِ تحسین ہیں اِن ڈراموں کے ہدایتکا ر، فنکار یہاں تک کہ تکنیکی عملہ بھی جن کا کام ان کے نادر ڈراموں میں جھلکتا تھا۔ ہمارے جدیدانٹرٹینمنٹ چینل تو "عینک والا جن" اور " جنجال پورہ" جیسے ماسٹر پیس بھی پیش نہیں کرسکتے۔ آج کل بدقسمتی سے ٹیلی وژن پر ایسے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی زیادہ کوشش کی جاتی ہے جو ہماری معاشرتی روایات سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ لیکن محض مبالغہ آرائی اور حقائق کو اپنی مرضی سے توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے نہ تو سورج کو مغرب سے طلوع کرایا جاسکتا ہے اور نہ کوّے کو سفید قراد دیا جا سکتا ہے۔

آزادی اظہار رائے ہر انسان کا بنیادی حق ہے لیکن مادر پدر آزادی کی صورت میں اپنی نئی نسلوں کی قیمت پر یہ حق تو مغرب اور امریکہ میں بھی نہیں دیا جاتا۔ اپنی تاریخی اور تہذیبی روایات سے انحراف کی اجازت تو کوئی ملک اور معاشرہ نہیں دیتا۔ جب معاشرے کی ایسی روایا ت کوجو انتہائی متنازع ہوں، چھیڑا جائے گا تو اس کا نتیجہ اچھا برآمد نہیں ہوگا۔ قندیل بلوچ کو بطور انسان اپنی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل تھا، اسے یہ حق دیا بھی گیا، ان کی موت اس معاشرے کی مرہونِ منت نہیں تھی اس لیے کہ ان کے دلخراش قتل کی واردات کا سبب معاشرہ نہیں ہے۔ کسی حد تک اس میں میڈیا بھی شامل ہے جس نے قندیل بلوچ کی ذات کو صرف ریٹنگ کی طلب میں انتہائی متنازع کر دیا تھا۔پاکستانیوں کی کثیر تعدا د کا موقف یہی ہے کہ ان کے ساتھ ایسا بہیمانہ سلوک نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے بھائی اور شوہر کی زیادتیوں کی سزا، ان کی ذاتی زندگی کو گلیمرائز کرکے میٹھے زہر کی صورت پاکستان کو نہ دی جائے۔

قندیل بلوچ کا معاملہ بھی گویا ہڑپہ اور موئن جو دڑو کے آثار ِ قدیمہ کی طرح ہو گیا کہ

عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہوسکی

کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */