بے ہودہ اشتہارات کی یلغار – افشاں فیصل شیوانی

مجھے یاد ہے وہ وقت جب پی ٹی وی سے ڈرامہ سیریل 'آئینہ' آتا تھا اور جس میں میرا خیال ہے کہ روبینہ اشرف مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں۔ اس وقت پی ٹی وی کی سینسر پالیسی کے مطابق ہیروئن یا خواتین اداکاروں کے سر پر دوپٹہ ہونا لازمی تھا اور اس ڈرامے میں کچھ منظر اس طرح کے پیش کیے گئے تھے جن میں ہیروئن رات میں نیند سے ڈر کر جاگ جاتی ہے اور اس وقت بھی اس کے سر پر دوپٹہ موجود ہوتا ہے۔ان دنوں یہ بحث ہوتی تھی کہ ڈرامے کو چونکہ حقیقت سے قریب تر ہونا چاہیے اس لیے کم از کم اس طرح کے منظر میں یہ پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ مگر پھر بھی ایسے مناظر تک میں دوپٹہ ہیروئن کے سر سے سرکنے نہیں دیا جاتا تھا۔ مگر پھر وہ وقت بھی آیا جب دوپٹہ سر سے گلے میں آیا، پھر گلے سے کاندھے تک پہنچا اور پھر خواتین کی قمیض سے بازو غائب ہونے کے ساتھ ساتھ دوپٹہ کلچر ہی خاتمہ ہوگیا۔ اب کمر سے کپڑے ہٹ رہے ہیں اور وہ وقت آ گیا ہے کہ خواتین کی ٹانگیں بھی ننگی ہونے لگیں۔

بلاشبہ زمانہ آگے بڑھ چکا ہے۔ وہ باتیں جو پہلے بند کمروں میں بھی بمشکل کی جاتی تھیں، اب چوراہے پر بیان ہو رہی ہیں۔ لیکن اب بھی اکثریت اپنی اقدار سے جڑی ہوئی ہے، جہاں بڑوں کے آگے چھوٹے آواز بلند نہیں کرتے لیکن ہمارا میڈیا جو کلچر اور ماحول پیش کر رہا ہے، وہ معاشرے کے غالب حصے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

باتھ ٹب میں نہاتی عورتیں تو پہلے ہی ناقابل برداشت تھیں، اب بال صاف کرنے والی کریموں کے اشتہار میں اپنی برہنہ ٹانگوں کی نمائش کرتی عورتیں بھی آ گئی ہیں جن کے ہوتے ہوئے شریف گھرانوں میں ٹیلی وژن دیکھنے کے قابل نہيں رہا۔ عورتوں کی انتہائی ذاتی نوعیت کی اشیاء پر اشتہار بھی آنے لگے ہیں کہ جن میں اسکول کی نوعمر لڑکیوں کو ناچتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ بچوں کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے جب وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کس چیز کا اشتہار ہے؟ تب بیٹی اور بہن کے لیے اپنے باپ اور بھائی سے نظر چرانا مشکل ہو جاتا ہے۔ حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ قومی چینلوں پر 'جوش' نامی پروڈکٹ کا اشتہار تک نشر ہوا۔ آجکل خواتین کے زیر جاموں اور خواب گاہ کے لباس کے اشتہار بھی نظروں سے گزر رہے ہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس میں قابل اعتراض بات کیا ہے؟ قابل اعتراض بات یہ ہے کہ یہ قومی ٹیلی وژن چینلوں پر چل رہے ہیں۔ سوال ہے کہ کیا یہ سب کچھ پاکستان میں پہلے فروخت نہیں ہوتا تھا؟ کیا یہ کوئی نئی چیز ہے جو مارکیٹ میں متعارف کروائی گئی ہے؟ اگر ایسا نہيں تو پھر ان اشتہارات کو چلانا ضرور کیوں؟ چند لوگوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی چینلوں پر تو یہ سب دکھایا جاتا ہے، ہمارے چینلز پر کیوں نہیں دکھا سکتے؟ جناب! ان چینلوں پر تو غیر مسلموں کی عبادات بھی دکھائی جاتی ہیں تو کیا اسلامی جمہوریہ میں وہ بھی نشر کی جائیں؟

یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری کچھ اقدار ہیں، کچھ حدود ہیں، جن کی پابندی کرنا لازم ہے۔ آج بھی ہمارے بیشتر گھرانوں میں بیٹی باپ کے سامنے بغیر دوپٹے کے نہیں جاتی۔ پھر بہو بیٹیاں یہ سب کیسے گھر کے مردوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھ سکتی ہیں؟ اگر یہی دیکھنا ہے تو پھر غیر ملکی چینلز ہی کافی تھے، اپنے چینلوں کی ضرورت کیا تھی؟

کیا اس ملک میں بازپرس کرنے والا کوئی نہیں؟ کوئی کسی کو جوابدہ نہیں؟ کوئی قانون بھی ہے یا میڈیا یونہی شتر بے مہار ہے؟ کوئی سینسر پالیسی بھی وجود رکھتی ہے؟ اور کیا اس کی پابندی لازم ہے؟ کیا کسی بھی ملک کے میڈیا کو وہاں کے معاشرے کا عکاس نہیں ہونا چاہیے؟ سوچیے، آج ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ اپنے بچوں کی آنکھوں سے شرم و حیاء اور بڑوں کا لحاظ ختم کر رہے ہیں۔ یہ سوچنے کا مقام ہے اور میرے جیسے والدین کے لیے فکر انگیز لمحہ۔ ہم جو غیر ملکی چینلوں پر پابندی تو لگا دیتے ہیں لیکن اپنے ہی ملکی چینلوں کی جانب سے اشتہارات کے ذریعے پھیلائی گئي بے حیائی سے پریشان ہیں۔