دیوسائی کے دامن سے - امیر جان حقانیؔ

دیوسائی نیشنل پارک کی سیاحت ایک خواہش تھی، جس کی تکمیل اگست2017ء میں ہوئی۔قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے احباب کے ساتھ استور سے دیوسائی کے آخری حدود تک گیا۔انتہائی بلندی پر پھیلا یہ وسیع علاقہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارے سامنے تھا۔ برادرم محمد سلیم، الطاف اور عادل شاہ بھی قدرت خداوندی کی صناعیوں سے محظوظ ہوتے ہوئے حیرت میں مبتلا تھے کہ خدا نے کس خوبصورتی کے ساتھ یہ حسین مناظر تخلیق کیے ہیں۔

یہ تحریران احباب کے لیے ہے جو ملک کے دیگر علاقوں میں رہتے ہیں اور دیوسائی اور استور کی وادیوں سے محظوظ ہونا چاہتے ہیں۔ اس لیے میری کوشش ہوگی کہ حسین ترین ضلع استور اور اس کے سیاحتی مقامات کے متعلق اہم معلومات بھی فراہم کروں اور اپنے جذبات و محسوسات کو بھی شیئر کروں تاکہ کوئی دوست دیوسائی نیشنل پارک اور استور کے دیگر سیاحتی مقامات کی سیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے آسانی ہو۔ استور کا اصل حسن گوریکوٹ سے آگے شروع ہوتا ہے۔ گوریکوٹ سے دو راستے ہیں ایک رٹو،شونٹر، روپل بیس کیمپ، درلئی جھیل اور کالا پانی سے ہوتے ہوئے قمری وغیرہ تک جاتا ہے جبکہ دوسرا راستہ گدئی اور چلم تک جاتا ہے۔ چلم سے ایک راستہ برزل ٹاپ تک جاتا ہے جبکہ دوسر راستہ شیوسر جھیل سے ہوتے ہوئے صدپارہ جھیل اسکردو تک جاتا ہے۔ چلم سے لے کر بڑا پانی تک کا یہ پورا علاقہ دیوسائی نیشنل پارک کہلاتا ہے۔

ضلع استور کا قیام 2004ء میں لایا گیا ہے۔اس کا رقبہ 5092 مربع کلومیٹر ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 90000ہے۔ ضلع استور کے بالائی حصوں میں دنیا کے سب سے وسیع ترین میادین ہیں۔ بڑے بڑے سبزے ہیں۔گلگت بلتستان کے تین مشہور درّے استور میں ہیں۔درہ برزل وادی گریز کے پاس ہے جو 9195 بلندی پر واقع ہے۔ اسی طرح پھلوائی درہ ہے جو استور اور کشمیر کے اتصال میں ہے، اس کی بلندی 4000 ہے جبکہ درہ قمری شونٹر ٹاپ میں ہے جس کی بلندی 3396 ہے۔برزل ٹاپ اور شونٹر ٹاپ دنیا کے بلندترین درّوں میں شامل ہیں جہاں سے دوسرے علاقوں تک رسائی ہوتی ہے۔

ضلع استور میں چنگچر کے نام سے ایک بڑا گلیشیئر بھی ہے۔ اس کے علاوہ روپل میں دو بڑے گلیشیئرز ہیں جبکہ چھوٹے بڑے درجنوں اور گلیشیئرز بھی ہیں۔ استور کے ہزاروں چشموں، برفیلی چوٹیوں، ندی نالوں اور آبشاروں سے قطروں کی شکل میں پانی بہہ کر دو دریاوں کا سنگم پیدا کرتا ہے۔برزل اور قمری کے برف زاروں کے علاوہ درجنوں چھوٹے بڑے علاقوں سے دریا ندی نالوں کی شکل میں بہتے ہیں اور دو دریا کی شکل میں گوریکوٹ میں ہم آغوش ہوتے ہیں۔گوریکوٹ سے تھیلچی تک اسی دریا کو دریائے استور کہا جاتا ہے۔

دریائے استور تھیلچی کے مقام پردریائے سندسے ملکر ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا ہے۔استور میں دو مشہور جھیلیں ہیں۔ایک کا نام راما جھیل ہے جو استور کے ہیڈکوارٹر عیدگاہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس جھیل میں وافر مقدار میں ٹروٹ مچھلی پائی جاتی ہے۔راما جھیل سے نانگا پربت کا بڑا پیارا منظر دکھائی دیتا ہے۔ نانگا پربت کا ایک بیس کیمپ استور روپل میں ہے۔

استور گوریکوٹ سے روپل تک تیس کلومیٹر کی مسافت ہے۔ روپل تک جانے کے لیے جیپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ غیرملکی سیاحوں کی بڑی تعداد روپل پہنچتی ہے۔راما اور روپل کے ساتھ کالا پانی تک کے حسین مقامات بھی پہلے ہی دیکھ چکا ہوں۔ استور کی دوسری جھیل شیوسرجھیل کہلاتی ہے۔ اس کو دیوسائی جھیل بھی کہا جاتا ہے۔میں دویوسائی جھیل سے بہت ہی لطف اندوز ہوا۔ استور کی حدود دیوسائی میں واقع یہ جھیل سطح سمندر سے 13900 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ اس کی لمبائی اور چوڑائی تقریبا ایک کلومیٹر ہے۔ جھیل کے دائیں بائیں چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں ہیں۔ بظاہر اس جھیل کے پانی کے اخراج کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے مگر یہ سچ ہے کہ اس جھیل کے پانی نے زیرزمین اخراج کی جگہ بنالیا ہے۔ چلم تک جتنے پانیوں کے منابع ہیں وہ اسی جھیل کے ہی ہیں۔

شیوسر جھیل کے پاس وائلڈ لائف اور محکمہ پولیس نے اپنی چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں۔ دو تین ہوٹل بھی ہیں۔ سیاحوں کے ٹھہرنے کے لیے ٹینٹ بھی کرائے پر دیے جاتے ہیں۔ ہم نے دیوسائی جھیل کے پاس گاڑی روکی۔ ایک ٹینٹ میں پنچابی سیاحوں کا ایک گروہ لڈو کھیل رہا تھا۔برابر میں ہی پولیس والے کسی بکروال کی تقریر سن رہے تھے۔ایک سپاہی گھوڑے کو سہلا رہا تھا۔ ایک جیپ میں دیوسائی کی طرف سے سیاحوں کی ایک ٹیم بھی وارد ہوئی۔خواتین بھی دکھائی دے رہی تھیں۔سیاحوں کے پاس بڑے بڑے بیگ تھے اور ہاتھوں میں بھاری بھرکم کیمرے۔ ہم نے ٹینٹ بردار ہوٹل کے لڑکے سے گزارش کی کہ دودھ پتی چائے تیار کی جائے۔ پھر جھیل کی جانب چل دیے۔جھیل کے دائیں بائیں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہے۔میں جھیل کے شفاف پانیوں میں اتر گیا۔ میرا خیال تھا کہ جھیل کا پانی بہت یخ ہوگا لیکن پانی نارمل تھا۔

دور سے جھیل کا نظارہ کیا جائے تویہ جھیل ایک وسیع وعریض سبزے کے درمیان پانی کا ایک چھوٹا سا تالاب دکھائی دے گا۔جھیل کا پانی انتہائی صاف و شفاف اور میٹھا ہے۔دور دور تک پتھر نظرآرہے تھے۔ پانی ساکن نما حرکی منظر پیش کررہا تھا۔جھیل کا پانی جب کناروں سے ٹکراتا ہے تو ایک رومانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور جل ترنگ جیسی آواز آتی ہے۔جھیل میں سنوکارپ اور ٹروٹ مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ جان موک نے انہیں برفانی ٹروٹ کا نام دیا ہے۔

میں نے جھیل کے پانیوں میں اتر کر بہت ہی غور سے دیکھا لیکن مجھے کوئی مچھلی دکھائی نہیں دی البتہ جھیل کے کناروں میں سفید بطخوں کی ڈبکیوں اور جھیل پر اڑان نے منظرکا مزہ دوبالا کردیا تھا۔ جھیل کنارے کھڑے ہوکر میں نے اپنے تاثرات و مشاہدات بھی قلم بند کیے۔مقامی لوگوں نے اس جھیل کی مچھلیوں کو حرام مشہور کیا ہوا ہے، ان کے نزدیک اس جھیل کا پانی جامد و ساکن ہے۔لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔

ان دو جھیلوں کے علاوہ استور میں درلئی جھیل اورفینا جھیل بھی ہیں۔ایک چھوٹی سی جھیل برزل میں بھی ہے جو فوجی افسران کی تفریح گاہ بنی ہوئی ہے۔ گدئی اور شکانگ کے مشترکہ کے مشترکہ نالہ بینگ نالہ جوکہ بہت بڑی چراگاہ ہے، میں تین جھیلیں ہیں۔ گوٹوموجھیل،کروو جھیل اور شیوسر جھیل۔اس کے علاوہ شاید کچھ اور جھیلیں بھی ہوں۔شیوسر جھیل کے پاس ٹینٹ ہوٹل کا لڑکا بتار ہا تھا کہ یہاں ریچھ بہت ہیں۔ رات کے وقت ہمارے ٹینٹوں کے پاس آتے ہیں، کچرے کے ڈبے الٹا دیتے ہیں۔ اگر ریچھ کو نہ چھیڑا جائے تو کچھ نہیں کہتا۔ بھوکا بہت ہوتا ہے اس لیے رات بھر دیوسائی میں ٹینٹ ہوٹلوں اور گجر بکروالوں کے مسکنوں میں چکر کاٹتا رہتا ہے۔ آگ سے بہت ڈرتا ہے۔ ہم لائٹ لے کر اس کے پیچھے ہوتے ہیں تو وہ نکل جاتا ہے۔جسامت میں گدھوں سے بھی بڑے ہوتے ہیں۔

دیوسائی نیشنل پارک تک پہنچنے کے دو راستہ ہیں۔ایک راستہ اسکردو سے ہے جبکہ دوسرا راستہ استور سے ہے۔ استور والا راستہ قریب بھی پڑتا ہے اور ساتھ ہی یہ راستہ حسین وجمیل وادیوں سے ہوکر گزرتا ہے۔آپ اسکردو سے دیوسائی 35 کلو میٹر کے فاصلے براستہ صدپارہ جھیل سے ہوتے ہوئے دیوسائی نیشنل پارک کے حدود میں پہنچ سکتے ہیں۔اسکردو کی صدپارہ جھیل سے دیوسائی کی شیوسر جھیل تک 50 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔راولپنڈی سے جہاز کا سفر ہوتو اسکردو سے دیوسائی کی طرف آنا چاہیے بصورت دیگر قراقرم ہائی وے کا سفر بہت ہی منفرد ہوگا۔

روالپنڈی سے تقریباً 500 کلومیٹر کا سفر براستہ کاغان، ناران اور بابوسر ٹاپ تھیلچی پہنچنا ہوگا یہاں سے استور کی طرف جاتے ہوئے دیوسائی نیشنل پارک میں داخل ہونا ہوگا۔تھیلچی سے ضلع استور شروع ہوتاہے۔تھیلچی سے استور تک44کلومیٹرراستہ ہے۔چلم تک108 کلومیٹر، برزل ٹاپ تک125 کلومیٹر اور دیوسائی تک143 کلومیٹر کا راستہ ہے۔ اس راستے میں سفرکے لیے جیپ، پجیرو، ٹی زیڈ اور ویگووغیرہ گاڑیاں مناسب ہیں۔ لوگ موٹرسائیکلوں پر بھی دیوسائی پہنچ جاتے ہیں جبکہ چھوٹی گاڑیوں میں بھی بڑی تعداد میں سیاح براستہ استور سے اسکردو تک پہنچتے ہیں۔

تھیلچی سے اسکردو تک صرف 193 کلومیٹر کا راستہ ہے۔روڈ اتنا خراب بھی نہیں کہ سفری مشکلات کا زیادہ سامنا کرنا پڑے۔استور سے دیوسائی جاتے ہوئے گوریکوٹ،پکورہ، گدائی، آئیگا اور داس کھریم کی وادیوں سے گزرکر جانا ہوگا۔ گدئی اور آئیگا بھی پکنک پوائنٹس ہیں،ہم نے واپسی میں آئیگا میں جنگلی پالتو بکرے کا تازہ گوشت بشکل یخنی کھایا۔گوشت اور یخنی انتہائی لذیذ تھی۔ داس کھریم بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے۔گدئی سے چلم تک ہزاروں زوئے زمو اور یاک وغیرہ دیکھنے کو ملیں گے۔دریا کے دونوں جانب چھوٹی چھوٹی وادیاں ہیں اور جنگلات بھی۔

ہم نے سڑک کنارے ٹنوں کے حساب سے کٹی ہوئی گھاس دیکھی۔ آلو اور گندم کی فصل پک کرتیار تھی۔خواتین بڑی تعداد میں کھیتوں میں کام کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ ایک پریمی جوڑا دنیا و مافیہا سے بے خبراپنی خوش گپیوں میں مصروف تھا۔دور چکوروں کا ایک غول اڑتے دکھائی دیا۔ دریائے چلم میں نوجوان لڑکے مچھلیاں پکڑرہے تھے اور ہوٹلوں میں سستے داموں فروخت کررہے تھے۔ استور سے دیوسائی کی طرف جاتے ہوئے راستے میں بلندیوں سے آنے والا دریا ہوتا ہے۔ پکورہ گاؤں کے مقام پر یہ شفاف چمکتا ہوا نظر آتا ہے پھر اس کا رنگ نیلا ہوجاتا ہے۔

گدائی نسبتاً ایک معروف اور بڑی آبادی والا گاؤں ہے۔ یہاں انگریز کے دور کا تعمیر کیا ہوا ایک ریسٹ ہاوس بھی ہے۔ چلم چیک پوسٹ سے دوراستے نکلتے ہیں۔ ایک برزل ٹاپ کی طرف جبکہ دوسرا راستہ دیوسائی نیشنل پارک کی طرف۔ چلم چیک پوسٹ پر پاکستان آرمی متعین ہے۔آرمی کی بڑی چھاؤنی بھی ہے۔ اس روڈ پر بلکہ برزل ٹاپ تک آرمی کے بڑے بڑے ٹرک سامان سے لدے گزر رہے ہوتے ہیں۔ آرمی سیاحوں کو برزل ٹاپ کی طرف آسانی سے جانے نہیں دیتی۔ بارڈ ایریا ہے۔کارگل بارڈر بھی یہیں قریب ہے۔آرمی کمانڈنٹ کی تحریری اجازت ضروری ہوتی ہے جبکہ دیوسائی کی طرف اجازت عام ہے۔ اس کے متصل دیوسائی روڈ پر ہی ہمالین وائلڈ لائف کی چیک پوسٹ آتی ہے یہاں سے دیوسائی کا حدود شروع ہوتا ہے۔پارک میں داخل ہونے کے لیے ہمالین وائلڈ لائف جنگلی حیات کی بقا کے لیے ٹکٹ لیتی ہے۔ جولوکل سے 40عام پاکستانیوں کے200اور فارن سے10 ڈالروصول کیے جاتے ہیں۔

سچی بات یہ ہے کہ دیوسائی کا اصل حسن چلم چیک پوسٹ سے شروع ہوتا ہے۔ہمارے پاس ٹی زیڈ گاڑی تھی جو اس سفر کے لیے بڑی آرام دہ گاڑی ہے۔ راستے کے تمام حسین مناظرکا خوب نظارہ کیا۔ کہیں پر سبز ڈھلوانیں تیں تو کہیں پر عورتیں گھاس کاٹ رہی تھی۔ لمبے بالوں والے یاک، گدھوں کے ریوڑ اور انسانوں کی ٹولیاں ان سبزگاہوں میں دلکش مناظر پیش کررہے تھے۔راستے میں مقامی لوگ گدھوں پر گھاس اور بکروال اون لادتے ہوئے ہانک رہے تھے۔استور میں گدھے بھی پنجاب سے منگوائے جارہے ہیں۔ یہ گدھے اپنی جسامت سے بڑی بوجھ اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔استور میں گدھوں کی جنس مخالف نہیں پائی جاتی یعنی گدھیاں نہیں ہوتی۔چلم سے شیوسر جھیل(دیوسائی جھیل)تک 18 کلومیٹر، کالا پانی تک28 کلومیٹر، بڑا پانی تک38 کلومیٹر، شتونگ تک 48 کلومیٹر، علی ملک تک58 کلومیٹر اور صدپارہ جھیل تک68 کلومیٹر کا راستہ ہے۔ان پانچ مقامات کے دائیں بائیں قدرت کا سب سے بڑا اونچائی پر پھیلا ہوا وسیع و عریض باغ موجود ہے۔دیوسائی نیشنل پارک کے کسی بھی حصے میں کیمپنگ کی جاسکتی ہے تاہم شیوسر جھیل، کالا پانی، بڑا پانی وغیرہ میں مناسب ہے۔یہاں کھانے پینے کی اشیا بھی ملتی ہیں اور ٹوائلٹ کی گنجائش بھی موجود ہے۔سیاحوں کی حفاظت کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی چوکس رہتے ہیں۔ دیوسائی اتنا وسیع ہے کہ یہاں درجنوں بڑے ایئرپورٹ بنائے جاسکتے ہیں۔

دیوسائی نیشنل پارک میں سال کے 8ماہ ویرانی ہی ویرانی ہوتی ہے اور چار ماہ یعنی جون،جولائی اگست اور ستمبر میں بڑی ریل پیل ہوتی ہے۔ پوری دنیا کے سیاح کھنچ کر یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان چار مہینوں میں دیوسائی کے ان سبزہ زاروں میں ہزاروں کی تعداد میں بھیڑ بکریاں، گائے، خوش گائے اور یاک چرتے ہیں۔ بکروال بڑی تعداد میں براستہ آزاد کشمیر، کیل، منی مرگ اورقمری یہاں آجاتے ہیں۔ بکروال اپنی پوری فیملی کے ساتھ آتے ہیں۔ ایک بکروال کی پندرہ سو سے زیادہ مال مویشیاں ہوتی ہیں۔ محکمہ جنگلات فی بکری پر پچاس روپیہ ٹیکس بھی لگاتی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہی گجر بکروال آج کل استور کی جڑی بوٹیوں کو نکال کر فروخت کرتے ہیں۔ بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایجنٹ بکروالوں کے روپ میں آکر یہاں سے قیمتی جڑی بوٹیاں نکال لے جاتے ہیں۔ دیوسائی نیشنل پارک اور استور کے دیگر سبزہ زاروں میں 150 سے زائد قیمتی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں۔ مقامی لوگ صرف دس تک جڑی بوٹیوں سے استفادہ کرتے ہیں۔بکروال انتہائی توہم پرست لوگ ہیں۔ عجیب عجیب توہمات پالتے ہیں۔ان کے ہاں صفائی ستھرائی کا کوئی اہتمام نہیں۔

دیوسائی نیشنل پارک کے حسین وجمیل مناظر دیکھ کرخدا تعالی کے جمال و جلال کا عقیدہ مزید پختہ ہوتا ہے۔دیوسائی جھیل سے پانچ کلومیٹر کی مسافت پر کالا پانی کی طرف سفرکرکے ہم گاڑی سے اترے اور دائیں بائیں نظریں گھمانا شروع کیا۔پوری دیوسائی کے کناروں میں بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکرے تھے اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ میرے بالکل سامنے لائن آف کنٹرول کی حدود کے پہاڑ نظر آرہے تھے۔ برادرم محمدسلیم اشارے سے بتارہے تھے کہ وہ لائن آف کنٹرول کی پہاڑیاں ہیں اورکالاپانی اور بڑا پانی کا پانی سیدھا وہیں جاتا ہے۔تاحدنگاہ پھیلے اس میدان میں بکروالوں کے بڑے بڑے ریوڑ دکھائی دے رہے تھے اور ساتھ ہی ان کے ٹینٹ بھی نظر آ رہے تھے۔

گزشتہ سال دیوسائی میں ایک فیسٹول بھی منعقد کیا جانا تھا، گراؤنڈ بھی تیار کیا گیا تھا، پھر نہ جانے کیوں اسے منسوخ کیا گیا۔ دیوسائی نیشنل پارک کے متعلق شیرباز علی برچہ لکھتے ہیں: ’’ یہ بلند وبالا قومی پارک تین ہزار چار سو چونسٹھ مربع میل علاقے پر مشتمل ہے جو دیوسائی بلتستان میں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے متصل ہے۔یہاں انسانی بودوباش تو نہیں لیکن بھورے ریچھ، مارموٹ اور خاص قسم کی ایک مچھلی جسے جان موک نے برفانی ٹروٹ کا نام دیا ہے، کا مسکن ضرور ہے۔ اصل پارک کا مربع چودہ سو مربع کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔ جون سے ستمبر تک یہاں جنگل میں منگل کا سماں ہوتا ہے۔ سیلانی جا بجا رنگ برنگ کے خیمے گاڑے دنیا و مافیہا سے بے خبر چند دنوں کے لیے موج اڑاتے ہیں۔ہمالین وائلڈ فاونڈیشن اس پارک کی دیکھ بھال کرتی ہے‘‘۔(عکس گلگت بلتستان،صفحہ )

دیوسائی کو1993میں نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا جس کی رو سے یہاں ہر قسم کی شکار پر مکمل پابندی ہے تاکہ یہاں پائے جانے والے جانوروں خصوصا بھورے ریچھ کا تحفظ کیا جا سکے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دیوسائی نیشنل پارک میں بیس سے تیس کے درمیاں بھورے ریچھ پائے جاتے ہیں۔سنا یہ ہے کہ یہ ریچھ دنیا کے دوسرے علاقوں میں نہیں پائے جاتے۔یہ ریچھ گوشت بھی کھاتے ہیں اور سبزی بھی۔ سال کے چھ ماہ سرمائی نیند(Winter Sleep )میں چلا جاتا ہے یعنی اپنے غار میں سویا رہتا ہے۔اس دوران اس کے جسم کی چربی پگھل کر اسے توانائی فراہم کرتی ہے۔ جب برف پگھلتی ہے تو یہ اپنے غار /مسکن سے نکلتا ہے۔ ریچھ کے علاوہ یہاں مارموٹ،تبتی بھیڑیا، لال لومڑی، ہمالین آئی بیکس، اڑیال اور برفانی چیتے کے علاوہ ہجرتی پرندے جن میں گولڈن ایگل، داڑھی والا عقاب اور فیلکن قابل ذکر ہیں پائے جاتے ہیں۔مارموٹ سب سے زیادہ ہیں، جن کے متعلق بھی کہا جاتا ہے کہ یہ بھی ونٹر سلیپ میں چلا جاتا ہے۔ مرموٹ بڑے بل بناتا ہے۔ ایک بل میں گھس کر دور کسی بل سے باہر نکل آتا ہے۔ علاقائی لوگوں کا کہناہے کہ یہ گھاس اور پھولوں کا اسٹاک بھی کرتا ہے سردیوں میں خوراک کے لیے۔

زیادہ بلندی کی وجہ سے دیوسائی میں درخت نہیں پائے جاتے تاہم بویانٹ نامی درخت چھوٹی جسامت کے ساتھ کافی مقدار میں ہے۔ یہاں پرندے زمین پر ہی گھونسلا بنالیتے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ دیوسائی میں ہزاروں قسم کے پھول پائے جاتے ہیں۔ ہم نے خود ہرطرف سبزوں اور بہتے پانیوں میں ان پھولوں اور جڑی بوٹیوں کا مشاہدہ کیا۔

آپ جوں جوں دیوسائی نیشنل پارک کی اُترائی و چڑھائی چھڑتے ہیں، تو بہتے پانیوں، بچھے سبزوں اور اگے پھولوں کے وسیع وعریض میدان نظرنواز ہوتے ہیں اور آپ خود کو دیوسائی میں فطرت کا مہمان محسوس کرتے ہیں۔شیوسر جھیل میں ایک چھوٹی سی کشتی کا ہونا ضروری ہے تاکہ سیاح لوگ اس کشتی کے ذریعے جھیل کا چکر بھی کاٹ سکیں۔دیوسائی نیشنل پارک اور شیوسر جھیل کے چاروں طرف سینکڑوں چوٹیاں ہیں۔ دیوسائی کی بلند ترین چوٹی شتونگ ہے جو 16000فٹ بلند ہے۔دیوسائی کے درمیان کھڑے ہوکردور تک نظریں دوڑائیں جائیں توبہت ساری چوٹیاں چھوٹی چھوٹی چوٹیاں دکھائی دیتی ہیں مگر انسان خود بہت انچائی پر ہوتا ہے اس لیے یہ چوٹیاں چھوٹی دکھتی ہیں۔ ان چوٹیوں سے ہزاروں ندیاں، چشمے، گلیشیئر کا پانی اور آبشاریں بہتی ہیں اور ہر طرف پانیوں کے منابع نظر آتے ہیں۔

یہاں ہزاروں بھیڑبکریاں، گائے اورگھوڑے گدھے چرتے دکھائی دیتے ہیں۔دیوسائی کے گرد پہاڑیوں پر اگست کے اواخر میں بھی برف دکھائی دے رہی تھی ۔ جب ان چوٹیوں پر سورج کی روشنی پڑتی ہے تو ان کی چمک سے یہ پہاڑ سونے کے نظر آتے ہیں۔موسم نارمل تھا لیکن اچانک آنے والی سرد ہوائیں اسے سرد کردیتی ہیں اور پورے جسم میں جھرجھری پیدا ہوجاتی ہے اور یک دم اوورکوٹ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔واپسی پر ہلکی بارش نے منظر میں رومانیت پیدا کی ۔بہر صورت اونچائی پرپھیلے یہ حسین مناظر دل و دماغ پر روزانہ دستک دے رہے ہیں۔میں ان مناظر کو بھولنا چاہتا ہوں لیکن یہ مناظر مجھے خواب میں بھی تنگ کرتے ہیں اور میں نیند میں بھی خود کو دیوسائی میں پاتا ہوں۔ آسمان سے متصل دیوسائی کے ان حسین مناظر اور فطرت کی تخلیقات میں صاحبان عقل اور صاحبان بصیرت کے لیے بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔قدرت کا روئے سخن بھی ہمیشہ’’ اولو الالباب‘‘ اور ’’اولو الابصار‘‘کی طرف رہا ہے۔

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.