ہم سے فرازِ دار ہوا سر فراز ہے - صلاح الدین فاروقی

مصر کے دریائے نیل کے کنارے سرخ سورج اپنے خون آلود چہرے کے ساتھ ڈوب رہا تھا۔ اس کی یہ روش نہیں بدلی تھی۔ یہ سورج سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں شہداء کا قاتل تھا۔ بس ایک کرن کی تلاش تھی، سحر کی ایک کرن، اسلامی انقلاب کی ایک کرن! جس کی قیمت چکاتے چکاتے سیدنا حسین ؓ،عبداللہ بن زبیرؓ،احمد بن حنبلؒ اس راہ کو سدھار گئے اور اسلام کی عظمتِ رفتہ بحال کردی۔ اسلام کو ثمربار کردیا۔

مگر آج نیل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، ظلم و ستم کا اندھیرا، خداسے بغاوت کااندھیرا اور سورج پھر سے جوان لاشہ مانگ رہا تھا۔ حسین و جمیل، اطاعت میں گندھا ہوا، باکردار۔ زمانے کی خدائی کو للکارنے والا، جو جذبوں کا تلاطم خیز دریا بلکہ ٹھاٹھیں مارتا اور ظرف اتنا کہ سمندر۔ جس کے ایمان کی حرارت شب تاریک میں قندیل رہبانی اورسراب میں مرد کہستانی۔جس میں مردِ مومن کی علامتیں قہاری و غفاری اور قدوسی و جبروت کوٹ کوٹ کر بھری ہوں۔ جس کی صبحیں وسعت افلاک میں تکبیر مسلسل اور راتیں تسبیح و مناجات۔ جو قافلہ سالار، مرد درویش، جس کی ادائیں دلنواز اور جس کی صدائیں دل نشیں۔ جو چلے تو سیلِ رواں، رکے تو کوہ ِ گراں۔ جسے دیکھ کر اصحابِ کہف کی یاد تازہ ہوجاتی، جو اسلاف کے نقش قدم پر چلنے والا، ثابت قدم، اولوالعزم۔ شکستہ آنکھیں، پختہ جذبے۔ حسن البناء ؒ کا جانشیں اور ان سب سے بڑھ کر نامِ نامی سیدنا امام الانبیاءﷺ کے دین کا علمبردار۔

آج سورج اس کے لہو کا تقاضہ کررہاتھا اوروہ تھا کہ چلے جارہا تھا۔ جہاں اس کے استاذ حسن البناء گئے تھے۔ جس کی دعوت کی بازگشت مکہ کی گھاٹیوں اور حبشہ کے بیابانوں میں سنائی دے رہی تھی۔

ـــ’’ ہم اس لیے پکاررہے ہیں تاکہ ہم اللہ کے بندوں کو بندوں کی بندگی سے نکال کر بندوں کے رب کی بندگی میں دیں‘‘

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کیوں نہیں جیتی؟ سجاد سلیم

یہی دعوت اس کا جرم تھا۔

ایک طرف سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سپاہی اور دوسری طرف فراعین مصر کے ہم نوا۔آج اسی قافلہ کا ادنیٰ سا سپاہی منزل مراد پانے کو ترس رہا تھا۔

اور وہ لمحہ آن پہنچتا ہے جب تختہ دار پر لایا جاتا ہے۔عجیب مرحلہ تھا۔ سرکاری مولوی آتاہے اور اس مردِ خود آگاہ کو پھانسی سے قبل کلمہ پڑھنے کی تلقین کرتاہے۔ سید ؒ اس سرکاری مولوی کو جو جواب دیتے ہیں تاریخ میں وہ سنہرے الفاظ سے لکھے جانے کے قابل ہیں

’’تم اس کلمہ کے لیے پھانسیاں چڑھنے والوں کو کلمہ کی تلقین کرتے ہو، جو اس کلمہ کے نام پر روٹیاں کھاتے ہو۔‘‘

اور پھر وہ فرازِدار پر جھول کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرفراز ہوجاتا ہے۔

قید و قفس کی سختیاں ہم مجرموں کے سر

ہم سے فرازِ دار ہوا سر فراز ہے

یہ تھے اخوان المسلمون کے بانی رہنما مفسر قرآن سید قطب شہید رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ!