ایک منفرد دینی سکالر کا تعارف - پروفیسر جمیل چودھری

تاریخ اسلام کے فکری مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک خاص عرصہ گزرنے کے بعد مسلمانوں میں ایسی شخصیات پیداہوتی رہی ہیں جو خالص اسلام کی تصویرپر چڑھے گردوغبار کو ہٹا کر شفاف انداز سے عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ایسی شخصیات کو عموماً مجدد کہاجاتا ہے۔مجددین کی فہرست میں امام ابن تیمیہ کانام بہت نمایاں نظر آتا ہے۔

ابن تیمیہ 1263ء میں شام کے علاقے حران میں پیدا ہوئے پھرجلد ہی ان کا خاندان دمشق منتقل ہوگئے۔آج کے لحاظ سے وہ مسلمانوں کا درمیانہ دور بنتا ہے۔دمشق کے مدرسوں سے ہی انہو ں نے علم دین حاصل کیا۔ابن تیمیہ نے اس کے ساتھ ساتھ ریاضی،الجبرا،کیلیگرافی، علم کلام،فلسفہ اور تاریخ کابھی بہت گہرا مطالعہ کیا۔ان کا حافظہ بہت اونچے درجے کاتھا۔علوم میں مہارت20سال کی عمرمیں مکمل کرلی۔درس وتدریس شروع ہوا اور مسجد امیہ میں خطابت کے جوہر بھی دکھانے لگے۔وہ فقہ میں امام احمد بن حنبل کے پیروکار تھے لیکن اندھے مقلّد کبھی نہ رہے۔وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر اجتہاد بھی کرتے تھے۔پورے علاقے کے لوگوں میں شرک،بدعات پھیل چکے تھے۔تب بہت سے فرقے کافی گمراہی بھی اختیار کرچکے تھے۔ابن تیمیہ نے ان بدعات اور گمراہیوں کے خلاف جہاد شروع کیا۔گمراہیوں کے خلاف ان کی زبان بھی بہت کام دیتی اور قلم تو ہر وقت لکھنے کے لیے بے قرار رہتا۔ایک عیسائی نے جب محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو جواب میں ابن تیمیہ نے اس کی موت کا فتویٰ صادر کردیا۔اسی دور میں ان کی معروف کتاب "الصارم المسلول علیٰ شاتم رسول" شائع ہوئی۔محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف یہ کتاب اب تک تلوار کا کام دیتی آرہی ہے۔وہ نہ صرف دین پھیلانے کے لیے زبان وقلم کی صلاحیتیں بڑی جرات سے استعمال کرتے تھے بلکہ جب شام کے علاقے میں تاتاری فوجوں نے آ کر ڈیرے ڈالے تو انہوں نے خطرے کو فوراً بھانپ لیا۔گورنر اور علماء دین سے ملاقاتیں کیں۔

ایک وفد تاتاری شاہ خازان سے ملاقات کے لیے تیار ہوا۔اب تاتاریوں نے بھی اسلام قبول کرنا شروع کردیا تھا۔شاہ تاتار کے دربار میں ابن تیمیہ نے جرات آمیز انداز سے گفتگو کی"آپ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔آپ کے ساتھ مفتی اور امام بھی ہیں۔آپ ہمارے علاقے میں آکر حملہ آور ہوئے۔کیالینے آئے ہیں؟ آپ کے بزرگوں نے یہ وعدہ کیاتھا کہ وہ ہم(شام والوں پر) حملہ آور نہ ہوں گے۔ انہوں نے وعدہ نبھایا۔آپ نے وعدہ توڑ دیا"ابن تیمیہ کی ماثر اور کاٹ دار گفتگو کے بعدایک دفعہ تاتاری لشکر پیچھے ہٹ گیا۔دوسرے اور تیسرے حملے کے وقت تاتاریوں کے خلاف ابن تیمیہ نے بھی تلوار میان سے نکالی اور عملاً جنگ میں شریک ہوئے۔اس لحاظ سے وہ دوسرے علماء سے بالکل منفرد ہیں۔ تیسرے حملہ کی تیاری میں شرکت کے لیے انہیں قاہرہ کا سفر بھی کرنا پڑا۔اس وقت کے گمراہ فرقوں کے خلاف بھی ہر طریقے سے لڑتے رہے۔ انہوں نے گورنر کی حمایت حاصل کرکے ایسے علاقوں کے درخت کٹوا دیے اور کھیتیاں جلادیں، جہاں اس وقت کے گمراہ فرقوں نے اڈے بنائے ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کے وابستگان کے لیے ایک مشورہ - وسیم گل

ابن تیمیہ دینی افکار میں سلف صالحین کی آرا کو ہی اہمیت دیتے تھے۔قرآن کی وہ تشریح جو نبی اکرمﷺ نے کی،وہ تفسیر جو صحابہ کرام سے ثابت ہے اور پھر تابعین سے حاصل کردہ تفصیلات۔ابن تیمیہ کے نزدیک دین ان3 ادوار میں ہر لحاظ سے واضح ہوگیاتھا۔احادیث کے بڑے بڑے مجموعے مرتب ہوکر عالم اسلام میں پھیل چکے تھے۔لہٰذا ہر شعبہ زندگی کے مسائل پر فتویٰ سلف کے مطابق ہونا ضروری تھا۔

وہ زیارت قبور کے بھی بڑے مخالف تھے۔خصوصی سفر صرف3۔ مساجد،مسجد الحرام،مسجد نبوی اور مسجد بیت المقدس کے لیے ہی جائز سمجھتے تھے۔زیارت قبور کے مسٔلے پر ان کے اس وقت کے سرکاری اور غیر سرکاری علماء سے شدید اختلاف ہوئے۔قاہرہ کے قیام کے دوران بھی بادشاہ وقت کو ان کے خلاف بہت بھڑکایا گیا۔حتیٰ کہ انہیں جیل میں ڈال دیاگیا لیکن وہ دین میں نئی باتوں یعنی بدعات کے خلاف جہاد سے پیچھے نہیں ہٹے۔سلف کے مؤقف پر بڑی سختی سے کھڑے رہے۔آخر میں ان کے اپنے شہر کے علماء اور حکمرانوں سے اختلاف ہوگئے اور دمشق میں ہی2سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا ان کے مشہور شاگرد امام ابن قیم بھی ان کے ساتھ جیل میں رہے۔ وہیں ان کی طبیعت خراب ہوئی اور 26 ستمبر 1329ء کو اپنے رب سے جاملے۔ایک ہی شہر دمشق میں ان کا 3 دفعہ جنازہ پڑھایاگیا۔لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔یہ جنازہ شام کے بڑے جنازوں میں شمار ہوتا ہے۔

فرانس نے جب600سال بعد شام پر قبضہ کیا تو دمشق کا بڑا قبرستان مسمار کردیاگیا لیکن مقامی لوگوں نے صرف ابن تیمیہ کی قبرکو کوشش کرکے بچایا۔ دمشق کی سیرکرنے والے لوگ بتاتے ہیں کہ ان کی قبر اب ایک ہسپتال کے احاطہ میں ہے۔ڈیڑھ صدی پہلے تک انہیں اختلافی سنی عالم دین سمجھا جاتاتھا۔ پھر لوگوں نے انہیں پڑھا اور اس پرخوب لکھا۔اب سعودی عرب کی سلفی تحریک میں انہیں بہت ہی نمایاں مقام حاصل ہے۔ سعودی عرب نے ان کی واحدانیت پر مبنی تحریروں کو بڑے پیمانے پر پھیلایااور تراجم بھی کئے۔شمالی افریقہ کی سنوسی تحریک نے بھی ان کے افکار کو بہت اہمیت دی۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کے وابستگان کے لیے ایک مشورہ - وسیم گل

دورجدید میں علامہ رشید رضا،سید ابو الاعلیٰ مودودی،سید قطلب،حسن البناء،عبداللہ عزام انہیں بڑی اہمیت دیتے تھے۔سید ابوالاعلیٰ مودودی نے انہیں اپنی کتاب"تجدید واحیاء دین" میں انہیں اپنے زمانے کا مجدد دین تسلیم کیا ہے۔حال میں جناب یوسف القرضاوی ان کے فتاویٰ کو اپنی کتابوں میں درج کرتے ہیں۔اردو دنیا بھی ان کی کتب کے تراجم کے بعد بہت کچھ جان چکی ہے۔وہ اگرچہ فقہی لحاظ سے حنبلی تھے لیکن اندھے مقلد نہ تھے۔ان کا مسلک"سلف"کا مسلک شمار ہوتا ہے۔وہ قرآن کی تفسیر میں احادیث نبوی، آثار صحابہ اور تابعین کی آراء کے بعد ٹھہر جاتے ہیں۔امام غزالی پر بھی ان کی شدید تنقید ہے کیونکہ غزالی فلسفہ اور تصوف سے متاثر ہوگئے تھے۔

اہل تصوف کی3 باتوں سے انہیں سخت اختلاف تھا۔1۔نظریہ وحدت الوجود 2۔صوفیاء کا یہ دعویٰ کہ جو دل محبت الٰہی سے معمور ہو اس کے لیے عبادت وعصیان برابر ہیں اور 3۔صوفیاء کی شعبدہ بازیاں۔تصوف کو وہ اسلام سے باہر کی شے سمجھتے تھے اور اس کا مرکز قدیم ہندوستان کو سمجھتے تھے۔دور جدید میں سید مودودی اور جاوید احمد غامدی بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ابن تیمیہ کے مطابق مسلم امہ کو تصوف نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ پروفسیر ابو زہرہ جنہوں نے ابن تیمیہ پر بہت بڑی کتاب لکھی ہے اور انہیں اسلام کے رجال عظیم میں شمار کرتے ہیں۔انہوں نے اسلام پر پڑی ہوئی کئی صدیوں کی گرد کو صاف کیا اور دور صحابہ کا اسلام شفاف آئینے کی طرح نظر آنے لگا۔قرآن و سنت کے دین کا احیاء ہی مجد دین اسلام کا اصل اور بنیادی کام ہے۔ان کی کتب کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔اسلام کا کوئی شعبہ بھی ایسا نہ ہے جس پر انہوں نے اپنی رائے نہ دی ہو۔

ابن تیمیہ نے دین کے احیاء کے لیے جو جدوجہد کی اب اس پر ایک تفصیلی اور خوبصورت مووی بھی بنا دی گئی ہے۔فلم میں صرف اصلاحی مقاصد کو سامنے رکھاگیاہے۔باطل کے خلاف تمام عمرجہاد کرنے کی وجہ سے انہیں منفرد دینی سکالر کہاجاتا ہے۔