احساسِ ذمے داری - مفتی منیب الرحمٰن

بلاشبہ ہم آزاد قوم ہیں، مگر ہم اس امر کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں کہ ہر آزادی کچھ حدود وقیود، ذمے داریوں اور پابندیوں کا تقاضا کرتی ہے، کوئی بھی آزادی بے کَراں نہیں ہوتی۔ اپنی آزادی سے فیض یاب ہوتے ہوئے یہ بھی لازم ہوتا ہے کہ دوسروں کی آزادی کا احترام کریں۔ جنگ عظیم دوم کے دوران سرونسٹن چَرچِل برطانیہ کے وزیرِ اعظم تھے، اُن کا مشہور قول ہے:’’میں آپ کی رائے سے اختلاف کرتا ہوں، لیکن آپ کے حقِ اختلاف کو تسلیم کرتا ہوں‘‘۔

آزاد میڈیا کے آنے کے بعد ہم نے آزادی کے تصور کو بدل دیا ہے،جب تک ہم دوسروں کی تحقیر،تضحیک اور توہین نہ کریں، ہمیں آزادی کا لطف ہی نہیں آتا۔یہ کیفیت جب بڑھتی چلی جاتی ہے، تو انسان مردم آزار بن جاتا ہے، آپ نے سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کو ذبح ہوتے یقینا دیکھا ہوگا، یہ کام وہ کرتے ہیں جو انسانیت کے جذبۂ ترحّم سے عاری ہوجاتے ہیں اور وحشت ودرندگی اُن کی فطرتِ ثانیہ بن جاتی ہے، احمد فراز نے کہا تھا:

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کرلو

نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

یہاں ہماری مراد شرابِ خبیث ہے، جس سے صرف شہوانیت، حیوانیت اور درندگی کے جذبات فروغ پاتے ہیں،ورنہ شرابِ طہور تو اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:(۱)’’اور اُن کا رب انہیں شرابِ طہور پلائے گا، (الدہر:21)‘‘۔(۲)’’بے شک نیکوکار ضرور (جنت کی)نعمتوں میں (مگن )ہوں گے، (عزت والی) مسندوں پر بیٹھے نظارا کر رہے ہوں گے، آپ ان کے چہروں میں نعمت کی تازگی پہچان لیں گے، ان کو مہر بندشرابِ (خالص) پلائی جائے گی، اس کی مُہر مشک ہے اور یہی وہ چیز ہے کہ جس پر للچانے والوں کے جی للچانے چاہییں اور اس کی ملونی تسنیم سے ہے، وہ چشمہ جس سے مقرّبینِ بارگاہ پیتے ہیں، (المطففین:22-28)‘‘۔

اس اُفتادِطبع کے سبب ہمارا معاشرہ بحیثیت مجموعی ذمے دار شہری اور تہذیب وتمدّن کا عکاس نظر نہیں آتا، ہرمعاملے میں اپنی حدود سے تجاوز اور دوسروں کی حدود میں دخل اندازی ہماراقومی مزاج بنتاجارہا ہے۔ اکثر ٹیلی ویژن پر ٹِکر چل رہے ہوتے ہیں کہ فلا ں فلاں علاقے میں شدید ٹریفک جام ہے،اس سے دوسروں کی حق تلفی بھی ہوتی ہے، طبیعتوں میں تناؤ بھی پیدا ہوتا ہے، گاڑیوں میں ایندھن کا خرچ بھی بڑھ جاتا ہے، انجن کی قوتِ کار بھی متاثر ہوتی ہے۔ بے تدبیری، عجلت پسندی اور بد انتظامی سے سڑکوں پر ضائع ہونے والے ایک ایک فرد کے وقت کا حساب لگایا جائے، تو اس کا میزان روزانہ لاکھوں گھنٹے تک پہنچ جاتا ہے۔

اسلام ہر شعبۂ حیات کی رہنمائی فرماتا ہے، اس میں ’’راستے کے حقوق‘‘بھی ہیں۔ شارعِ عام کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں ہوتا، اس پر سب لوگوں کے مساوی حقوق ہوتے ہیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے حقوق پر تعدّی کرے۔ لیکن ہمارے ہاں یہ عام شِعار بن گیا ہے، ہر طبقے کے لوگ جب چاہتے ہیں شارع عام کو بند کردیتے ہیں، کوئی تقریب منعقد کرتے ہیں یا جلوس وریلیاں نکالتے ہیں اور اس سلسلے میں ہمارے ہاں کوئی ضابطہ یا اصول نہیں ہے اور نہ ہی ہماری حکومت اتنی مضبوط ہے کہ قانون کی طاقت سے ان چیزوں کا سدِ باب کرے اور اس کے لیے کوئی قانون یا ضابطہ بنائے۔ میں نے امریکہ کے مختلف شہروں میں دیکھا ہے، وہاں ہمارے لوگ میلاد النبی ﷺ کے جلوس نکالتے ہیں، لیکن یہ چھٹی کے دن ہوتا ہے، مقامی پولیس سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے، جلوس کا راستہ اور وقت متعین ہوتا ہے اور جلوس کے منتظمین کو سیکورٹی فراہم کرنے والے اداروں کو باقاعدہ معاوضہ بھی دینا پڑتا ہے۔ الغرض یہ نہیں ہوسکتا کہ جب کسی کے جی میں آئے، وہ لوگوں کا راستہ بند کردے اور اُن کو اُن کے’’ حقِ مُرور‘‘یعنی Right of Passage سے محروم کردے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’راستوں پر بیٹھنے سے بچو، صحابہ نے عرض کی: یہ تو ہمارے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ ہم وہاں گفت وشنید کے لیے بیٹھتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا بیٹھنا ناگزیر ہے تو راستے کا حق ادا کرو، صحابہ نے عرض کی: راستے کا حق کیا ہے ؟، آپ ﷺ نے فرمایا: نگاہیں نیچی رکھنا، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا،(بخاری:2465)‘‘۔نگاہیں نیچی رکھنے سے مراد یہ ہے کہ غیر محرم عورتوں کو ہوس بھری نظروں سے نہ دیکھے، موجودہ دور میں چونکہ ہجوم بڑھ چکے ہیں، اس لیے کہا جائے گا کہ بیدار مغز ہوکر بیٹھو یا چلو۔اسی طرح کسی کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ راستے پر گندگی ڈالے یاپانی بہائے، چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:

(۱)نبی ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے ایک شخص کودیکھا کہ وہ جنت کی نعمتوں میں لوٹ پوٹ ہورہا ہے، جنت میں اس کے داخلے کا سبب یہ بنا کہ اس نے شارعِ عام سے لوگوں کو تکلیف پہنچانے والے ایک درخت کو کاٹ کر راستہ صاف کیا، (مسلم:1914)‘‘۔(۲)نبی ﷺ نے فرمایا: ’’لعنت کا ہدف بنانے والی دو چیزوں سے بچو، صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ! وہ کون سی دو چیزیں ہیں،آپ ﷺ نے فرمایا: راستے میں یا شجرِ سایہ دار کے نیچے قضائے حاجت کرنا، (مسلم:269)‘‘۔ (۳) آپ ﷺ نے فرمایا:’’جو مسلمانوں کے راستے میں اُن کے لیے اذیت کا سبب بنا، وہ اُن کی لعنت کا حقدار ہے،(المعجم الکبیر للطبرانی:3050)‘‘۔ (۴) آپ ﷺ نے فرمایا:’’ایک شخص جو اعمالِ خیر کا زیادہ عادی نہ تھا، اس نے راستے سے کسی درخت کی کانٹے دار شاخ کو کاٹا یا اُسے راستے سے ہٹایا، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کی اس ادا کو قبول فرماتے ہوئے اسے جنت میں داخل فرمایا، (ابوداؤد: 5245)‘‘۔(۵)حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں :نبی ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے افعال پیش کیے گئے، تو میں نے اچھے اعمال میں راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی پایا،(مسلم:553)‘‘۔(۶)حضرت ابن عمر بیان کرتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا:’’کوڑے کا ڈھیر،مَذبح، مقبرہ، شارعِ عام، حمّام، اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ اور بیت اللہ کی چھت، (ترمذی:346)‘‘۔ آپ ﷺ نے بیت اللہ کی چھت پر ادب کی بنا پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا اور باقی مقامات نماز کی تقدیس کے منافی ہیں اور شارع عام کے ساتھ لوگوں کے حقوق بھی متعلق ہوتے ہیں اور توجہ بھی بٹتی ہے۔

’’ فتحِ بیت المقدس کے موقع پر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے بیت المقدس کے آگے مسجد کی بنیاد رکھی، کعب بن مالک نے انہیں اشارے سے کہا:صخرۃ کے سامنے رکھیں، حضرت عمر فاروق نے انکار کیا اور ان پر ناراضی کا اظہار کیا۔ آپ نے یہودیوں کے مقدس مقام کی اہانت نہیں کی، بلکہ وہاں پر جو گندگی تھی، اپنی چادر میں ڈال کر اسے صاف کردیا اورمسلمانوں نے بھی اُن کے ساتھ مل کر وہاں جھاڑو لگایا۔ اس فعل کو اس تناظر میں سمجھیں کہ نصاریٰ کوجب بیت المقدس میں غلبہ ملا تو انہوں نے یہودیوں کے مقدس مقام کو کوڑے کا ڈھیر بنادیا، کیونکہ وہاں یہود کا قبلہ تھا اور یہ عمل انہوں نے یہود سے بدلہ لینے کے لیے کیا، کیونکہ جب یہود کو وہاں غلبہ حاصل تھا تو نصاریٰ کے مقدس مقام کو انہوں نے گندگی کا ڈھیر بنادیا، اسی بناپر یہود ونصاریٰ پر لعنت کی گئی، (مسند الفاروق لابن کثیر، ج:1،ص:536)‘‘۔اب بھی فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کو غلبہ حاصل ہے، اس لیے وہ وقتاً فوقتاً بیت المقدس کو آگ لگانے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عظیم کردار اور اعلیٰ اقدار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے غلبے کے زمانے میں دونوں مذاہب کے مقدس مقامات کے احترام کو ملحوظ رکھا، کیونکہ اسلام تمام انبیائے کرام کا احترام کرتا ہے اور یہودونصاریٰ کے مقدس مقامات بالترتیب حضرت سلیمان وعیسیٰ علیہما السلام کی ذواتِ مقدسہ کے ساتھ نسبت رکھتے تھے۔

اسی طرح ہمارے ہاں دوسروں کی حق تلفی بھی ایک شعار بن چکی ہے، لوگ لاکھوں روپے خرچ کر کے اپنے مکانات کی رنگائی کرتے ہیں،ابھی اس سے فراغت نہیں ہوتی کہ اگلے دن کوئی من چلا آکر اس پر اپنے من پسند نعرے لکھ دیتا ہے، خواہ اس کا تعلق کسی تنظیم سے ہویا کسی لیڈر کی شان میں قصیدہ گوئی کرنی ہویاکسی کی توہین مقصود ہو یا پروفیسرگوگیا پاشا ٹائپ کا کوئی ’’روحانی عامل‘‘ہو یا سر کی چوٹی کے بال سے لے کر پاؤں کے تلووں تک ہر مرض کے لیے نسخۂ اکسیر فراہم کرنے والے قبلہ بڑے حکیم صاحب ہوں۔عید الاضحی کے موقع پر گلی کوچوں میں نجاست پھیلانے کی ہر ایک کو آزادی ہوتی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے کہ قربانی کی آلائشوں کے لیے ہر محلے میں ایک پوائنٹ مقرر ہواورمقامی ادارے بھی آلائشوں کو بروقت ٹھکانے لگائیں۔ الغرض آج ہمیں اپنی اجتماعی زندگی میں تہذیب وتمدن کی مسلّمہ اقدار کو فروغ دینے کی ضرورت ہے،عوام میں احساسِ ذمے داری اور شعورِ آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جسے Civic Sense کہتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمارا الیکٹرانک میڈیا مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ کیونکہ میڈیا کے مقاصد میں لوگوں کو آگہی دینا اور شعور عطا کرنا ہے، انہیں معاشرے کا ذمے دار فرد بنانا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارا میڈیا بحیثیت مجموعی یہ فریضہ انجام نہیں دے رہا، بلکہ وہ ذہنی وفکری انتشار کو ہوا دے رہا ہے، انہیں ریٹنگ کی ایسی خطرناک بیماری لاحق ہوچکی ہے، جس کا علاج ہماری قابلِ افتخار عدلیہ اور پیمرا سمیت کسی کے پاس نہیں ہے، حکومتِ وقت خود ریٹنگ کے سلطان سے جانِ اقتدار کے امان کی طلب گار رہتی ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی پسند وناپسند اور عصبیتوں کا اسیر ہے یا کسی طے شدہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے،انسانی اقدار ترجیحات کی فہرست میں شامل ہی نہیں ہیں۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں