7 ستمبر کمال کا دن، قادیانیوں کے زوال کا دن - افتخار چودھری

آج سات ستمبر ہے یوم فضائیہ تو ہے ہی آج ایک اور یادگار دن بھی ہے اور کمال کا دن بھی کہ آج کے دن قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ سلام ان عظیم لوگوں پر جنہوں نے اسلام کے ماتھے سے ایک سیاہ دھبے کو صاف کیا۔ یہ جدوجہد ایک عرصے سے جاری تھی، اس وقت سے جب پنجاب کے ایک گاؤں قادیان سے تعلق رکھنے والے غلام احمد قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔جھوٹے لوگ کبھی امام،کبھی مصلح کا نام لے کر سامنے آتے رہتے ہیں لیکن غلام احمد قادیانی نے حکومت انگلیشیہ کے ساتھ مل کر جہاد کے خلاف بات کرکے مسلمانوں کی آزادی کی تحریکوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپا تھا۔

دراصل انگریز جہادی عناصر سے بڑے پریشان تھے انہوں نے دیکھا کہ مسلمان 1857ء کی جنگ آزادی میں اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر اپنے سینوں پر گولی کھاتے تھے۔سو اس نے ایسے بندے تلاش کیے جو جہاد کو موقوف قرار دیں اور کہیں کہ جہاد حرام ہو چکا ہے اور اور اولی الامر کی اطاعت کا درس موجود ہے۔وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہا اور بڑے بڑے ذہین و فطین لوگ مرزا غلام احمد قادیانی کی دعوت کو قبول کر بیٹھے۔

پھر قادیانیت کے خلاف تحریک میں ایک ڈرامائی موڑ آیا۔ 1974ء میں نشتر میڈیکل کالج، ملتان کے چند طلباء تفریحی دورے کے لیے نکلے جن کی قیادت ارباب عالم نامی نوجوان کر رہے تھے ۔ یہ وہ ایام تھے جب جمعیت کا طوطی بولا کرتا تھا۔یہ ٹرین جب ربوہ اسٹیشن پر رکی تو مبلغ قادیانیوں کے خلاف طلباء نے ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے۔اس وقت تو قادیانیوں نے انہیں کچھ نہیں کہا، مگر واپسی پر ریلوے کے عملے کی ملی بھگت سے ان طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ نوائے وقت نے اس لڑائی میں سرخیل کا کردار ادا کیا۔مجید نظامی کے اس اخبار نے کمال کا کام کیا اور اس تحریک جس کی آگ پہلے سے ہی موجود تھی، اسے مزید بھڑکا دیا جو پورے پنجاب میں پھیل گئی۔میں ان دنوں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی کا طالب علم تھا کالج یونین کا نائب صدر اور اسلامی جمعیت طلبہ کا ناظم تھا۔میں نے بھی بساط بھر اس تحریک میں حصہ لیا۔

اس آگ کے شعلے پورے پاکستان میں پھیلے تو لاہور اور گجرانوالہ بھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔ہماری رہائش باغبانپورے کی چودھری برخوردار والی گلی میں تھی۔ اس جد وجہد میں علمائے دیو بند کا کردار پہلی صفوں کے مجاہدوں والا تھا۔ قومی سطح پر علامہ شاہ احمد نورانی، رفیق احمد باجوہ، جو قومی اتحاد کے سیکریٹری جنرل بھی رہے اور ذوالفقار علی بھٹو سے خفیہ ملاقات کے انکشاف کے بعد زیرو ہو گئے، مولانا مودودی،مفتی محمود اور دیگر لوگ اپنے ناموں کو اپنی عظیم کوششوں کی وجہ سے سنہرے الفاظ میں لکھوا چکے ہیں میں اپنے شہر کی بات کرتا ہوں۔ہم لوگوں نے مولانا زاہد الراشدی، اللہ عمر دراز کرے، عبداللطیف چشتی اور دیگر علماء کی زیر قیادت جد وجہد شروع کی۔مساجد میں تقاریر میں فضائل ختم نبوت بیان کئے جاتے اور پھر لوگ سڑکوں پر تاج و تخت ختم نبوت کے نعرے لگاتے۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ - حامد کمال الدین

ایک سہ پہر کو میں اپنے دو دوستوں کے ساتھ جناح روڈ چوک سے گزر رہا تھا۔ یہاں اس وقت راجباہ کا پل ہوا کرتا تھا اور جو بعد میں شہر بھر کی گندگی کی آماجگاہ بنا۔اب اس پر شاندار جناح روڈ موجود ہے اور چوک بھی خوبصورت بن گیا ہے۔یہاں پولیس والوں نے مجھے دبوچ لیا۔اس کی وجہ میرا وہ زعفرانی رنگ کا شلوار سوٹ تھا جو دوران تقریر میں نے پہن رکھا تھا۔ اے سی نے اسے شناخت کر کے مجھے پکڑوا دیا۔میرے ساتھی ارشد بھٹی اور فاروق بھی ساتھ تھے۔ارشد تو فوراً غائب ہو گیا البتہ جب مجھے دھکے دے کر پولیس وین میں ڈالا جا رہاتھا تو فاروق کا کہنا تھا میں اپنے دوست کو اکیلے نہیں جانے دوں گا اور اسے بھی مکے لاتیں مار کر گاڑی میں ڈال دیا گیا۔ہماری پولیس کو اللہ سمجھے یہ پہلی وار ایسے حملہ آور ہوتی جیسے اس نے کوئی ملک دشمن قابو کر لیا ہو۔ پنجاب پولیس تو ویسے بھی انگریزی تربیت کو اپنے اندر سے نہیں نکال پائی۔اب جہاں تھانہ باغبانپورہ ہے یہاں چوکی ہوا کرتی تھی، وہاں استقبال کے لیے ایک اور مہاشے موجود تھے انہیں علم تھا کہ ان دونوں میں بڑا ملزم میں تھا، اس نے سب سے پہلے جامہ تلاشی لی۔ ایک طالب علم کی جیب میں ہوتا ہی کیا ہے؟ وہ سٹپٹا کے رہ گیا۔ جب اسے کوئی خاص رقم نہ وصول ہوئی تو اس نے دھنائی شروع کر دی۔ میں نے سوال کیا مجھے کیوں مار رہے ہو؟ تو اس نے جواب دیا یہ تو مجھے بھی نہیں پتا لیکن جو کوئی بھی میرے حوالے کیا جاتا ہے اسے درجہ سوم کی پٹائی لگائی جاتی ہے۔ تمہارا جرم شدید ہے یا تو تم نے کسی لڑکی کو چھیڑا ہے یا کوئی جیب تراشی کی واردات کی ہے۔میں نے اس کی بے رحمانہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہا میں نے تو اپنے آقاﷺکی حمیت میں تقریر کی ہے، میں لاہور کا طالب علم لیڈر ہوں اور رہتا ادھر ہوں۔وہ ایک دم چونک اٹھا اور میں نے اپنے کانوں سے آوازین سنیں وہ کسی سے کہہ رہا تھا "تواڈی۔۔۔۔۔ میرے کولوں کیہ کم لیندے او؟ میں تواڈا کیہ گوایا اے؟ میرے کولوں پھل جئے عاشق رسولﷺ نے کٹ پھنڈ چڑوا کے چنگا نئیں کیتا" مجھے اس کا نام یاد نہیں اس نے میرے پیسے واپس کیے اور تھوڑی دیر بعد چائے لے آیا۔وہ رو رہا تھا وہ اس بات پر رویا تھا کہ میں نے عاشق رسولﷺ کو مارا ہے اور میں اپنے پاسے سینکنے کی وجہ سے اٹھے درد کی وجہ سے رویا۔

یہ بھی پڑھیں:   ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ - حامد کمال الدین

میرے والد صاحب سندھ میں واقع زمینوں پر تھے۔ میری ماں اکیلی میرے لیے تڑپ رہی تھی۔فاروق کا بھائی پیپلز پارٹی کا لیڈر تھا، اسے رات کو ہی چھوڑ دیا گیا۔ وہ اس شرط پر گیا کہ میری رہائی کی کوشش کرے گا۔ مجھے رات کو تھانہ سٹی لے جایا گیا اس پولیس والے نے کسی کے نام رقعہ دیا جو تھانہ سٹی میں ملازم تھا اس نے مجھے سونے کے لیے اپنا صندوق دیا کہ اس پر سو جاؤ۔کھانا بھی منگوا کر کھلایا۔ وہ میرے ہاتھ چوم رہا تھا گویا اس کے ہاتھ کوئی پیر لگ گیا ہو۔

اگلے روز جماعت اسلامی کے انور شیخ صاحب مجھے ملنے آئے۔بعد میں پیپلز پارٹی کے شیخ اکرام اور نور الہی مجھے چھڑانے پہنچ گئے۔ سعید چھرا نامی تھانے دار نے مجھ سے دعائے قنوت سنی اور چھوڑ دیا گیا۔یہ تھی ہماری اسیری اور رہائی جو ایک اعزاز سے کم نہیں۔ شاید قیامت کے دن ہمارے دائیں ہاتھ میں یہی وثیقہ اور راہداری ہو گی۔اللہ کرے میں اور فاروق دونوں اسی چٹ پر بخشے جائیں، آمین۔

بہرحال، تحریک چلتی رہی ایک دن قادیانیوں کی لائبریری کو لوٹا گیا، لوگ جو چیز ہاتھ لگی لے آئے مجھے کسی نے دو چار کتابیں تھما دیں۔ان کتابوں میں چودھری ظفراللہ خان، سابق وزیر خارجہ، کی کتاب تھی۔ یہ شخص افریقہ گیا، وہاں تبلیغ کی اور بہت سے قادیانی بنا ڈالے۔یہ وہی منحوس ہے جس نے قائد اعظم کا جنازہ یہ کہہ کر چھوڑ دیا تھا کہ یا یہ مسلمان ہے یا میں۔

پھر یوں ہوا کہ اسمبلی میں بحث چل نکلی اور اس طویل بحث کے نتیجے میں قادیانی غیر مسلم قرار پائے۔بھٹو کی بخشش اگر ہوئی تو اس نیک کام کی وجہ سے ہو گی۔اللہ تعالی ان سب کو جنت کے اعلیٰ درجات میں جگہ دے جنہوں نے اس تحریک کو کامیاب بنایا۔ آمین!