شاہینوں کا دن - عرفان صادق

کون جانتا تھا کہ سرزمین بنگال پر پیدا ہونے والا ایک بچہ 'لٹل ڈریگن' کے نام سے معروف ہوگا۔ یہ خیال تو اس کی ماں کو بھی نہ آیا ہوگا کہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والا محمد محمود عالم ایک د ن دشمن پر عقاب بن کر جھپٹے گا اور ارض پاک پر حملہ کرنے والوں کو ناکوں چنے چبوائے گا۔ شاعر مشرق کا تصوراتی شاہین اسی کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہوا جسے آج دنیا ایم ایم عالم کے نام سے جانتی ہے۔

جنگ ستمبر 1965ء میں ایم ایم عالم نے اشارہ ملتے ہی سرگودھا ایئربیس سے اڑان بھری، اقبال کا ایک شاہین دشمن پر جھپٹنے کے لیے، جذبہ شہادت سے سرشار، فضاؤں کی بلندیوں میں پرواز کرنے لگا اور کچھ ہی دیر بعد دشمن کے طیارے اس کے سامنے تھے، وہ اکیلا اور مدمقابل پانچ ہنٹر لڑاکا طیارے۔ ایک طرف ایف86 سیبر طیارہ اور مدمقابل جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہنٹر، سیبر تکنیکی اعتبار سے ان طیاروں سے کہیں فروتر تھا لیکن مرد مومن کبھی اسباب پر بھروسہ نہیں کرتا۔ اس کا یقین تو اس قادر ذات پر ہوتا ہے جو عرش بریں پر موجود ہے۔

پھر کچھ ہی دیر میں ایم ایم عالم نے عقابی وار شروع کیے۔ پہلے 20 سیکنڈوں میں دو طیارے نشانے پر لے کر تباہ کیے، اور پلٹا کھا کر عقب میں موجود دو طیاروں کی طرف لپکے۔ اگلے دس سیکنڈوں میں وہ دونوں بھی شکار بن چکے تھے۔ یوں 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں وہ دشمن کے 4 طیارے تباہ کر چکے تھے۔ اسی اثناء میں پانچواں طیارہ ایم ایم عالم کی رینج سے کچھ دور ہو کر حملے کی تیاری کر رہا تھا لیکن ریڈار کی مدد سے اس کو بھی نہ چھوڑا اور اگلے 24 سیکنڈوں میں وہ بھی لقمہ اجل بن چکا تھا۔ یہ ایک عالمی ریکارڈ تھا، ایسا ریکارڈ جسے آج جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کوئی نہیں توڑ پایا۔ جب ایم ایم عالم واپس سرگودھا ایئر بیس پہنچے تو فضا تکبیر کے نعروں سے گونج رہی تھی۔

اس جنگ میں ایم ایم عالم نے اپنے ایف 86 سے مجموعی طور پر 9 طیارے مار گرائے اور دو کو نقصان پہنچایا۔ ان میں سے چھ ہنٹر طیارے تھے۔ ان میں 6 ستمبر 1965ء کو نمبر 7 اسکواڈرن کے اسکواڈرن لیڈر اجیت کمار راولی کا ایک ہاکر ہنٹر اور پھر 7 ستمبر کو 5 ہنٹر اسکواڈرن لیڈر اونکار ناتھ کیکر نمبر 27 اسکواڈرن، جنگی قیدی، اسکواڈرن لیڈر اے بی دیویا , نمبر 7 اسکواڈرن، اسکواڈرن لیڈر سریش بی بھگوت، نمبر 7 اسکواڈرن، فلائٹ لفٹنٹ بی گوہا، نمبر 7 اسکواڈرن اور فلائنگ آفسیر جگدیشن سنگھ برار، نمبر 7 اسکواڈرن شامل تھے۔ 16 ستمبر کو ایم ایم عالم نے ایک اور ہاکر ہنٹر کو نشانہ بنایا جو فلائنگ آفیسر فرخ دارابنشا اڑا رہے تھے جن کا تعلق نمبر 7 اسکواڈرن سے ہی تھا۔

یہ تو صرف ایک ایم ایم عالم کی کہانی تھی۔ پاک فضائیہ کا ہرجوان تب بھی شاہینوں کی طرح جھپٹنے، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا اور آج بھی ہے۔ یہ وہی جوان ہیں جو ستاروں پہ کمند ڈالتے ہیں اور اقبال کے محبوب ہیں۔

پاک فضائیہ قیام پاکستان کے ساتھ ہی وجود میں آئی۔ تب پاکستان کے پاس 2332 کا عملہ تھا جن کے پاس 24 ہاکر ٹیمپسٹ (Hawker Tempest) لڑاکا جہاز، 16 ہاکر ٹائیفون (Hawker Typhoon) لڑاکا جہاز، 2 ہیلی فیکس (Halifax) بمبار جہاز، 2 آسٹر (Auster) جہاز، 12 ہارورڈ (Harvard) مشاق جہاز اور 10 ٹائیگر موتھ (Tiger Moth) عام جہاز۔ اس کے علاوہ اس کے پاس 8 ڈکوٹا (Dakota) جہاز بھی تھے جو بھارت کے خلاف 1948 کی جنگ میں فوجیوں کو میدان جنگ لے جانے کے ليے بھی استعمال ہوئے۔ پاکستان کے پاس 7 ہوائی اڈے بھی تھے جو تمام صوبوں میں موجود تھے۔ 23 مارچ 1956ء کو شاہی پاک فضائیہ کا نام پاک فضائیہ کردیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاک فضائیہ ترقی کی منازل طے کرتی چلی گئی اور صرف وطن عزیز ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے لیے بھی بھرپور کردار پیش کیا۔

جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان کی بقاء کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے۔ اس لیے ہنگامی طور پر فضائیہ کو جدید سازوسامان سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ فرانس تو اپنے میراج 2000 بیچنے کی پیشکش کر رہا تھا لیکن پاک فضائیہ ایف-16 یا ایف-18 خریدنے کا سوچ رہی تھی۔ امریکا نے انکار کردیا بلکہ ان کی جگہ ایف-5، ایف-20 اور اے-10 تھنڈربولٹ بیچنے کی پیشکش کی۔ لیکن رونلڈ ریگن کے صدر بننے کے بعد ایف-16 بیچنے کا فیصلہ کیا۔ اس معاملے میں جنرل ضیاء الحق کی ضد کام کرگئی جو ایف-16 خریدنے پر ڈٹ گئے تھے۔ پھر 1987ء سے 1997ء کے دور پاک فضائیہ نے ایف-7 اور میراج-3 لڑاکا کی جگہ پانے کے لیے ایف-16 حاصل کیے۔ لیکن 90ء کی دہائی میں ایٹمی پروگرام کی وجہ سے پاکستان پر امریکی پابندیاں لگیں اور یوں 71 ایف-16 طیارے پاکستان کو نہيں مل سکے۔

بلاشبہ یہ اس وقت کی بے نظیر حکومت کی بڑی ناکامی تھی بلکہ حقیقت یہ تھی کہ حکومت نے طیارے حاصل کرنے کے لیے اتنی کوشش ہی نہیں کی۔ بہرحال، 1998ء آیا اور پاکستان جوہری دھماکا کرکے ایٹمی طاقت رکھنے والے ممالک میں شامل ہوگیا اور ساتھ ہی امریکا اور یورپ کے کئی ممالک نے پاکستان پر پابندیاں لگا دیں۔ یوں پاک فضائیہ کئی نئے لڑاکا طیاروں کی خریداری سے محروم ہوگئی۔ یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے اپنے جہاز خود بنانے کا فیصلہ کیا اور چین کے ساتھ مل کر 'کے-8' تربیتی ہوائی جہاز بنائے۔ آج پاکستان چین ہی کے تعاون سے جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا جہاز بنا رہا ہے جو کامرہ میں تیار کیے جا رہے ہیں۔

پاک فضائیہ کے پاس اس وقت ایف-7، میراج-3، میراج-5، ایف-16 اور کیو-5 طیارے ہیں۔ ان سب کو ملا کر 1530 طیارے بنتے ہیں۔ پاک فضائیہ اپنے میراج-3 کو روز-1 اور روز-3 سے اپگریڈ کر رہی ہے جبکہ ایروناٹیکل کمپلیکس میں 150 جے ایف-17 تیار ہو رہے ہیں جن کا پہلا اسکواڈرن فضائیہ میں شامل بھی ہو چکا ہے۔ آج اللہ کے فضل سے پاکستان کی فضائیہ دنیا کی بہترین افواج میں نمایاں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */