جماعت اسلامی "احتساب سب کا" کا نعرہ کیوں نہ لگائے؟ - عادل فیاض

پانامہ کیس لوگوں کے نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔ محسوس ایسا ہو رہا ہے کہ گویا نواز شریف صاحب ہی پانامہ کیس میں تنہا کردار تھے۔ اب نواز شریف صاحب ہی پانامہ کا حوالہ بن کر رہ گئے ہیں۔

جماعت اسلامی نے 11 ستمبر سے " احتساب سب کا" کے عنوان سے جی ٹی روڈ لاہور سے راولپنڈی تک مارچ کا اعلان کیا ہے تاکہ اس ایشو کو دوبارہ سے اٹھانے کی کوشش جائے کہ جناب عالیہ! باقی سینکڑوں لوگ بھی نواز شریف کی طرح کرپٹ اور بدعنوان ہیں، ذرا ان کی بھی خیر خبر لیں۔

اصولی طور پر یہ درست موقع ہے جس کو جماعت اسلامی نے اپنایا ہے لیکن کیا تنہا جماعت اسلامی کی اس جدوجہد سے سب کا احتساب ہو پائے گا؟

میرا جواب نفی میں ہے۔ چند روز قبل زرداری صاحب کو پاکستانی انصافی سسٹم نے ہی پاک صاف کر کے ایسے پیش کیا گیا جیسے گویا انہوں نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہو۔

پاکستان عدلیہ نے نواز شریف کو تو دن اور رات لگا کر نااہل قرار دیا تو باقی لوگوں کو کیوں خاموشی سے چھوڑ دیا گیا؟

جواب بہت سادہ سا ہے جو اس ملک کے سیاہ اور سفید کے مالک ہیں ان کی مرضی وہ کب کس کو ملزم اور مجرم بنائیں۔ ذرا وقت گزرنے دیں آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جے آئی ٹی کو اتنی جلدی معلومات کہاں سے فراہم کی گئیں؟

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک "وہ" نہیں چاہتے، "احتساب سب کا" نہیں ہوگا لہذا جماعت اسلامی لاکھ کوشش کر لے حاصل جدوجہد صفر!

دوسرا پہلو جو صرف جماعت اسلامی کے حوالے سے ہے وہ یہ کہ جماعت اسلامی کو اس وقت تک کسی جماعت کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، جب تک وہ ملک کی دوسری بڑی جماعت نہیں بنتی۔

مثلاً ماضی میں جماعت اسلامی نے حکومتوں کے خلاف دھرنے دیے۔ حکومتیں تو گر گئی لیکن اقتدار پھر کسی اور کو مل گیا۔ لہذا جماعت اسلامی اور دیگر جھوٹی جماعتوں کے لیے یہی راستے درست ہے وہ بڑی جماعتوں سے اتحاد کر کے اپنی عددی اکثریت بڑھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

موجود صورت حال میں جماعت اسلامی دو جماعتوں سے اتحاد کر سکتی تھی۔ ن لیگ یا تحریک انصاف۔ ن لیگ کے ساتھ دروازہ خود ہی بند کر دیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے ساتھ دور دور اتحاد کی امید نظر نہیں آتی۔ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد کے بغیر وہی منظر نامہ ہوگا جو 2013ء میں تھا۔

ہاں! متحدہ مجلس عمل کے بحال ہونے کی تھوڑی سی امید نظر آتی ہے لیکن مولانا فضل الرحمن ن لیگ کے قریب ہیں اور جماعت اسلامی ن لیگ کی مخالفت میں کھڑی ہے۔ دوسرا فاٹا میں بھی دونوں جماعتوں کا اختلاف ہے۔ اگر یہ اتحاد بنتا بھی ہے تو خیبر پختونخوا میں فائدہ ہوگا پنجاب میں نہیں۔ اگر ن لیگ والا دروازہ بند نہ کیا جاتا تو پنجاب سے جماعت اسلامی کو کچھ مل جاتا۔

مختصراً عرض یہ ہے کہ جماعت اسلامی کو پارلیمان میں اپنی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اصول کو پکڑ کر رکھیں تو وہی رزلٹ ہوگا جو 70 سالوں میں تسلسل کے ساتھ آرہا ہے۔ ہماری قوم اصول پسند ہوتی تو جماعت اسلامی جیت نہ جاتی لہذا روایتی سیاست کی ضرورت ہے۔

Comments

عادل فیاض

عادل فیاض

عادل فیاض اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے میڈیا سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سیاست، مذہب، کرکٹ، بحث و مباحثہ سے شغف رکھتے ہیں. مستقبل میں میڈیا کو اسلامائز کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.