ہاتھ دھونے والی چائے - عبیداللہ کیہر

میں ایک این جی او کے ساتھ اس کے فلاحی کاموں کی دستاویزی فلم بنانے کے سلسلے میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی وادی وادی گھوم رہا تھا۔ہم بہ ذریعہ ہوائی جہاز کراچی سے اسلام آباد پہنچے تھے اور پھر وہاں سے براستہ شاہراہ قراقرم ، اٹھارہ گھنٹے کا ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرکے گلگت آئے تھے ۔امدادی و فلاحی کام کے لیے سب سے پہلے دریائے گلگت کے کنارے پر موجود بستیوں، وادئ غذر اور وادی ٔیاسین تک کے علاقے منتخب کیے گئے تھے۔ ہم وادیٔ گلگت کے چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہاتوں میں میڈیکل کیمپ لگاتے ہوئے آہستہ آہستہ وادیٔ یاسین کی طرف بڑھ رہے تھے ۔ میرے ہم سفر کار ساز ٹرسٹ کے سربراہ اخلاق احمد مرحوم اور ان کے ساتھیوں کے علاوہ ماہنامہ رابطہ انٹرنیشنل کے مدیر عبدالسلام سلامی بھی تھے ۔ ہمارا قافلہ کارساز کے مقامی نمائندے جان ولی، کچھ رضاکاروں اور دو جیپوں کے ڈرائیورز پر مشتمل تھا ۔

گلگت سے باہر نکلنے کے تین راستے ہیں ۔ ان میں سے ایک تو شاہراہ قراقرام ہے جو دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی پہلے ہزارہ پہنچتی ہے اور پھر مانسہرہ اور ایبٹ آباد ہوتے ہوئے راولپنڈی تک جاتی ہے ۔دوسری طرف بھی یہی شاہراہ قراقرم شمال کی سمت جاتے ہوئے دریائے ہنزہ کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی اور پھر سولہ ہزارفٹ درہ خنجراب کو عبور کرتی ہوئی چین میں داخل ہوجاتی ہے۔ جبکہ تیسرا راستہ یہ ہے جو دریائے گلگت کے ساتھ ساتھ چلتا ہواوادیٔ غذر ، پھنڈر اور شندورپاس سے ہوتا ہوا چترال کی طرف چلاجاتا ہے۔ اس راستے پر دریائے گلگت کے ساتھ ساتھ لاتعداد حسین و دلفریب بستیاں اور پوشیدہ وادیاں ہیں ۔ ہمارا پروگرام اسی راستے پر جگہ جگہ کیمپنگ کرتے ہوئے وادی یاسین تک جانے کا تھا۔ آخری کیمپ دریائے یاسین کے کنارے طاؤس نامی گاؤں میں ہونا تھا ۔ ان کیمپوں کے ذریعے ضرورت مندوں میں دواؤں ، کپڑوں اور سلائی مشینوں کی تقسیم ہونا تھی۔

دریا ئے گلگت کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے اس راستے پر شہر سے نکلیں تو کچھ ہی دیر میں گلگت کے چھوٹے بڑے محلے پیچھے رہ جاتے ہیں اور پھر ایک تیز رفتار پہاڑی نالہ شور مچاتا جھاگ اڑاتا بائیں طرف کے پہاڑوں سے بہتا ہوا آملتا ہے ۔یہ ’’کا رگاہ‘‘ نالا ہے جو سٹرک کے نیچے سے گزر کر دریا ئے گلگت کی طرف چلا جاتا ہے اور ہم اس پر بنے پل کو عبور کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ۔ کارگاہ نالے کے برق رفتار پانی پر ٹربائن لگا کر شہر کے لیے بجلی بھی پیدا کی جاتی ہے ۔کار گاہ نالے کی ایک وجۂ شہرت اور بھی ہے ۔ اس کے کنارے ایک جگہ پہاڑی دیوار پرمہاتما بدھ کی ایک ہزاروں سال قدیم تصور کندہ ہے جسے دیکھنے کے لیے اکثر ملکی و غیر ملکی سیاح یہاں آتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان ایک گورے کی نظر سے

کار گاہ نالے سے آگے نصف گھنٹہ مزید سفر کرتے ہوئے ہم ایک پل کے قریب پہنچے۔ یہاں دریا کے پر لے کنارے پہاڑوں کے دامن میں ایک سرسبز اور خوبصورت قصبہ نظر آرہا تھا۔ یہ’’ شیر قلعہ‘‘ تھا۔شیر قلعہ میں ہمار اپہلا پڑاؤ تھا ۔ ہماری جیپیں پل پر سے گزرکر دریا کے دوسرے کنارے پر آئیں اور قصبے میں داخل ہوگئیں۔ یہاں لوگوں کو ہمارے آنے کی اطلاع پیشگی دی جاچکی تھی اس لیے وہ ہمارے منتظر تھے ۔ میزبان ہمیں اپنے گھر کے ایک صاف ستھرے اور خنک کمرے میں لے گئے جہاں فرش پر اونی نمدے بچھے ہوئے تھے اور دیواریں روایتی دستکاریوں سے سجائی گئی تھیں۔میزبان و مہمان کچھ دیر تک ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرتے رہے ۔پھر میزبان اٹھ کر چلے گئے اور ایک لوٹا ،پانی اور چلمچی لے کر واپس آگئے ۔

’’آئیں جی ہاتھ دھولیں۔‘‘ایک میزبان نے چلمچی میرے سامنے بھی لا کر رکھی ۔
’’ لیکن ابھی کھانے کا وقت تونہیں ہوا ۔‘‘ میں نے حیرت سے کہا کیونکہ اس وقت صبح کے دس بج رہے تھے۔
’’نہیں جی ابھی تو چائے پیئں گے ۔‘‘ میزبان نے جواب دیا۔
’’تو یہاں چائے پینے کے لیے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں سوچا اور کنکھیوں سے سلامی صاحب کی طرف دیکھا ۔ وہ بھی میری طرف دیکھ کر مسکرارہے تھے ۔باری باری سب نے ہاتھ دھوئے اور گیلے ہاتھ دھونے کے لیے تولیہ پیش کیا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد میزبان ایک بڑا سادستر خوان لے آیا اور ہمارے سامنے بچھا دیا ۔ ہم پھر اچنبھے میں پڑ گئے۔
’’چائے کے لیے اتنے بڑے دستر خوان کی کیا ضرورت تھی ؟‘‘ میں سوچنے لگا۔ میزبان پھر اندر گیا اور واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چنگیرتھی جس میں موجود گندم کی مکھن لگی گرما گرم تندوری روٹیاں اشتہا انگیز خوشبوبکھیر رہی تھیں۔ روٹیوں کے ساتھ پیالیوں میں شہد اور مکھن بھی تھا۔ اس نے یہ لوازمات ہمارے سامنے رکھ دیے ۔
’’یہ چائے تو نہیں۔‘‘ میں مسکراکر بولا۔
’’چائے بس ابھی آرہی ہے جی ۔‘‘میزبان فورا بولا اور دوبارہ اندر چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کے دیس میں (9) - احسان کوہاٹی

ابھی ہم نے روٹی کے چند نوالے ہی لیے ہوں گے کہ وہ دو پلیٹوں میں خشک خوبانیاں اور شہتوت لے آیا۔ہم نے ان کے ساتھ بھی انصاف کیا۔اب ہم چائے کے منتظر تھے ، لیکن کچھ اور ابھی باقی تھا ۔ ہمارا وہ فیاض میزبان اب آیا توگھر کے بنے ہوئے بسکٹ اور مکئی کے آٹے کی سوندھی سوندھی خوشبو والی روٹیاں بھی ساتھ لایا۔

یہ تازہ، خستہ اور لذیذ اشیا ء کھا کھا کر جب مکمل سیر ہوگئے تو کہیں جاکر چائے کا تھرماس اور کپ آئے ۔اب تک نوش کی گئی ساری اشیاء کے بعد چائے تو ایک ہی تھی ۔ ہمیں سمجھ آیا کہ چائے سے پہلے ہاتھ کیوں دھلوائے گئے تھے ۔یہ چائے کوئی معمولی چائے نہیں تھی۔ یہ ایک’’ ہاتھ دھونے والی‘‘چائے تھی۔

شیر قلعہ سے آگے ہماری منزلیں دریائے گلگت کے ساتھ وادی غذر میں سینگل، گاہکوچ اورگوپس کے قصبے تھے۔آخری کیمپ ایک خواب ناک گاؤں طاؤس میں تھا۔طاؤس جانے کے لیے ہمیں گوپس میں دریائے گلگت کو عبور کرکے پہاڑوں کے اندرسفر کرنا پڑا ۔ یہ سفر ایک نسبتاًچھوٹے دریا، دریائے یاسین کی وادی میں ہوتا ہے، جہاں سٹرک کے دونوں طرف سبز ڈھلوانیں ، گھنے باغات اور لہلہاتے سبزہ زار ہیں۔وادی کے بیچوں بیچ شفاف اور تیزرفتار دریائے یاسین ان مناظر کی جان ہے ۔ طاؤس جانے والے راستے پر مزید آگے سفر جاری رکھیں تو آپ تاجکستان تک پہنچ سکتے ہیں ۔ درہ درکوت کو عبور کرکے آپ افغانستان کے علاقہ واخان میں داخل ہوتے ہیں ۔واخان ایک مختصر سے پٹی ہے، جس کے دوسری طرف تاجکستان ہے ۔

وادیٔ گلگت ویاسین کے اندر جاری رہنے والے ہمارے اس سفر میں زیادہ تر مقامات پر ہماری میزبانی اسی ’’ہاتھ دھونے والے چائے ‘‘سے کی گئی ۔حتیٰ کہ یہ چائے ہمارے منہ کو ایسی لگی کہ جب بھی کہیں چائے پیش کرنے کی بات ہوتی ، ہم فوراً کہہ اٹھتے کہ یہ ہاتھ دھونے والی چائے ہے یا صرف چائے ہے۔یہ سن کر میزبان ہنستے اور جن کا ارادہ صرف چائے پیش کرنے کا ہوتا وہ کھسیانے سے ہوجاتے۔ شمالی علاقوں کے سہانے سفر سے کراچی آکر خاصا عرصہ اس ہاتھ دھونے والی چائے کا چرچا رہا اور ہم کراچی کے ’’صرف اور صرف چائے‘‘پیش کرنے والے میزبانوں کو اس ہاتھ دھونے والی چائے کا ذکر کرکرکے غیرت دلانے کی کوشش کرتے رہے ۔

Comments

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر

عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں ۔ مؤقر قومی اخبارات اور رسائل میں بھی لکھتے رہے ہیں ۔ اردو کی پہلی ڈیجیٹل کتاب "دریا دریا وادی وادی" کے مصنف ہیں۔ اس کےعلاوہ 7 کتابیں مزید لکھ چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں