اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ - سلمان اسلم

اللہ رب العزت قرآن پاک کلام مجید میں سورہ بقرہ میں فرماتے ہیں يَاايُّهَا الَّذِيْنَ أَمَنُوْا اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔"(بقرہ ، 208)

اب سب سے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ کا مطلب کیا بنتا ہے؟ اللہ نے ایسے کیوں فرمایا؟ اس حکم کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا لازم ہوگا کہ مسلمان کس کو کہتے ہیں اور دین سے کیا مراد ہے؟ ہم تب تک اللہ کے درجہ بالا حکم کو نہیں جان سکتے جب تک ہم ان دونوں سوالوں کے جواب کے فہم کا صحیح ادراک حاصل نہیں کر پاتے اور اسی ہی کو خالق کائنات نے "پورے کے پورے داخل ہوجاؤ" کا صیغہ استعمال فرمایا۔

اسلام کے لغوی معنی ہے، اطاعت، فرمانبرداری کے، گردن جھکانا۔ انتہائی قابل غور نکتہ ہے کہ کیا محض شلوار قمیص پہن کر، داڑھی رکھ کر اور پنجگانہ نماز کی پابندی سے اللہ رب العزت کے اس حکم اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّة کی تعمیل ہو جاتی ہے؟ جبکہ مرے باقی کے معاملات جوں کے توں رہیں۔ یعنی میں اپنے معاشی معلات، شادی بیاہ کے معاملات، لین دین کے معاملات وغیرہ وغیرہ میں سرسری تعوذ و تسمیہ کا سرنامہ جوڑ کر اس سے دین کا نام دینا کافی ہوگا؟ کیا اپنے اسی رویّے میں رہ کر چند گنی چنی معمولات کے عوض پروردگار کے اسی حکم اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّة کے مصداق ثابت ہو سکوں گا؟ یا پھر ہمارا اپنے اعمال میں ادھورا ہونا اس وجہ سے ہے کہ اللہ کا پیغام معاذ اللہ ثم معاذاللہ ادھورا ہے یا کہ پیغام لانے والے پیغمبروں میں سے کسی نے اپنا پیغام ادھورا چھوڑ کے گئے ہوں؟ یقیناً ایسا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہمارے اپنے ذہن کے فتور ہیں، ہم اپنے ذات میں اپنے شخصیت میں اور نفسیاتی وجود میں ادھورے اور معذور ہیں، جسکی وجہ سے ہمیں دکھنے والی ھر چیز ادھوری اور معذور لگتی ہے۔ تبھی تو ہمارے اعمال اور اقوال میں بہت بڑا اور کھلا تضاد پایا جاتا ہے۔

شروعات شادی بیاہ کے تقریبات سے کرو، تو اس میں واحد اسلامی عنصر نکاح کے پڑھانے کے لیے مولوی صاحب کی حاضری بس ہوتی ہے باقی پورے فنکشن میں اسلام کا جنازہ برات کی صورت میں باقاعدہ ڈھول باجوں کے ساتھ شیطان کی سرپرستی میں ناچ گانے کے سر میں، آتش بازی، گولہ بارود کے چھوٹے پٹاخوں کے شور میں مشترکہ طور پر کندہ دے کے نکالاجاتا ہے۔ اور پھر بھی ہمیں یہ واہمہ لاحق ہے کہ ہم اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّة کے پورے پورے مصداق ہیں۔

اب اسی سے ہی جڑی متضاد چیز انتقال پرملال کے زمرے میں غم کی داستان بذات خود اک دردناک المیہ ہے ہمارے معاشرے کا، جس میں بھی ہم اپنے ساتھ اس مردہ کے عالم برزخ کی حالت کو بھی مشکل بنا دیتے ہیں۔ سنا ہے کہ دکھ درد میں انسان کو خدا یاد آجاتا ہے جبکہ خوشی میں اللہ سے دور ہو کر اپنے حدود پار کر لیتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہاں بھی معاملہ الٹا ہی چلتا ہے۔ سمجھ سے بالاتر یہ بات ہے کہ یہ کیسا غم ہے اور کیسی خدا کی یاد دہانی یے جو کہ غم کے حالت میں بھی ہم اپنی حدود پار کر جاتے ہیں؟ ہم غم اور دکھ کے موقع پر اپنے مردہ یا غم کے دفنانے سے بہت پہلے اپنے ایمان و اسلام کو دفنا دیتے ہیں پھر اس کے اوپر اپنا غم ( مردہ) دکھ درد کو مٹی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے رویہ اپنا کر کیا ہم پروردگار کے اس اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ کے حکم کے پاس سے بھی گزر رہے ہیں؟ مرے خیال سے یقینا نہیں۔

اب مساجد کا حال دیکھیں، اس ضمن میں بھی ہمارا رویّہ اور برتاؤ قابل رحم ہے۔ ہم باجماعت نماز ادا کرکے اس ہی جگہ پیٹھ پھیر کر اک گروہ میں بیٹھ جاتے ہیں اور مسجد کے اندر مقدس زمیں پر باوضو ہوکے اور انتہائی نیک نیتی سے غیبت گوئی یا پھر عبث گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں اور تب بھی ہمیں یہ گمان ہے کہ پکے مومن اور پکے نمازی ہیں۔

ہمارا یہ بچپنا صرف ان خاص لمحات کے لیے نہیں بلکہ ہم ہر شعبہ ہائے زندگی میں اسی قسم کے بچپنے سے دوچار ہیں اور اسی پر پکے ایمان اور سچے ایقان کے پختگی کے دعوے کرتے ہیں۔

قرآن ایسے ہی اک واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے محبوب پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو فرماتا ہے کہ " یہ بدوی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ ان سے کہو تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم مطیع ہو گئے۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری اختیار کر لو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا، یقیناً اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ " (سورہ الحجرات 14)

عین یہی حال آج ہمارا بھی ہے۔ ابھی ہم صرف بمشکل سے مطیع ہوئے ہیں، ایمان تو ابھی ہمارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اگر داخل ہوا ہوتا تو آج بظاہر متحد نظر آنے والے جو کے آٹے کے ذرات سے بھی کہیں زیادہ الگ اور منتشر نہ ہوتے۔ آج پکے مسلمان ہوکر اطمینانی کے گھٹا ٹھوپ اندھیرے میں گھرے نہ ہوئے ہوتے۔ آج ماتھے محرابوں سے سجے لیکن بے نور اور بے اثر نہ ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں:   مہمانانِ رحمٰن سے چند گزارشات، خطبۂ حرم مکی

اب آتے ہیں دین کی طرف کہ "دین کیا ہے؟ " دین کے معنی ہے "راستہ"۔ دین کی بنیاد تین چیزوں پر ہے، جن کو برقرار رکھنا ازبس ضروری ہے۔

توحید: موحد ہونے کی صورت میں دین کا پہلے ستون کی کھڑی ہے اور یہی سے توحید کے استقامت کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کو قائم رکھنے کے لیے توحید کو سمجھنا لازم ہے کہ " اللہ اپنی پوری طاقت و قوت میں یک و تنہا ہے۔ نہ تھا کوئی اس سے پہلے نہ ہے اور نہ ہوگا "، یعنی سورہ اخلاص کا پکا یقین رکھنا اور قلب سے تصدیق ثبت کروانا دراصل توحید کو قائم رکھنا ہے۔اللہ اپنی ذات میں مکمل و اکمل ہے، خالق کے حصے کا کام نہ کوئی کر سکتا ہے اور نہ کوئی اس کی برابری میں آسکتا ہے۔ کائنات کل کے کل کام و معاملات اسی ذات بے ہمتا کے دست قدرت میں ہے۔ تبھی تو مالک کل کائنات نے ہمیں نفسانی خواہش میں اندھا ہوکر کسی بھی کام کے کرنے سے منع فرمایا کیونکہ بنی آدم کی یہ روش اس کو خالق کے برابر لاکھڑا کرتا ہے۔ یعنی نفس کی پیروی میں حکم ربانی کی عدولی اس بات کا مصداق بنتی ہے کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ ہم اللہ سے بہتر جانتے ہیں اور یہی چیز شرک جیسی خباثت کو باطن میں جنم دیتا ہے۔سو جب تک ہم اللہ جل شانہ کے احکام کی بھر پور طریقے سے پیروی شروع نہیں کریں گے تب تک خالص توحید کو سمجھنا محال ہے۔

رسالت: اللہ تبارک وتعالی اپنے پیغامات و احکام کو بہم پہنچانے کے لیے خود تشریف نہیں فرماتے بلکہ اس مقصد کے لیے ہم بنی آدم میں سے ہی برگزیدہ اور بڑھیا اخلاق و معاملات والوں کو منتخب فرما کر بحیثیت نبی بھیجیں یعنی "پیغام پہنچانے والے" اور ان پیغمبروں میں جن کو اپنے رسائل، کتب اور شریعتیں بھی عطا کیں فقط ہماری ہدایت و رہنمائی کے لیے، ان کو رسول کہتے ہیں تاکہ ہم سے توحید کو پہچاننے میں کوئی غلطی، کوئی کمی وکجی واقع نہ ہو۔دراصل انسان دو ہی چیزوں کی وجہ سے بگڑتا /بے راہ ہوتا ہے۔ خوف کی وجہ سے یا پھر لالچ کی وجہ سے۔ تاریخ انسانی اس بات پر شاہد ہے کہ انسان نے ان دونوں کے اثر میں اپنے خدا تک کو بدلا ہے۔ رب واحد و یکتا کی ذات سے اس نے کیسے کیسے کن کن اشیاء کواپنی عقل و دانست سے شریک ٹھہرایا۔اسی نقص کا رب کائنات کو علم تھا کہ انہی دو چیزوں کی وجہ سے ابن آدم بہکے گا تبھی اپنے رسل کا سلسلہ نبوت، ہدایت و رہبر شریعت کا آغاز آدم علیہ السلام سے شروع فرماکر اتمام نبوت محبوب پاک علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے درمیان مبعوث فرما کر اس سلسلہ کو مکمل فرمایا اور اپنا پیغام و ہدایت و رہنمائی کا اک مضبوط اور مکمل نصاب حکمت قرآن و شریعت محمدی کی صورت میں عطا فرمائی۔ اسی کو ہی رسالت کہا جاتاہے۔ رسالت کے ان اسباب کو، رسالت کے تسلسل(سلسلہ بنوت)، نازل ہونے والی کتابوں کے تسلسل کو ماننا نہ صرف شرط ہے بلکہ ان کا احترام بھی لازم و ملزوم ہے۔رسالت کے کسی بھی اک پہلو سے انکار یا روگردانی کی اجازت نہیں بلکہ اس تصور سے بھی ایمان کے جانے کا خدشہ یقینی ہوگا۔

آخرت: اور آخری چیز آخرت ہے جو دراصل سب سے مقدم ہے کیونکہ آخرت پر یقین کے عدم موجودگی، خدا پر تیقن اور دین کی ضرورت و حاجت کو زائل کر دیتی ہے اور عبادات بھی اپنا مطلب و مفہوم کھو دیتی ہے۔ آخرت پر یقین کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا ایقان پختہ ہونا کہ مجھے مرنا ہے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کے رب کے حضور پیش ہونا ہے، جو دولت، جو رشتے، جو حالت، ماحول عطا ہوئے اس میں اپنائے ہوئے رویے کے لیے جوابدہی دینی ہے۔ توحید کا وجود اسی عقیدے کے طفیل توہے ورنہ اس کے عدم موجودگی میں نہ تو توحید اپنا وجود باقی رکھ سکتی ہے، نہ رسالت زندہ رہ سکتی ہے اور نہ ہی مذہب۔ اسی لیے قرآن نے سب سے بڑا باغی، غدار اسی کو ٹھہرایا جو آخرت کے یقین سے انکار کرتے ہوں۔

آخرت، رسالت اور توحید کے بعد دین کی جزئیات کو سمجھنا لازم ہے اور انہی کو سیکھنا دراصل اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ یعنی اسلام میں پورے کے پورے داخل ہونا ہے۔جبکہ ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی عالم، مولوی، پیر یا فقیر ہمیں ان جزئیات کو اصل فہم کے ساتھ سمجھاتا ہی نہیں بس اک ہی کام پلے باندھا گیا ہے کہ ہر کوئی آئے روز جیب سے فتویٰ نکال کر مشرک، تو کوئی کافر ٹھہرا دیتا ہے۔شرک کا کرنا یا کسی کو مشرک ٹھہرانا اتنا آسان نہیں جتنا کہ ہم لوگوں نے آسان بنایا ہوا ہے۔ شرک کے لیے نیت کو ہونا لازم ہے۔ ہم سے روز کتنی غلطیاں دانستہ و نادانستہ طور پر سرزد ہوتی ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر ہم سب تو قیامت میں مشرک ہی اٹھے۔ یہ نیت کی قید ہی تو ہے جو اللہ نے احسان عظیم فرما کر ہمیں اس فعل سے محفوظ فرما لیا اور اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ کے بندھن میں جوڑنے کا راستہ فراہم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلمان کیوں پس رہے ہیں؟ - حمزہ علی ریحان

یاد رکھیں توحید بنیادی طور پر اپنی انا کی، اپنے خواہش کی نفی کرنا ہے اور جب تک خواہش کی پوجا سے خود کو آزاد اور خالق کے اتباع میں خود کو مقفل نہیں کریں گے تب تک توحید سمجھ میں نہیں آئے گی اور جب تک توحید کو نہیں سمجھیں گے، رسالت بھی سمجھ سے بالا تر رہے گی۔ اسی حوالے سے کیا خوب فرمایا ہے " اک تری چاہت ہے اک مری چاہت ہے۔ اگر تو چلا اس پر جو تری چاہت ہے۔ تو میں تمہیں تھکا دوں گا اس میں جو تری چاہت ہے اور ہوگا وہی جو مری چاہت ہے۔ گر تو چلا اس پر جو مری چاہت ہے تو میں وہ بھی دوں گا جو تری چاہت ہے۔"

یعنی جو اپنی چاہت کو چھوڑ دے گا وہی توحید کو اپنے اصل روح میں سمجھ جائے گا، یہاں پر "مطیع ہوگئے ہیں " کا مرحلہ اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔

اب دین کے ان تینوں اجزاءکو سیکھ کر سمجھنے کے بعد راستہ کون سا اختیار جائے یعنی دین کے تینوں بنیادی لوازمات کو اپنانے کے بعد کونسا لائحہ عمل اپنایا جائے جس پر چل کر درجہ بالا تینوں اجزاء کی روشنی میں دین میں داخل ہوا جاسکے، بیچ میں راستے بھٹک نہ جائیں؟ یعنی اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ کا مصداق بنا جا سکے تو اس میں سب سے پہلا مرحلہ آتا ہے عقیدے کا

عقیدے میں یہی تین چیزیں پھر سے جڑ جاتی ہیں، توحید رسالت اور آخرت۔ ان تینوں کو سیکھ کر اس کے بنیادی اصول کی روشنی میں ہی عقیدہ کا وجود پیدا ہوتا ہے۔ جب آپ ان تینوں اجزاء کا صحیح فہم حاصل کر چکے تو آپ کا عقیدہ پکا اور سچا بنے گا۔ اگر عقیدہ ہی درست نہ ہو تو آگے کا سفر طے کرنا عبث ہے۔ بلکہ عقیدے کے بغیر تو دین کا سفر سرے سے شروع ہی نہیں ہوتا داخل ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عقیدے کا صرف درست ہونا ہی کافی نہیں بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ اس پر چلنا بھی ازبس ضروری ہے۔ کیونکہ نماز، روزہ کی عبادت تو عبداللہ بن ابی بھی کیا کرتا تھا مگر 'رئیس المنافقین' ٹھہرا۔ عقیدہ بہت ہی نازک معاملہ ہے۔ عقیدے کی درستگی کے لیے دین کو اس کے مکمل جزئیات میں سمجھ کر اپنانا ہے۔ کیونکہ اکثر یہ بات سننے میں آتی ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس کا مطلب کیا بنتا ہے؟ فطرت فاطر کے عمل کی نمائندگی کرتا ہے، اور فاطر اس عمل کو کہتے ہیں جو تبدیل نہیں ہوسکتا۔ تو اسلام بھی دین فطرت ہے۔ اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا ہے، اس کو ویسے ہی من وعن اپنانا ہے جیسے کہ یہ اللہ تبارک وتعالی نے نازل مکمل و اکمل فرمایاہے۔

دوسری چیز ہے عبادات: توحید، روزہ، نماز، زکوة، حج اور جہاد یہ انتہائی بنیادی اور بڑی عبادات ہیں۔ ان پر چلنے کے لیے ان کے طریقے سب سے اوّل سیکھنے ہیں کیونکہ ان کے بغیر عبادات کا فرض مکمل نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کے بنیادی احکامات میں سے ہیں اور ان سے فرمانبرداری پر اللہ کے ذات کا ظہور ہوتا ہے۔ یہ اپنی مرضی کے مطابق نہیں کی جا سکتیں۔ مثلاً نماز کو اپنی مرضی کے تعداد و اوقات میں پڑھنا ممکن نہیں۔ اسی طرح ہر عبادت کا اپنا طریق اور مخصوص اوقات ہیں اور اس کو سیکھے بغیر اختیار نہیں کیا جاسکتا۔ دراصل عقیدہ ہی ایک بنیاد اور ہموار راستہ فراہم کرتا ہے دین میں داخل ہونے کے لیے، بلکہ اس عقیدے کے زیر اثر ہی آپ کی عبادات وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ جیسا عقیدہ ہوگا ویسے ہی اس کے موافق عبادات ہوں گی۔

تیسری چیز ہے معاملات اور اس حصے میں ہم سب مار کھا چکے ہیں۔کیونکہ ہم اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہی نہیں۔ معاملات ہی تمام اخلاق کو اصل روح سے آشنا کراتے ہیں۔ توحید اخلاق کا درس دیتی ہے، رسالت اس کی آبیاری کا طریقہ سکھاتی ہے اور آخرت اگائے ہوئے اس درخت کا ثمر دیتی ہے۔ یعنی آسان الفاظ میں کہ ہماری عبادات دراصل اسی ایک عقیدے کے زیر اثر ہی پروان چڑھتے ہیں۔ عقیدہ ہی ترجمان ہوتا ہے عبادات کا۔

اللہ کے اس فرمان اُدْخُلُوْ فِى اَلْسِّلْمِ كَآفَّةَ کے لیے ان سب چیزوں کا یکساں فہم و ادراک حاصل کرنا از بس ضروری ہے ورنہ دوسری صورت میں اس کا تصور شرمندہ تعبیر ہونا ممکن نہیں۔

اس سارے مضمون کا خلاصہ اک جملے میں بیان اگر کیا جائے تو " اسلام (مسلمان) اللہ کو ماننے کا نام ہے (جس کو مطیع ہونا کہتے ہیں) جبکہ دین (ایمان اور مومن) اللہ کی ماننے کا نام ہے۔ " (عرفان الحق صاحب)

اسلام، (اطاعت و فرمانبرداری) دین (توحید، رسالت و آخرت) کے بغیر بے معنی ہے اور دین، ایمانیات (عقیدہ، عبادات اور معاملات) کے بغیر نامکمل ہے۔