اِسلامی آداب و اخلاق: قرآن و سُنّت کے پھول - عادل سہیل ظفر

اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے تِلکَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِینَ لا یرِیدُونَ عُلُوًّا فِی الأَرْضِ وَلا فَسَادًا وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِینَ وہ(جنّت) آخرت کا ٹھکانا ہم نے ان کے لیے بنایا ہے جو زمین میں بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد چاہتے ہیں اور بے شک آخرت(کے فوائد)تقویٰ والوں کے لیے ہیں ﴾ سُورت القصص(28)/آیت 83

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد ہے وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللہ جب بھی کوئی اللہ کے لیے اِنکساری اختیار کرتا ہے تو اللہ اُس(کے درجات)کو بُلند کرتا ہے (صحیح مُسلم /حدیث 6757/کتاب البِر و الصلۃ و الآداب/باب19) اور اِرشاد فرمایا ہے وَإِنَّ اللہ أَوْحَى إِلَىَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لاَ یفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلاَ یبْغِى أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ اور اللہ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ تُم لوگ آپس میں اس قدر اِنکساری اختیار کرو کہ کوئی کسی دوسرے کے سامنے فخر نہ کرے اور نہ ہی کسی دوسرے سے حسد کرے (صحیح مُسلم /حدیث 7389/کتاب الجَنّۃ و صفۃ نعیمھا و أھلھا /باب17)

لُغتاً تواضع، تکبر اور بڑائی کی ضد ہے، یعنی کوئی انسان کسی دوسرے پر اپنے حسب نسب، مال و دولت، معاشرتی یا معاشی طاقتوری، جسمانی یا روحانی قوت غرضیکہ کسی بھی چیز کی وجہ سے خود کو اعلیٰ و برتر نہ سمجھے اور اس کا عملی اظہار کرے۔ انسان کی تواضع کی تعریف یہ بھی کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے سب سے ہلکا اور کمتر سمجھے اور اسی کے مطابق دوسروں کے ساتھ رویّہ رکھے۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق تواضع یعنی اِنکساری اللہ سُبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے ارسال کردہ کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے تعلیمات جو سراسر حق ہیں کو قبول کرنا ہے اور اللہ کی رضا کے لیے اس کے بندوں کے سامنے تکبر، بڑائی، بد اخلاقی، بد تمیزی اور بدی والے رویے کو ترک کیے رکھنا بھی تواضع ہے۔

اِن دونوں قسم کی اِنکساری کا سبق ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک وحی قرآن کریم میں بھی دِیا، اور اپنی دُوسری وحی کے ذریعے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز بان مبارک سے ادا کروائی ہوئی احادیث مُبارکہ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ادا کروائے ہوئے اعمال مُبارکہ، یعنی قولی اور فعلی سُنّت شریفہ کی صُورت میں بھی دیا۔

اِمام الفضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا کہنا ہے “تواضع یہ ہے کہ حق کے لیے جھک جایا جائے اور حق جس کسی بھی سنیے اسے قبول کیا جائے، جن چیزوں سے انسان زینت اختیار کرتا ہے ان میں سے بہترین چیز تواضع ہے “۔ غالباً انہوں نے اوپر ذِکر گئی پہلی حدیث شریف کی روشنی میں یہ بات کہی ہے، جس حدیث پاک میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ، اللہ کے لیے اِنکساری اختیار کرنے والے درجے بلند کرتا ہے، ان درجات میں دُنیاوی زندگی کی عِزت اور لوگوں کے دِلوں میں ایسے منکسر المزاج شخص کی محبت اور احترام بھی شامل ہیں اور آخرت کے درجات بھی۔

تواضع یعنی اِنکساری کی دو اقسام ہیں:

(1) وہ اِنکساری جو کسی بندے کی اُس کے رب، اللہ سُبحانہ و تعالیٰ اور اُس رب کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام، اوامر ہوں یا نواہی، یعنی کسی کام کرنے کا حکم ہو یا کسی کام سے باز رہنے کا حکم، دونوں ہی قسم کے احکام کی تعمیل کی صُورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ عمومی طور پر انسانی نفس راحت و سکون اور اپنی لذت کے حصول والے کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور نواہی پر عمل پیرا ہونا اور رہنا نفس پر کافی بھاری اور شاق ہوتا ہے، پس جب کوئی بندہ اپنے رب اللہ عزّ و جلّ اور رب کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی اختیار کرتا ہے تو اسے اپنے نفس کو اللہ کی عبادت کے لیے اللہ کے سامنے اِنکسار اور ذلت پر مجبور کرنا ہی پڑتا ہے،

(2) وہ اِنکساری جو کسی بندے کی طرف سے اس کے رب اللہ جلّ جلالہ کی عِزت، اور کبریائی، کے سامنے قولی اور عملی طور پر ذلت کا مظاہرے کی صُورت میں ظاہر ہوتی ہے، کہ جب بھی وہ اپنے اللہ کا ذِکر سنتا ہے، یا خود کرتا ہے تو اُسے اپنے رب کی عظمت کا اور اپنی کمتری کا خُوب احساس ہوتا ہے جو احساس اس کی زندگی میں ہر قول اور عمل میں ظاہر ہوتا ہے، پس اس کے اندرونی اور بیرونی أعضاء اللہ کی عِزت اور برتری کے سامنے ذلت کے ساتھ جھکے رہتے ہیں، اس کا دِل اللہ کی بادشاہی پر مطمئن ہوتا ہے اور اللہ کی سلطنت میں ایک ادنیٰ مخلوق ہونے پر فخر مند ہوتا ہے، یہ کیفیت تواضع کی اعلیٰ انتہا ء ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں یہ کیفیت پانے والوں میں سے بنائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حاجی صاحب - خالد ایم خان

تواضع اور اِنکساری کی بہترین عملی مثالیں بھی ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک میں ملتی ہیں، کیونکہ اُن کا اخلاق و کردار قرآن شریف کا عملی تھا جیسا کہ اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے فَإِنَّ خُلُقَ نَبِىِّ اللہ صلى الله علیه و علی آلہ وسلم۔ كَانَ الْقرآن بے شک نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کردار مُبارک قرآن تھا (صحیح مُسلم /حدیث1773/کتاب صلاۃ المسافرین /باب18، سنن ابو داؤد/کتاب التطوع /باب 27، سنن الترمذی، سنن النسائی، وغیرھا)

پس بلا شک و شبہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ساری صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ قرآن کریم کا عملی نمونہ ہے، ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کوئی فرمان، کوئی عمل مبارک قرآن کریم کی مخالفت نہیں رکھتا، ایسا سوچنے والے قرآن کریم کے درست فہم سے یقیناً دُور ہیں۔

اللہ سُبحانہ و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کردار مُبارک کے بارے میں خود گواہی دی ہے وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِیمٍ اور بے شک آپ بہترین اخلاق پر ہیں )سُورت القلم(68)/آیت 4)

لہٰذا کسی شک و شبہے کے بغیر ہمارا یہ اِیمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک میں تواضع یعنی اِنکساری کی سب سے اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں، جن پر عمل اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہر اُمتی کے لیے دِین، دُنیا اور آخرت میں بلند رتبوں کے حصول کے ذرائع میں سے ایک بہترین ذریعہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم غریبوں، مسکینوں، خادموں، نوکروں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے، اس کے ساتھ گھل مل کر رہتے، اور فرمایا کرتے تھے آكُلُ كَمَا یأْكُلُ الْعَبْدُ، وَأَجْلِسُ كَمَا یجْلِسُ الْعَبْدُ میں اُسی طرح کھاتا ہوں جِس طرح کوئی غلام کھاتا ہے، اور اُسی طرح بیٹھتا ہوں جِس طرح کوئی غلام بیٹھتا ہے (السلسلہ الصحیحہ /حدیث 544)

کوئی باندی بھی اگر ان کو کسی طرف لے چلتی تو اس کے ساتھ تشریف لے جا کر اس کی دار رسی فرماتے، بچوں سے محبت فرماتے ان کے ساتھ ہنسی مذاق والا رویّہ بھی رکھتے، کسی کی غلطی پر اس کو نرمی سے سمجھاتے، لیکن اللہ کی کسی حکم عدولی، اللہ کی مقرر کردہ کسی حرمت کی پامالی پر سخت ناراض ہوتے اور اس ناراضگی میں بھی خوش اخلاقی کا خوبصورت پہلو نمایاں ہوتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کسی گدی اور کاٹھی وغیرہ کے بغیر گدھے پر بھی سواری فرما لیتے، اپنے غلاموں اور خادموں کو اپنے ساتھ اسی سواری پر سوار فرما لیتے، اپنے جانوروں کو خود اپنے مبارک و پاکیزہ ہاتھوں سے چارہ دیتے، اپنے جوتے خود مرمت فرما لیتے، اپنی مقدس و پاکیزہ بیگمات کے ساتھ گھرداری میں ان کی مدد فرماتے، زمین پر بیٹھ کر کھانا تناول فرما لیتے۔ کائنات کے سب سے اعلیٰ ترین دربار کے والی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دربار عالیہ کا نہ کوئی دروازہ ہوتا نہ کہیں کوئی دربان و چوکیدار، جس کا جب جی چاہتا اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تک رسائی حاصل کر لیتا۔

کہاں تک سنو گے، کہاں تک سناؤں والا معاملہ ہے، کہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مُبارک کا ہر ایک لمحہ خوش اخلاقی اور اِنکساری کی عدیم المثال، مثال ہے لیکن افسوس، صد افسوس، کہ آج ہم ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اُمتیوں، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت کے دعویٰ داروں، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع کے پھریرے اڑانے والوں، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت کی پیروی کرنے کے نعرے لگانے والوں کے کردار میں اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اخلاق کا شائبہ بھی نہیں ملتا۔

کسی شاعر نے بہت ہی خوب کہا ہے کہ:

تیرے حسن خُلق کی اِک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی

میں اِسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دِیا

اس وقت میری گفتگو کا موضوع رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا کردار واخلاق مبارک نہیں، بلکہ “تواضع یعنی اِنکساری “کا بیان ہے، لیکن یہ بیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کی مثالیں دیے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا تھا اس لیے اِیمان والوں کے دل و جاں کی راحت اور اِیمان کی مزید پختگی کے لیے چند مثالیں ذکر کر دیں، کیونکہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِی رَسُولِ اللہ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ یرْجُو اللہ وَالْیوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللہ كَثِیرًا یقیناً تُم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول (کی ذات مبارک)میں بہترین نمونہ ہے (لیکن)اس کے لیے جو اللہ (کی رضا) اور آخرت (کی کامیابیوں کا) طلب گار ہے، اور جو اللہ کا بہت زیادہ ذِکر کرتا ہے (سورت الاحزاب(33)/آیت21)

یہ بھی پڑھیں:   اخلاق کی خوشبو، متاع ِگم گشتہ - مصباح الامین

اختتامی کلمات کے طور پر کہتا ہوں کہ تواضع کی خوبصورت ترین صُورتوں میں سے چند ایک صُورتیں یہ ہیں کہ:

جِس کسی کو اللہ نے اِیمان کی نعمت سے نواز کر اپنی بندگی میں قبول فرمایا، اور آپ کے لیے بھائی ہونا قبول فرمایا، کیا جِس شخص کو اللہ نے اپنی بندگی میں قبول فرما لیا اُسے آپ اپنے بھائی کی حیثیت میں قبول نہیں کریں گے؟ اُسے اپنا بھائی بنا کر رکھیے، اور اُس کے حقوق ادا کیجیے، اور اپنے دُشمن کا بھی حق تلف مت کیجیے اور نہ ہی غصب کیجیے، اور یہ کہ کوئی خطاء کار معذرت کرے تو اُس کی معذرت قبول کیجیے۔

بھلا ایک بندے کا دوسرے بندے کے سامنے تکبر سے بڑھ کر بُرا کام کون سا ہو گا، جبکہ پہلے والا بھی اسی رب کا بندہ ہے جِس رب کا بندہ دوسرے والا ہے، اور کیا خبر کہ یہ دوسرے والا کمزور، مسکین، فقیر، بندہ اپنے رب کے محبوب بندوں میں سے ہو؟

نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِیفٍ مُتَضَاعِفٍ، لَؤأَقْسَمَ عَلَى اللہ لأَبَرَّهُ، أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ کیا میں تُم لوگوں کو جنّت والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر وہ کمزور جِسے لوگ حقیر جانتے ہوں (جنّت والوں میں سے ہے) کہ اگر وہ(کسی کام کے لیے ) اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ ضرور اسے سچا کر دکھائے گا، (اور) کیا میں تُم لوگوں کو جہنم والوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (جنہم والوں میں)ہر وہ شخص ہے جو سخت مزاج، غصے والا، ہو، اور ہر وہ شخص ہے جو باطل کے لیے جھگڑا کرنے والا ہو، اور ہر وہ شخص ہے جو اکڑ اکڑ کر چلنے والا ہو، اور ہر وہ شخص جو دُوسروں پر اپنی بڑائی ظاہر کرنے والا ہو(مُتفقٌ علیہ، صحیح البخاری /حدیث4917 /کتاب التفسیر /باب"عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِیمٍ"، صحیح مُسلم /حدیث7366 /کتاب الجَنّۃ و صفۃ نعیمھا و أھلھا /باب14)

تواضع کی خوبصورتی میں سے یہ بھی ہے کہ حق بات قبول کی جائے، خواہ کہنے والا کوئی بھی ہو، جِس طرح ہم کسی حق بات کو اپنے کسی دوست، ساتھی، یا عالم سے سن کر قبول کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی دُشمن، کسی دوسرے مسلک کا عالم حق بات کرے تو اسے بھی قبول کرنا چاہیے۔ اگر اُس سے دُشمنی یا مسلکی اختلاف آپ کو اُس کی حق بات قبول کرنے سے روکے، اُس سے جھگڑا کرنے پر مائل کرے تو جان لیجیے کہ آپ اِنکساری کی صِفت سے خالی ہیں۔

اپنی بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کے رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز بان مبارک سے دی گئی اس خبر پر ختم کرتا ہوں کہ إِنَّ اللہ یبْغَضُ كُلَّ جَعْظَرِىٍّ جَوَّاظٍ سَخَّابٍ فِى الأَسْوَاقِ جِیفَةٌ بِاللَّیلِ حِمَارٌ بِالنَّهَارِ عَالِمٌ بِأمر الدُّنْیا جَاهِلٌ بِأمر الآخِرَةِ بے شک اللہ ہر اُس شخص سے ناراض ہوتا ہے جو سخت مزاج، بد کلام اور اپنے مال و متاع جاہ و رتبے پر اکڑنے والا ہو، اور جو (مال)جمع کرنے والا لالچی ہو، اور جو بازاروں میں چیخنے چلانے والا اور جھگڑے کرنے والا ہو، رات کو مُردے کی طرح(پڑے رہنا والا)ہو، اور دِن میں (دُنیا کمانے کے لیے ) گدھے (کی طرح کام کرنے والا)ہو، دُنیاکے معاملات کا عالم ہو، آخرت کے معاملات کے بارے میں جاھل ہو(صحیح ابن حبان /حدیث 72/کتاب العلم /باب 11" ذكر الزجر عن العلم بأمر الدنیا مع الانهماك فیها و الجهل بأمر الآخرة و مجانبة أسبابها"، سنن البیھقی الکبریٰ /حدیث21325 /کتاب الشھادات /باب 39، السلسلہ الصحیحہ /حدیث195)

اس حدیث پاک میں ہمیں اور بھی بہت سے سبق ملتے ہیں لیکن اپنے رواں موضوع تک محدود رہتے ہوئے میں اِس میں سے اِنکساری کے خلاف کاموں کے انجام، یعنی اللہ کی مُستقل ناراضگی کی خبر سننے سنانے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ہر اُس صِفت سے نجات دے، اور محفوظ رکھے جسے وہ پسند نہیں کرتا اور ہمیں اُس کے مُنکسر المزاج بندوں میں سے بننے کی توفیق عطاء فرمائے، یاد رکھیے اللہ تعالیٰ کسی کام کی توفیق اُسی وقت دیتا ہے جب وہ کام کرنے کے لیے اخلاص اور سچی لگن دِل میں ہو۔

Comments

عادل سہیل ظفر

عادل سہیل ظفر

عادِل سُہیل ظفر جیاد ، معاشی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے ملٹی فنگشن پراڈکٹس ٹیکنیشن کے طور پر ملازمت کرتے ہیں۔ اللہ عزّ و جلّ کا دِین ، اللہ ہی کے مُقرر کردہ منہج کے مُطابق سیکھنے اور جو کچھ سیکھا اُسے نشر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں