قوم کو تعلیم کے ساتھ تربیت کی شدید ضرورت - حسیب عماد صدیقی

اپنے کام کے سلسلے میں اکثر بیرون ملک سفر کا موقع ملتا ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران آسٹریلیا سے لےکر کینیڈا تک اور چین سے لے کریورپ اور امریکہ تک دنیا کے بہت سارے ملکوں کا کئی مرتبہ سفر کیااور اس دوران مختلف قوموں کے رہن سہن، عمومی رویے، معاشی ترقی اور سماجی اقدار کو قریب سے دیکھنےاور سمجھنے کا موقع ملا۔ بہت سے ملکوں کو خراب حالات سے بہتری کی طرف جاتے اور ترقی کی معراج پر پہنچتے دیکھا۔ مثلاً 1989 میں چین دیکھا اور پھر 2007 سے 2015 تک کئی بار۔ ان پچیس سالوں میں چین بالکل تبدیل ہوگیا۔ 1989 میں چین میں میرااپنا بچا ہوا کھانا لوگوں کو کھاتے دیکھا اور آج چینی دنیا کی امیر ترین قوم ہیں۔

اپنے اس تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ صرف ان قوموں نے ترقی کی، جنہوں نے اپنی عوام پر پیسہ خرچ کیااور انہیں تعلیم و تربیت دی۔ چاہے آپ کے پاس جتنے بھی مادی وسائل ہوں، انسانی وسائل کو ترقی دیے بغیر آپ خوشحالی کی منزل نہیں پا سکتے۔

ان ترقی یافتہ ملکوں میں آپ کو عوام کی سہولت ہمیشہ پہلی ترجیح نظر آئے گی۔ چاہے وہ ٹرانسپورٹ کا نظام ہو، ہسپتال ہوں، انصاف اور عوامی خدمات فراہم کرنے والےادارے ہوں، کھیل کے میدان ہوں یا تفریحی مقامات یہاں تک کہ جیل میں بھی عوام کی بنیادی سہولت کی تمام چیزیں دستیاب ہیں اور معذور افراد کے لیے تو ہر جگہ خصوصی سہولتیں موجود ہیں۔

یورپ اور امریکہ میں میں نے بات بات پر لوگوں کو شکریہ کہتے سنا ہے، اگر آپ کسی دکان میں داخل ہوں تو دکاندار آپ کو سلام کرے گا اور واپسی پر شکریہ کہے گا، اگر آپ کسی کو راستہ دیں گے، بس کا ٹکٹ لیں گے، ہر کوئی شکریہ کہنے میں پہل کی کوشش کرے گا۔ اسی طرح اگر آپ کے آگے والا شخص دروازہ کھول کر گزرے گا توآپ کے لیے دروازہ پکڑ کر کھڑا رہے گا۔ چیزوں کا معیار اور مقدار ہمیشہ پوری ہو گی۔ اگر آپ کوئی چیز خریدیں گے تو بقیہ رقم کی ایک ایک پائی واپس کی جائے گی۔ لوگ ہر جگہ قطار میں اپنی باری کا انتظار کریں گے۔ سرکاری اہلکار تحمل سے آپ کی بات سنےگا اور آپ کا مسئلہ حل کرنے کوشش کرےگا۔ کوئی شخص بلا وجہ آپ کی طرف نہیں دیکھے گا اور مخاطب کرنے پر ہی متوجہ ہوگا۔ اگر کوئی ٹرین اپنے وقت سے ایک منٹ بھی لیٹ ہو تو انتظامیہ بار بار معذرت طلب کرےگی۔ آدھا گھنٹہ تاخیر پر آپ کو ٹکٹ کی رقم واپس کردی جائے گی۔

اس کے بر عکس ہمارے معاشرے میں ایک نفسا نفسی کا عالم نظر آتا ہے، لوگوں کو ایک دوسرے پر اعتبار نہیں، ہر شخص چاھتا ہے کہ میرا کام پہلے ہوجائے۔ایک چیز کی کمی بڑی شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے، وہ ہے تعلیم کے ساتھ تربیت۔ ناخواندہ کا تو ذکر ہی کیا تعلیم یافتہ لوگوں میں بھی civic sense کی بہت کمی ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کا خیال نہیں کرتے، ہم گاڑی صحیح پارک نہیں کر سکتے، لائن میں اپنی باری کا انتظار نہیں کر سکتے۔

اگر آپ گاڑی میں گیس ڈلوائیں تو پمپ والے کی کوشش ہوتی ہے کہ باقی رقم سے 3 یا 4 روپے کم دے، اگر آپ مانگ لیں تو وہ آپ کو گھور کر دیکھتا ہے۔ ہم عام طور پر وقت کی پابندی نہیں کرتے، کسی کو 5 بجے کا وقت دے کر 15 سے 20 منٹ لیٹ ہونے پر کوئی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔

دکان دار اپنی دکان سے باہر دس فٹ جگہ گھیر کر پیدل چلنے والوں کے لیے مصیبت کھڑی کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ ڈاکٹر 25000 روپے روز کمانے کہ باوجود نہ پورا ٹیکس دینا چاہتا، نہ کسی مستحق مریض سے رعایت کےلیے تیار ہے۔ تاجر 100 فیصد منافع لینے کے باوجود بہتر کوالٹی دینے کو راضی نہیں۔ سبزی والے 20 روپے کی سبزی 60 روپے میں فروخت کرنے کے باوجود غربت کا رونا روتے ہیں اور لوٹ مار جاری رکھتےہیں۔ سرکاری اہلکار فرائض سے غفلت اور رشوت سے محبت میں گرفتار ہیں۔

ہمارا میڈیا اپنی ریٹنگ کے لیے ہر قسم کے پروگرام کرنے کو تیار ہے، لیکن پبلک سروس کے لیے تیار نہیں۔ اپنے پرائم ٹائم یعنی شام 7 بجے 10 بجے کے دوران ہر چینل کم از کم 5 منٹ کےلیے پبلک سروس پروگرامز کرے۔ لوگوں کو گاڑی درست پارک کرنا، سلام میں پہل کرنا اور شکریہ کہنا سکھائیں۔ اپنی باری کا انتظار کرنا، لائن میں کھڑے ہونا، پورا تولنا، اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنا، اپنی دکان سے باہر چیزیں نہ رکھنابھی بتائیں اور ہر قسم کی کرپشن کے خلاف بھی پروگرامز کریں۔ ہم ہر وقت حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن بہت بڑی زمہ داری معاشرے پر بھی عائد ہوتی ہے۔ کیا ہمارے اسکولوں میں بچوں کو اخلاقیات اور civic sense کی تعلیم دی جاتی ہے؟ کیا اخلاقیات کا پیریڈ ہوتا ہے؟اگر کسی قوم کا شعور دیکھنا ہو تو انہیں چوراہا کراس کرتے دیکھ لیں۔

ہمارا ٹریفک ہی ہماری بد حواسی اور قوم کی مجمعوعی تربیت کا عکاس ہے۔ ایک بہت اہم کام لوگوں میں سیاسی شعور بیدار کرنا ہے۔ ہمارا معاشرہ شخصیات کے سحر میں گرفتار ہے اور ووٹ دیتے وقت ہمیں لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے کہ ہم کرپٹ جاگیرداروں، خاندانی بادشاہت، لسانی و فرقہ ورانہ سیاست کرنے والوں کو ووٹ نہ دیں۔ کیا ہمارے اینکرز جو روزانہ شام 7 سے 11بجے تک دکانیں سجا کر فضول کھینچا تانی اور ریٹنگ کے چکر میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے،سیاسی کج بحثی اور یک طرفہ پروپیگنڈا کرنے میں قوم کا وقت ضائع کرتے ہیں اور بعد میں اپنے اپنے مربیوں سے داد وصول کرتے ہیں، ہر ہفتہ ایک پروگرام قوم کو شعور دینے انہیں شخصیات کے بجائے نظام کو ووٹ دینے، اور اچھا اور برا سمجھانے کے لیے وقف نہیں کرسکتے ؟

میڈیا کا کام لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے نہ کہ لوگوں کو مزید تقسیم کرنا۔ اس وقت ہمارا معاشرہ بے سمت، بد حواس اورمنتشر ہے۔ اسے صحیح سمت دینا، تقسیم سے بچانا، اور ترقی پر گامزن کرنا صرف حکومت نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں اور خاص طور پرمیڈیا کا کام ہے۔ ہمارے سب سے قیمتی وسائل ہمارے لوگ ہیں، ہمیں ان پر خرچ کرنا ہوگا۔

ہمارا ملک مادی وسائل سے مالامال ہے لیکن خراب گورننس کی وجہ سے ہم اپنی عوام کو وہ سہولتیں نہیں دے پا رہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ یورپ میں ایک لیٹر ٹیٹرا پیک دودھ پاکستانی 60 روپے کے لگ بھگ دستیاب ہے جبکہ پاکستان جو کہ دنیا کاپانچواں سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے، اس میں 120 روپے فی لیٹر ہے یعنی تقریبآ دوگنا۔ اسی طرح یورپ میں ابلی ہوئی مسور کی دال ٹن پیک 400 گرام کی قیمت صرف 40 روپے پاکستانی کے لگ بھگ ہے جبکہ ہمارے ہاں بغیر ابلی ہوئی کھلی مسور کی دال اس سے بہت مہنگی ہے۔ ہمیں غذائی اجناس کو سستا رکھنا ہوگا، اور صاف اور صحت مند غذا کو عوام کی پہنچ میں رکھنا ہوگا۔

الله کا شکر ہے کہ ہم مسلمان معاشرہ ہیں اور ایسی بہت سی خرافات سے بچے ہوئے ہیں جو یورپ، امریکہ اور باقی دنیا میں موجود ہیں۔ مغربی معاشروں نے اپنی دوسری برائیوں کو سخت قانون کے نفاذ سے روک رکھا ہے، ایسی بہت سی خرافات سے ہمارا معاشرہ صرف اپنی دینی اقدار اور خاندانی روایات کی وجہ سے بچا ہوا ہے، ورنہ یہ معاشرہ قانون کی عملداری نہ ہونےکی وجہ سے جنگل کا منظر پیش کرتا۔ اس معاشرے کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مذہب بیزار لوگ اپنے دین سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ سازش کامیاب ہو گئی تو ہمارا سماج جہنم بن جائے گا۔ ہمیں اپنی دینی اقدار کا ہر قیمت پر تحفظ کرنا ہوگا۔

مسلمان معاشرے کا ایک اور حسن اس کی مساجد ہیں۔ ملک کے چھوٹے سے چھوٹے قصبے، گاؤں اور گلی محلے میں مساجد موجود ہیں۔ ہمارے امام صاحبان بہت اہم منصب پر فائز ہیں۔ انہیں اپنی طاقت کا درست اندازہ نہیں۔ ہم اپنی مساجد کو عوام کی دینی تربیت کی ساتھ معاشرتی اصلاح کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ امام صاحبان جمعہ کے خطاب میں کسی بھی ایک معاشرتی موضوع جیسے ٹریفک کے مسائل، ناجائز منافع خوری، ٹیکس چوری، گلی محلے کی صفائی، ناپ تول اورلین دین میں ایمانداری، شادی بیاہ میں بے جا نمود و نمائش، رشوت اور لوٹ مار، دوسروں کے حقوق کا خیال اپنے فرائض کی ادائیگی اور اپنے ووٹ کےدرست استعمال جیسے موضوعات پر خود بھی لوگوں کو قائل کرسکتے ہیں اور خطاب کے لیے ماہرین کو بھی بلوا سکتےہیں۔ مساجد در اصل ہماری درسگاہیں ہیں اور رسول الله نے بھی مساجد کو تعلیم و تربیت کا مرکز بنایا تھا۔

گزشتہ 70 سال میں اگر ہم اپنی ناکامیوں کی درجہ بندی کریں تو ہماری سب سے بڑی ناکامی قوم کو تعلیم اور تربیت نہ دینا ہے۔ اس کام کے لیے کسی سرمائے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی ادارے، سیاسی جماعتیں، میڈیا اور سب سے بڑھ کر ہمارے علما اور مساجد اب بھی یہ کام بحسن و خوبی کرسکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com