” خدا رکھے، نمک رکھتی ہے کِتنا گفت گو تیری“ - عامر اقبال ارائیں

”جس طرح ہمارے ہاں طریقت کے سلاسل ہیں، چشتی، قادری، نقشبندی، سہروردی، وغیرہ اور ہر سلسلہ کا کوئی بانی ہے، اسی طرح قائداعظمؒ سے ایک نئی طریقت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ طریقت ہے” پاکستانی “۔ اس طریقت میں تمام سلاسل اور تمام فرقے شامل ہیں۔ ہر ”پاکستانی“ پاکستان سے محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ ہمارے لیے ہمارا وطن خاک حرم سے کم نہیں۔ اقبالؒ نے مسلمانوں کو وحدتِ افکار عطا کی، قائدِاعظم نے وحدتِ کردار۔ آج اگر قوم میں کوئی انتشار خیال ہے تو اس لیے کہ وحدت پر عمل نہیں۔ وحدتِ فکر و عمل عطا کرنا وقت کے صاحبِ حال کا کام ہے۔“ [1] واصف علی واصف نے ان تمام مباحث کا کس خوب صورتی سے جواب دے دیا کہ آخر تحریکِ پاکستان کے جھنڈے تلے مختلف رنگ، نسل، زبان، معاشرت، تہذیب و تمدّن والے یک جا کیوں ہو گئے تھے؟ کیوں انہوں نے اپنے سجے سجائے گھر اور جائیدادیں چھوڑ کر، بنے بنائے کاروبار اور لگی لگائی نوکریاں چھوڑ کر بظاہر ایک منحنی سے لیکن درحقیقت عزم و ہمت کے پیکر ”پیرِ طریقت“ قائدِ اعظم سے وابستہ ہونا قبول کر لیا تھا؟ جب ہم اپنے آپ کو پاکستانی مان لیتے ہیں تو اس ”پاکستانی“ طریقت کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ طریقت کے کچھ اصول ہوتے ہیں، جن کی پابندی لازم قرار پاتی ہے۔ طریقت کے پیروکاروں کی کچھ ذمے داریاں بھی ہوتی ہیں، جن کی ادائیگی فرض قرار پاتی ہے۔ انہی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنی تاریخ سے درست واقفیت حاصل کریں اور اس میں دانستہ یا نا دانستہ ہونے والی کسی بھی ملاوٹ کی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ اس ذمہ داری کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اصل تاریخی حقائق کو اپنی آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا فرض پورا کریں۔

” پاکستانی “طریقت کی اس اہم ذمہ داری کو پورا کرنے میں معروف محقق اور ماہرِ اقبالیات جناب خرم علی شفیق نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن کی نئی کتاب ”اقبال: دَورِ عُروج“ پڑھنے کے دوران نہ صرف آپ کو تاریخِ پاکستان کے بہت سے نئے حقائق کا علم ہوتا ہے بلکہ بہت سے افسانوں پر سے پردہ اٹھتا ہے جنہیں آپ حقیقت سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ”اقبال: دَورِ عروج“ کے مطالعے کے بعد قارئین بہت سے مصنفین کی نادانستہ غلطیوں کی درستگی کے لائق بھی ہوجاتے ہیں اور تاریخِ پاکستان پر دانستہ حملہ آور ہونے والوں سے بھی آگاہ ہو جاتے ہیں۔

اِس غیر معمولی کتاب کے مطالعے کے بعد غیر متوقع طور پر سامنے آنے والی بےشمار غلطیوں میں سے ایک ہوش اُڑا دینے والی غلطی نام وَر امریکی محقّق سٹینلے وَولپرٹ کی مشہورِ زمانہ کتاب ”Jinnah of Pakistan“ میں آشکارا ہوئی، جس کی پہلی اشاعت ۱۹۸۴ء میں ہوئی تھی۔ کتاب میں مذکور قابلِ اعتراض عبارت یوں ہے:

یہ بھی پڑھیں:   تبصرہ کتب: تحریکی مکالمے - سہیل بشیرکار

” جناح نے اپنے مسلم لیگی دھڑے کے ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد اسے برخاست کر دیا۔ ۱۹۲۹ء کے پہلے دن وہ آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں داخل ہوئے، جس کی صدارت دہلی میں آغا خان کر رہے تھے... ... شفیع اپنے پنجابی رفقاء کے ساتھ وہیں موجود تھے جب جناح لال قلعہ کے پریڈ گراؤنڈ پر بنے ریشمی پنڈال میں داخل ہوئے۔ جناح تاخیر سے آئے تھے اور اکیلے بیٹھے تھے۔وہ ہنوز متذبذب تھے... کیا یہ واقعی اُن کا وَطن تھا؟ کیا یہ حقیقتاً انہی کے لوگ تھے؟“ [2]

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فاضل مصنّف نے کتنی باریک بینی سے جزیات تک پر توجّہ دی ہے جیسا کہ جناح کا تاخیر سے آنا، اُن کا اکیلا بیٹھنا، حتّٰی کہ اُن سوچوں تک کا ذکر جو جناح کے ذہن میں وہاں اکیلے بیٹھے رہنے کے دوران آ رہی تھیں۔ اب حضرت وَولپرٹ کی انشاپردازی کے صدقے واری جانے کے بعد آپ کو یہ معلوم ہو کہ محمد علی جناح تو اُس کانفرنس میں گئے ہی نہیں تھے تو آپ پر کیا گزرے گی؟

۲۹ دسمبر ۱۹۲۸ء کو البرٹ ہال کلکتہ میں جناح لیگ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایک دن بعد دہلی میں شروع ہونے والی آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کی گئی۔ کانفرنس میں شرکت کی مخالفت کی یہ قرارداد ایم سی چھاگلہ نے پیش کی تھی اور بھاری اکثریت سے منظور کی گئی تھی۔ اس قرارداد کی تفصیلات جناح لیگ کی قلمبند کی گئی دستاویزات کے علاوہ اُس دَور کے جرائد وَ اخبارات میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ وَولپرٹ کا جناح لیگ کے اُس اجلاس کو، جس میں یہ قرارداد منظور کی گئی تھی، ”ہنگامہ خیز“ قرار دینا اُس کے قارئین کو یہ غلط تاثر دیتا ہے کہ وہ اُس اجلاس کی کارروائی سے بخوبی واقفیت رکھتا ہے۔

آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں شمولیت اختیار نہ کرنے کا جناح لیگ کے فیصلے کا ٹیلی گرام، جناح کے ذاتی ٹیلی گرام کے ساتھ کانفرنس میں پہنچایا گیا تھا۔ یہ دونوں ٹیلی گرام تاریخ کا حصہ ہیں اور کانفرنس کی باضابطہ رپورٹ میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔ لیگ کے ٹیلی گرام میں لکھا تھا کہ ، ”لیگ کو افسوس ہے کہ وہ آل پارٹیز مسلم کانفرنس کے جنرل سیکریٹری کی یہ دعوت قبول نہیں کر سکتے... جیسا کہ لیگ شدّت سے اِس خیال کی حامی ہے کہ یہ (کانفرنس) مسلمانوں کے مفاد میں تباہ کُن ثابت ہو گی۔“ جناح کے ٹیلی گرام کے الفاظ تھے، ”لیگ کے فیصلے کا پابند ہوں۔“ کانفرنس کے بیشتر شرکاء جناح کے کانفرنس میں شمولیت سے انکار کو موضوعِ بحث بناتے رہے۔

قارئین مذکورہ رپورٹوں کی تفصیلی عبارتیں بمعہ تاریخی سیاق و سباق اور مکمل حوالہ جات، جناب خرم علی شفیق کی کتاب ”اقبال: دَورِ عُروج“ کے ساتویں باب میں پڑھ سکتے ہیں۔ [3]اِس کتاب کا برقی ایڈیشن آپ بغیر معاوضے کے یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ [4] آپ اسے پڑھ کے آگے پھیلانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، یوں آپ بھی اس مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کتاب "صالح اور مصلح" پر تبصرہ - فیصل اقبال

وولپرٹ کی کتاب کی مذکورہ عبارت کو صرف غلطی سمجھ کے درگزر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ایسا نہیں ہے کہ مصنّف نے کسی ایسے ماخذ سے رجوع کیا ہو جو بعد میں غلط ثابت ہُوا ہو۔ درحقیقت یہ سارا واقعہ فاضل مصنف کی تخیّل پردازی کا نتیجہ ہے جو جھوٹی یا سچی، کسی بھی طرح کی شہادت کے بغیر گھڑا گیا۔ اس معاملے میں جناب آغا خان سوم کی خود نوِشت سوانح حیات وہ واحد ماخذ ہے جس کا ذکر وَولپرٹ نے اپنی کتاب میں کیا ہے۔ جس جگہ وَولپرٹ نے اپنی تخیل پردازی کی ہے، اس سے اگلے پیراگراف میں آغا خان سوم کا حوالہ یوں موجود ہے کہ انہوں نے لکھا، ”کانفرنس مسٹر ایم اے جناح کی اپنے مسلمان رفقاء سے موافقت میں واپسی کی وجہ بنی۔“ [5] جب ہم آغا خان سوم کی خود نوِشت سوانح حیات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس جملے کے سیاق و سباق سے واقف ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آغاخان کانفرنس کے حوالے سے جناح کی سوچوں میں آنے والی اُس ذہنی و فکری تبدیلی کی طرف صریحاً اشارہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جناح نے کانگریس کو قطعاً چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کر لیا تھا۔ اپنی سیاسی زندگی کے آغاز سے اُس وقت تک وہ آہنی شخص جو مسلم ہندو اتحاد کا سب سے بڑا حامی رہا ہو، جب اُسے یہ احساس ہو جائے کہ اب اُس کا مستقبل کانگریس یا کسی اور جماعت میں نہیں بلکہ صرف اور صرف مسلم لیگ میں ہے تو یہ تبدیلی ”واپسی“ ہی کہلائے گی۔ ایک عظیم مسلمان سیاسی شخصیت مسلمانوں کو واپس مل گئی تھی۔ یوں لگتا ہے کہ وَولپرٹ نے لفظ ”واپسی“ سے غلط استنباط کیا اور اِس واقعے میں باطل رنگ اُس کی ناتراشیدہ قوّتِ اختراع نے بھر دیے۔

کہا اِک حَرف تُو نے، زخمِ کہنہ ہو گیا تازہ

خدا رکھے، نمک رکھتی ہے کتنا گفت گو تیری

سوال اٹھتا ہے، اِسے کیا نام دیا جائے؟ نادانستگی میں کی گئی غلطی، دانستہ طور پر تاریخِ پاکستان بگاڑنے کی کوشش، یا فاضل مصنّف کی اپنی جہالت کہ بنیادی حقائق و شواہد اکٹھے کیے بغیر ”پیرِ طریقت“ کی ذات پر افترا! فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔


حوالہ جات:

[1] واصف علی واصف؛ دل دریا سمندر؛ باب: صاحبِ حال

[2] Stanley Wolpert; Jinnah of Pakistan; 1984; p 103-104

[3] خرم علی شفیق؛ اقبال: دَورِ عروج (۱۹۲۳ء تا ۱۹۳۰ء)؛ 2017ء

[4] http://www.khurramalishafique.com/p/iqbal4.html

[5] Sir Sultan Aga Khan; The Memoirs of Aga Khan; 1954; p 210