سوئے نصیب جگانے کو دل تڑپتا ہے - عبد الباسط بلوچ

لگتا ہے روح بھٹک رہی ہے،میری آنکھوں کی رم جھم مجھے اس کے اور قریب لے جا کر ایک زندگی بھی بخشتی ہے۔سنا ہے اس گھر کا جلال ہے، آخر کیوں نہ ہو؟ گھر جورب ذوالجلال کا ہے۔اس کی فضاپرنور ہے،اس کا مالک جو ارض و سماء کا نور ہے۔سنا ہے پتھر بھی موم ہوجاتے ہیں،ایسے بندھن ٹوٹتے ہیں کہ کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ سنا ہے کالے غلاف کا لمس ہر چیز سے پیارا ہے اور اس کے سائے میں دنیا کی عافیت ہے۔ سنا ہے پہلی نظر ہی میں بھولی بسری محبت ایسے رنگ دکھاتی ہے کہ نہ نظر ہٹانے کو د ل کرتا ہے، اور نہ جبین نیاز اٹھانے کو۔ سنا ہے کچھ راز کی باتیں بھی ہوتی ہیں، جن کو بیان کرنے کے لیے زبان سے زیادہ دل کو حوصلہ چاہیے۔کئی تو روز دیدار کے لطف اٹھاتے ہیں، کئی مدتوں سے بلاوے کے منتظر ہیں۔

سوچتا ہوں کن کو بلایا جاتا ہے؟ جواب آتا ہے، نصیب کی بات ہے،کسی کا پیسہ،وقت،اور حالات کا محتاج نہیں۔اسی سوچ میں مگن ہوں،کوئی جاتا ہےیا بلایا جاتا ہے۔ گھر بھی اعلیٰ،در بھی کمال،اس در کا مالک بھی لا زوال،لطف و کرم کی بہار۔ سنا ہے دل بھرتا ہی نہیں اس کالے غلاف کے دیدار سے۔ سنا ہے نور کی برسات گناہوں کی گھٹاؤں کو بھول جانے کا سندیسہ دیتی ہے۔جو ایک بار ہو آئے وہ ساری زندگی تڑپتا بھی ہے اور ترستا بھی۔

میں مکہ کو صرف شہر نہیں، رب کا کرم، اور انعام سمجھتا ہوں اور مدینہ کو کملی والے کی دعا کا فیض۔ دل مکےکی گلیوں سے مدینے کے اس سبز گنبد سے اٹھتا ہی نہیں۔یہ مچلنا، تڑپنا،فکر مند ہونا مجھے اور نہیں تو اس کے قریب تر کرنے میں ضرور مدد دیتا ہے۔پتا نہیں دنیا کی ہر چیز دیکھنے کے باوجود کیوں دل اس سے اٹھتا ہی نہیں؟ آواز آتی ہے،اس کا کرم، عنایت، اور، محبت کے سودے ہیں۔رمضان میں سنا ہے یہ کالا ہونے کے باوجود چمکتا ہے، نور کی برسات ہوتی ہے،گناہوں کی دھول ایسے چھٹتی ہے،بندہ سب کچھ بھول جاتا ہے۔اس بہار نور کو دیکھنے ، رحمت کے سیل رواں میں شامل ہونے، مغفرت کی وادیوں میں کھونے،رحمت رب جلیل سے جھولیو ں کو بھرنے،اپنے آقا کی جنت کے ٹکڑے میں بیٹھنے کو دل بے قرار بھی ہے اور امیدوار بھی۔کب سندیسہ آ جائے، تم بہت تڑپتے تھے آ جاؤ، اور دل کو بہلا جاؤ۔۔۔۔۔مالک بندہ منتظر ہے!