ہماری خارجہ پالیسی - چوہدری ذوالقرنین ہندل

کسی بھی ملک کے بیرونی و بین الاقوامی معاملات و تعلقات کے لیے خارجہ پالیسی انتہائی اہم و اہمیت کی حامل ہے۔خارجہ پالیسی دراصل اپنے ملکی مفادات کو مد نظر رکھ کر بنائی جاتی ہے۔دنیا میں کامیابی کے حصول کے لیے کسی بھی ملک کو ایک جامع اور مثبت خارجہ پالیسی کی ضرورت ہوتی ہے۔دنیا میں کامیاب سپر پاورز کی کامیابی کے پیچھے ان کی بہترین اور مفصل خارجہ پالیسی کا بڑا کردار ہے۔

گزشتہ چند برسوں سے ہماری خارجہ پالیسی زیر بحث ہے،ہمارے تجزیہ کار اور ماہرین خارجہ پالیسی پر نقطۂ چینی کرتے نظر آتے ہیں۔ماہرین کے نزدیک بدلتی صورتحال کے تناظر میں ملک پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں بھی تبدیلی لانی چاہیے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک اپنی ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا میں تنہائی کا شکار ہو جائے۔حکومت کے سیاسی مخالفین کے نزدیک ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت حکومت نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔گزشتہ چار برس وزارت خارجہ اور خارجہ پالیسی کا تعین نہ ہونا حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔قارئین ہمارا ہمسائیہ اور دشمن ملک بھارت جو ہمیں دنیا میں تنہا کرنے کا ناپاک عزم کرچکا ہے،اپنی مفصل و چالاک خارجہ پالیسی کی بدولت وہ ایسا کرنے میں کافی حد تک کامیاب ٹھہرا ہے۔مودی سرکار کی چاک و چوبند خارجہ پالیسی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی،یہ تو صرف اللہ رب العزت کی عنایت ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت کی وجہ سے کوئی بھی ملک ہم سے من و عن منہ نہیں پھیر سکتا۔

بڑے افسوس کے ساتھ ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے ہم مذہب ہمسائیہ ممالک بھی ہمارے مؤقف کے حامی نہیں۔دوسری طرف چوکنا دشمن بھارت جس کے اندر عرصہ دراز سے آزادی کی بغاوتیں موجود ہیں، وہی ملک ہمیں تنہائی کا شکار کرنے کی طرف گامزن ہے۔میں مانتا ہوں بھارت ایک بڑی طاقت ہے،اس کی آبادی ہم سے زیادہ ہے، افواج و اسلحے میں ہم سے زیادہ طاقتور ہے۔مگر اس کے مسائل بھی ہم سے زیادہ ہیں، اسے اپنی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ہم سے کہیں زیادہ مشکلات درکار ہیں مگر وہ اپنی کاوشوں میں مگن ہے۔الحمد للہ ہمارے اندرونی معاملات کافی حد تک بہتر ہو گئے ہیں اور بہتری کی طرف گامزن ہیں،بلوچستان کے حالات قدرے بہتر اور تسلی بخش ہیں۔مگر بھارت کے صوبہ پنجاب و بنگال سمیت بہت سے صوبوں میں آزادی کی بغاوتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں۔اتنے کٹھن اندرونی حالات کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ و مودی سرکار نے عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف اپنی سفارت کاری پر زور دیا اور دنیا کی بڑی طاقتوں پر پریشر ڈالا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردی کا ذمہ دار ٹھہرائیں۔مگر ہماری حکومت ہے کہ چار برس خواب عشق و غفلت میں سوئی رہی اور جب سے نواز شریف نااہل ہوا ہے نااہلی کا رونا ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہا، کہیں ماتم اور کہیں جشن کا سماں ہے۔ملکی بہتری و عزت کی کوئی پرواہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   بغداد و ریاض کا اتحاداور امریکی کردار - آصف خورشید رانا

یہ ہماری ناکام خارجہ پالیسی ہی ہے کہ امریکہ جو ہمیں کچھ عرصہ پہلے اپنا سب سے بڑا نان نیٹو اتحادی کہتا نہیں تھکتا تھا وہی آج ہمیں محض اس لیے دہشت گردوں کا حامی قرار دے رہا کہ اس کا نیا پیار، نیا دوست بھارت خوش ہو سکے۔انتہائی دکھ و افسوس کا عالم تھا کہ گزشتہ دن ہمارے اکلوتے دوست ملک چین نے بھی ہمیں 'ڈو مور' کا مطالبہ کر دیا، اور یقین جانیے یہ صرف ہماری ناکام خارجہ پالیسی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔بھارتی سفارتکاری کا جادو ہی ہے کہ چین اپنے دوست ملک کے خلاف بولا اپنے دشمن کے کہنے پر، تاہم چینی حکومت کو چینی ماہرین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔بلاشبہ مودی سرکار نے اپنی توسیع پسند اور چالاک پالیسیوں کی بدولت اپنے مفادات کے قریب پہنچنے کی پوری کوشش کی ہے۔

اب دیکھنا یہ ہو گا کہ پاکستانی حکومت و ذمہ داران کب خواب غفلت سے بیدار ہوتے ہیں؟اور کب اپنی عزت و آبرو اور مفادات کو مد نظر رکھ کر اپنی پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ آصف کا دورہ چین بہت خوش آئند اور معنی خیز ہے،جس میں چین نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف کاوشوں اور قربانیوں کو سراہا اور دنیا پر بھی زور ڈالا کہ وہ پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔چینی وزیر خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاک چین دوستی برقرار رہے گی اور چین اپنے دوست ملک کی ہمیشہ ہمایت کرے گا۔اس اہم میٹنگ سے 'برکس' سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا خاتمہ تو ہوگیا، مگر پاکستان کو مستقبل میں چاک و چوبند رہنے کی ضرورت ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، پاکستان اپنی نئی وضع کردہ خارجہ پالیسی پر کتنا کاربند رہتا ہے؟وزرات خارجہ کی طرف سے چین کے بعد ایران، ترکی اور روس وغیرہ کے دوروں کا بھی زکر کیا گیا،جوکہ خوش آئند ہے۔اگر ایسا پہلے ہوجاتا تو آج پاکستان کو دنیا کی طرف سے ایسے ریمارکس سننے کو نہ ملتے،خیر دیر آئے درست آئے۔موجودہ صورتحال میں پاکستان کو ایران جو کہ ہمارا ہم مذہب ہمسائیہ بھی ہے اس کو افغانستان کے معاملے پر اپنا حامی بنانا بہت ضروری ہے،جو اس وقت افغان معاملہ میں بھارت کا حامی ہے۔اہم بات پاکستان کو روس سے تعلقات بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔جیسے بھارت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو وسعت دی مگر روس سے اپنے تعلقات کو کم نہیں ہونے دیا، اور پاکستان نے امریکہ سے تو تعلقات کم کرلیے مگر روس کے ساتھ تعلقات کو وسعت نہیں دی۔یہ سب ہماری ناکام خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جسے مستقبل میں مد نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔روس کو ہم پر زیادہ اعتبار نہیں ہمیں اپنا اعتماد بحال کرنا ہوگا، پاکستان کے لیے بیک وقت روس کو اپنا گرویدہ بنانا اور امریکہ سے بھی تعلقات کو بہتر کرنا مستقبل کا بڑا چیلنج ہوگا۔یہی وہ طریقہ ہے کہ پاکستان سی پیک کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر خطے میں معاشی طاقت بن سکتا ہے۔