آؤ بھینس کے آگے بین بجائیں - امجد طفیل بھٹی

یہ کہاوت تو تقریباً سبھی نے سنی ہو گی جو کہ عموماً وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں پہ آپ کو پتہ ہو کہ آپ کی بات یا عمل کا اگلے بندے پر اثر نہیں ہونے والا۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہمارے ملک کے حکمران ہی بے حس ہوتے ہیں ( چاہے وہ جس پارٹی سے بھی ہوں ) لیکن وہ لوگ تو گنتی میں سینکڑوں یا ہزاروں میں ہوں گے، ادھر تو ہمارے عوام کروڑوں میں ہیں جو کہ اپنی بے حسی کی وجہ سے لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں اور جن پہ کسی بات کا بھی اثر نہیں ہوتا بلکہ اثر تو دور کی بات وہ تو کسی کی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔

ہمارا علاقے یعنی ضلع چکوال کی تحصیل تلہ گنگ، حالانکہ بڑے میاں صاحب نے 2013 میں اسے ضلع بنانے کا اعلان بھی کیا تھا جو کہ ابھی تک یہاں کے عوام کے کانوں میں گونج رہا ہے، پچھلے ستر سال سے ایسا ہی ہے جیسا کہ پاکستان بننے کے بعد تھا اور شاید ہمارے بزرگان اپنی اپنی قبروں میں سے نکل کر بھی دیکھیں تو اپنے علاقے کو باآسانی پہچان جائیں۔ ماسوائے اس کے کہ چند ایک سڑکیں جن کو ہم پکا نہیں کہہ سکتے، کی رنگت کالی ہوئی تھی اور وہ بھی آج پہلے سے بھی بدتر صورتحال میں ہیں۔ یہاں کی سڑکیں خاص طور پر بین الصوبائی شاہرائیں جن میں سرگودھا روڈ، میانوالی روڈ اور مقامی سڑکوں کی حالت اس قدر نا گفتہ بہ ہے کہ جو بندہ غلطی سے ایک بار ان پہ سفر کر لے وہ اپنی سواری کا نقصان ضرور کروا کے جاتا ہے اور پھر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں کے کرتا دھرتا کو گالیوں سے نوازتا رہتا ہے۔

اس کے علاوہ یہاں پہ ایسے گاؤں اور آبادیاں بھی موجود ہیں جو ابھی تک بجلی کی نعمت سے محروم ہیں جو پاکستان کے شہری علاقوں کے عوام کے لیے باعث حیرانگی ہو گا لیکن یہ ایک حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے یہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے بھی یقیناً واقف ہیں لیکن ہر بار الیکشن کے دنوں میں جھوٹے لارے اور وعدے کر کے غائب ہو جاتے ہیں اور یہاں کے سادہ لوح عوام بھی اپنے لیڈروں کی چکنی چپڑی باتوں پہ یقین کر لیتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو یہ لوگ کسی بھی طور قائل نہیں ہو سکتے بلکہ قائل تو دور کی بات اپنے جدی پشتی لیڈروں کے خلاف بات سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔

اس علاقے کے مریض صحت کی سہولتوں کی کمی کی وجہ سے مقامی طبیبوں کے رحم وکرم پر ہیں جن کی دوائی تو سستی ہے لیکن اثر ہمیشہ الٹا ہی کرتی ہے اور مریض کو بالآخر راولپنڈی ریفر کر دیا جاتا ہے اور چند روز تڑپنے کے بعد اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ اس تحصیل کا ہر چھوٹا بڑا گاؤں اور شہر جعلی ڈاکٹروں سے بھرا پڑا ہے، ہر میڈیکل اسٹور چلانے والا اپنے تئیں مریضوں کا علاج کرنے میں مصروف ہے۔ اور قانون کے کان پہ جوں تک نہیں رینگ رہی حالانکہ آئے روز کوئی نہ کوئی انکا شکار ہورہا ہے۔

یہاں کے لوگوں کے روزگار کا ذریعہ یا تو پاک فوج ہے یا پھر کھیتی باڑی، لیکن بارانی علاقہ ہونے کی وجہ سے اگر بارشیں وقت پر نہ ہوں تو اس سال کوئی فصل نہیں ہوتی اور سارے سال کی محنت اور اخراجات کا بوجھ زمینداروں کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اس علاقے کی زمین کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس پر ہر قسم کی فصل، سبزیاں اور فروٹ اگائے جا سکتے ہیں لیکن چونکہ تقریباً ان سب کی کاشت کے لیے پانی کی وافر مقدار خاص وقت پر چاہیے ہوتی ہے جس کا انحصار بارش پر نہیں کیا جا سکتا۔ زیر زمین پانی کی سطح زیادہ نیچے نہ ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں نے تو ٹیوب ویل اور پمپ وغیرہ لگائے ہوئے ہیں مگر ہر زمیندار اس کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہے۔ کچھ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پھل اور سبزیاں ضرور اگاتے ہیں لیکن کھیتوں سے مارکیٹ تک مناسب سڑکیں اور ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے وہ فصلیں فائدے کی بجائے نقصان کی طرف چلی جاتی ہیں اور یوں یہاں کے لوگ مایوس ہو کر پھر سے کبھی یہ فصلیں نہیں اگاتے۔ اس مسئلے کا حل نہایت سادہ ہے کہ اگر حکومت تحصیل تلہ گنگ کے زمینداروں کے لیے ٹیوب ویلز کی بجلی مفت کر دے یا پھر کم سے کم ریٹ مقرر کرے تو نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ ہو گا بلکہ یہاں کے غریب اور متوسط طبقہ کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور ان کا معیار زندگی بھی بلند ہو گا۔

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں کے تمام مین روڈ اور چھوٹی سڑکوں کو پھر سے تعمیر کیا جائے جن کو پندرہ بیس سال پہلے مشرف دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔ حالانکہ خادم اعلی کا سڑکوں کی تعمیر کا ایک پروگرام بھی چل رہا ہے مگر شاید پاکستان کی سب سے بڑی تحصیل کو جان بوجھ کر پس ماندہ رکھا گیا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ تو بغیر کام کروائے ہی جب ووٹ دے دیتے ہیں تو پھر ہمارے سیاستدانوں کو بلاوجہ عوام کے کاموں پر توجہ دینے کی کیا ضرورت ہے؟

اور ادھر کے عوام کی مثال " بھینس کے آگے بین بجانے " والی ہے، چاہے کتنی بار بھی ووٹ دینا پڑے یہ ضرور دیں گے مگر اپنے حقیقی مسائل کو حل کروانے کی بجائے اپنے " بڑوں " کے ساتھ صرف سلام دعا اور تعلقات کو ہی غنیمت سمجھتے ہیں۔ اور ماشااللہ سے یہاں کے سیاستدان صرف لوگوں کی شادیاں، جنازے، بیلوں کے جلسے، والی بال اور کرکٹ کے میچ دیکھنے آتے ہیں اور ہم عوام اس کرم نوازی پر ہی خوش ہو جاتے ہیں۔

Comments

Avatar

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */