ناروے کے عام انتخابات، توقعات اور خدشات - فضل ہادی حسن

ناروے میں کل یعنی 11 ستمبر بروز پیر عام انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ناروے آنے کے بعد یہ دوسرا موقع ہے کہ میں قومی انتخابات دیکھ رہا ہوں، ستمبر 2013 اور اب ستمبر 2017۔ 2013 کے انتخابات اور وہاں ایک پولنگ اسٹیشن دیکھنے کا موقع ملا تھا، جو ہمارے یعنی پاکستانی انتخابات سے 180 ڈگری مختلف پایا تھا۔ اس حوالے سے اپنے تاثرات اس وقت پیش کیے تھے۔

ناروے میں کافی ساری پارٹیاں ہیں (پارلیمنٹ کے اندر اور باہر)اور یوں کوئی بھی پارٹی اکیلی واضح برتری کی صورت میں اقتدار میں نہیں آسکی ہےاور اتحاد کی بنیاد پر ہی حکومتیں وجود میں آتی رہتی ہیں۔ اس وقت بھی حکومت اور اپوزیشن آٹھ چھوٹی بڑی پارٹیوں پر مشتمل ہے۔موجودہ حکومت بھی دائیں بازوں سے تعلق رکھنے والی کنزرویٹیو پارٹی (Høyre) کی قیادت میں چار پارٹیوں کی اتحادی حکومت ہے جبکہ اپوزیشن لیبر پارٹی کی قیادت میں بھی چار پارٹیاں۔ موجودہ حکمران پارٹی نے کافی عرصہ بعد لیبر پارٹی(Arbeiderpartiet) کو شکست دیکر حکومت بنائی تھی۔ ناروے کی سیاسی تاریخ میں زیادہ عرصہ کے لیے لیبر پارٹی برسر اقتدار رہی ہے جس میں مسلسل دو یا زیادہ مدت (tenure)میں اقتدار بھی شامل ہے۔ اگر ہم 1950ء کی دہائی سے 2013ء تک کی بات کریں تو بلاشبہ لیبر پارٹی واضح اکثریت میں رہی ہے جبکہ کنزرویٹیو پارٹی درمیان میں ایک مدت کے لیے برسر اقتدار میں آتی رہی ہے لیکن مسلسل دو بار یا دو سے زیادہ مدت کے لیے حکومت میں نہیں آسکی۔ دوسال پہلے سے یہی امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ لیبر پارٹی بڑے مارجن سے حکمران پارٹی کو شکست دیکر حکومت میں آئے گی لیکن اس وقت کچھ میڈیا رپورٹس اور عام تاثر یہ ہے کہ مقابلہ کافی ٹف ہوگا جبکہ پہلی دفعہ کنزرویٹیو پارٹی (دوبارہ) مقابلہ کی پوزیشن میں ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پہلی دفعہ وہ تاریخ رقم کرتے ہوئے دوبارہ برسراقتدار آسکتی ہے۔

ناروے میں سیاسی پارٹیوں کا سیاسی نظریہ اور پس منظر کیا ہے؟ وہ بھی بڑا عجیب اور دلچسپ ہے اس پر پھر کبھی بات ہوگی لیکن مختصراً الیکشن پر بات کروں گا۔

عام معاشرے کے مال دار ہونے سےمعاشی مساوات اور برابری کے حقوق والے نعرے شائد نیم مردہ ہوگئے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ پارٹیوں کے نعروں میں بھی جان باقی نہیں رہی۔ نیز گزشتہ چند سالوں سے معاشی صورتحال کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کاسامنا اور تاریک وطن کی بڑی تعداد کی آمد سے امریکہ سمیت مختلف یورپی ممالک کو پریشانی کا سامناکرنا پڑا ہے، جس کے کچھ اثرات ناروے پر بھی پڑے ہیں۔ جب شام سے روزانہ کی بنیاد پر کئی ہزار مہاجرین ناروے پہنچنا شروع ہوگئے تو یقیناً اس نے سیاسی پارٹیوں کوکچھ قانونی معاملات میں تقریبا باہم متفق اور متحد کردیا۔ اصلاحات اور بہتری کے لیے امیگریشن قانون میں کسی حد تک تبدیلیاں بھی کرناپڑیں۔ یہاں ناروے کی تیسری بڑی اور حکمران اتحادی پارٹی پروگریس پارٹی (Fremskrittspartiet ۔ Progress Party) کے بارے میں لکھنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جو تارکین وطن کے حوالے سخت بلکہ کافی شدید پالیسی رکھتی ہے۔ مہاجرین کی کثیر تعداد میں آمد کو انہوں نے باقاعدہ اپنا سیاسی اور انتخابی پالیسیوں کا حصہ بنایا ہوا ہے۔ حکمران پارٹی (Høyre)کے حوالے سے مہاجرین (پاکستانی، صومالی، ترک، عراقی، مراکش، بوسنیا وغیرہ) کی بڑی تعداد صرف اس وجہ سے تحفظات رکھتے ہیں کیونکہ وہ پروگریس پارٹی (FrP) کی اتحادی ہے، حالانکہ اس وقت حکمران پارٹی میں کافی مہاجرین جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں، سرگرم اور قومی وصوبائی اسمبلیوں سمیت اوسلو سٹی کونسل کے ممبران کی صورت میں موجود ہیں۔

ناروے ایک بہترین فلاحی ریاست کی آئینہ دار ریاست ہے۔ یہاں کا معاشرہ مجموعی بلکہ اکثریتی طور پر تحمل وبرداشت اور روادی کا عکاس ہے۔ ماضی میں کارٹون معاملہ پر حکومت اور مسلمان تنظیموں کے درمیان بہترین حکمت عملی نے ناروے کو کسی بھی قسم کے مسائل اور پریشانی سے دور رکھا۔ مساجد اور چرچ کے درمیان ایک اچھا تعلق اور رابطہ موجود ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت اور مساجد کے درمیان بھی رابطہ اور تعلق کافی ساری غلط فہمیوں کو ختم کرنے میں ممد اور معاون ثابت ہورہاہے۔ لیکن عالمی تناظر اور حالات نے اس وقت معتدل اور پرا من نارویجن معاشرے کو بھی کسی حد تک اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وقت ناروے کا معاشرہ بھی بقیہ مغربی ممالک کی طرح کسی حد تک اسلاموفوبیا (Islamophobia) کا شکار ہے اور چند( چھوٹی) پارٹیاں تو اس کا برملا اظہار بھی کرتی رہتی ہیں۔نیز، عالمی سیاسی ماحول، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی منصب صدارت پر فائز ہونا، برطانوی بریگزیٹ (Brexit) سمیت دیگر واقعات نے ناروے کی سیاست پر بھی اثرات ڈالے ہیں۔ اس وقت انتخابی نعروں (slogans) میں حکمران پارٹی کا نعرہ مجھے کسی حد تک نیشنل ازم کی طرف پہلا قدم نظر آرہا ہے۔ حالانکہ سیاسی اورنظریاتی طور پر حکمران پارٹی(Høyre)انتہائی دائیں بازو اور کنزرویٹیو خیالات اور سیاست کرنے والی پارٹی ہے جس کا نیشنل ازم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا ہے لیکن عالمی حالات نے انہیں بھی اس انتخابی معرکہ میں کودنے کے لیے انتخابی نعرہ (Vi tror på norge) کو چنا، یعنی ’’ہم ناروے پر یقین رکھتے ہیں‘‘۔ یقیناً ہر ملک کی پارٹیاں اپنے اپنے ملکوں کے لیے سیاست کرتی رہتی ہیں اور بہتری کے لیے مؤثر انتخابی سیاسی نعرہ کا انتخاب کرتی ہیں لیکن جب کوئی نعرہ ان کی بنیادی سوچ سے مختلف اور الگ ہو تو اسے ایک بڑی ڈیویلپمنٹ قرارد یا جاسکتا ہے۔ ناروے کی بڑی جماعت لیبر پارٹی اپنی نظریاتی وابستگی کے ساتھ ساتھ اپنا پرانا انتخابی نعرہ ( Alle skal med ) یعنی ’’ہم سب ساتھ ہے/ ہم سب ساتھ ساتھ‘‘ کے ساتھ انتخابی دنگل میں کود رہی ہے، جس کی نظریات میں سوشلسٹ سوچ کا عنصر بہر حال پایا جاتا ہے۔

جب بھی نیشنل ازم کا معاملہ اور بات آتی ہے تو اس کی وجوہات توبہت ساری ہوسکتی ہیں لیکن بنیاد ی طور پر اہم وجہ ’عدم تحفظ‘ (Insecurity) قرارد یا جاسکتا ہے، عدم تحفظ چاہے امن وا مان سے تعلق رکھتا ہوں یا مالی و معاشی حالات کے ساتھ، مہاجرین کی آمد کی صورت میں عدم تحفظ ہویا بے روزگاری میں اضافہ ۔ لہذا دیگر یورپی ممالک کی طرح ناروے بھی امن وامان کے حوالے سے کافی حساس ہے۔ مہاجرین کی صورت میں گزشتہ تین چار سالوں میں کافی تعداد میں تارکین وطن پہنچ چکے ہیں، نیز تیل بحران (کم ترین سطح قیمت)سے جہاں ناروے کی معیشت پر اثر ات پڑ ےہیں وہاں بے روزگاری کی شرح میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے(گزشتہ سال کی اعداد و شمار کے لحاظ سے اب بہتری آنا شروع ہوگیا ہے)۔ اس وجہ سے اس وقت کسی حدتک ان چار وجوہات نے ناروے کے معاشرہ پر گہرے اثرات ڈالے ہیں اور یہ اثرات کل ہونے والے قومی انتخابات کے نتائج میں مزید نمایاں ہوسکتے ہیں۔ البتہ میں ناروے کے انتخابات سےمجموعی طور پر بہتر توقعات رکھوں گا، تحمل و برداشت اور رواداری کی مثال ناروے کا معاشرہ مہاجرین اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے باقی مغربی ممالک سے کافی حد تک بہتر اور مثبت پایا ہے، جس کا کریڈٹ ناروے کے عوام کو نہ دینا زیادتی ہوگی۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.