اسک آتس لائی ہے یار ڈاھڈی - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بس باجی جی اس روج ایک میسج بھیجا تھا جی اس نے. جو ہووے تو خسخبری کا پیغام لیکن جی منڑے تو اس نے مانو مار ہی دیا تھا. اپنڑا تو دل ہی مردہ ہو گیو تھا جی، ساریاں امیداں اس روز ختم ہو گئی تھیں.
بس باجی پھر وہ فیصلہ ہو گیو جس سے اکھیاں چرا کر بیٹھی تھی. جانت تھی جی سب جانت تھی، بس مانت نہ تھی. (جانتی تھی جی سب جانتی تھی بس مانتی نہیں تھی) کیا کرتی اسک (عشق) ہو گیا تھا. اس کے منہ سے عشق کا یہ غلط تلفظ اتنا بھلا لگتا کہ دل چاہتا، وہ بار بار اس لفظ کو اپنے خام تلفظ کے ساتھ دہراتی رہے.
شہناز آخر ہوا کیا؟ اگر تمھیں اسک بھی تھا تو پھر مسئلہ کیا تھا؟ تم نے اسے چھوڑ کیوں دیا؟
ہک ہآآآہ. باجی جی! اک پاسے کا اسک بڑا نامراد ہوتا ہے جی، تل تل کے مارتا ہے، ساہ اوکھے کیے رکھتا ہے جی، نہ جینڑے دیتا ہے نہ مرنے جوگا چھڈتا ہے. (یک طرفہ عشق بڑا نامراد ہوتا ہے، ذرا ذرا کر کے مارتا ہے، سانس مشکل کیے رکھتا ہے، نہ جینے دیتا ہے نہ مرنے دیتا ہے )
بس تار پہ چٹکی سے بندھے کپڑے کی طرح آگے پیچھے جھلاتا رہتا ہے، نہ اڑن جوگا بندہ نہ ڈگن جوگا. مانو ادھ کسی سولی پہ ٹنگا ،ادھ مرا جسم، جس کی روح بس اکھیاں ماں باقی رہ جاوے. آخری آس کی طریو.
شاید آج اپنڑا (اپنا) لے، شاید آج، شاید کل. دیکھو کب اس کا دل نرم پڑ جاوے.
بس باجی یہ اک پاسے (یک طرفہ) کا اسک بڑا جلیل (ذلیل) ہووے، بڑا جلیل (ذلیل) کراوے.

کہتا کیا تھا وہ؟ لٹکا کے کیوں رکھا تجھے اتنے عرصے؟ اور تو بھی سیانی بیانی ہو کے پھنسی رہی اس کے جال میں؟
ایک لمبی چپ کے بعد وہ بولی تو اس کی آنکھوں میں جیسے کوئی فلم چلتی تھی جس کی کہانی شہناز کے مسی رنگے ہونٹوں سے ادا ہوتی تھی.
باجی میرا سوہر (شوہر) میرے کو بڑا تنگ کرے تھا. روج روج نوی نوی (نئی نئی) کڑیاں کے چکر ما پڑا رہوے تھا. پر جی میرے تے سر کاتاج تھا نا. جدھر بھی جاتا تھا فیر میرے پاس ہی آتا تھا. مجھے اس سے بڑا پیار تھا. آپ نے تو دیکھا ہے نا اس نے. کتنا گبرو ہووے رج کے سوہنڑا. تو ایسے تو کڑیاں نہ مرتی تھیں اس پر. جیسا بھی تھا منڑے (مجھے) پیارا تھا بس، اکو ڈر لگتا کبھو کبھار کہ کسی ہور کو بیاہ کے نہ لے آوے. سوت تو جی موت کا دوسرا ناں ہووے. بس دل پشوری کرتا رہوے تو بھی خیر میر ای اے جی. فیر میں اسے روک بھی تو نہ سکوں. پوتڑوں کا بگڑا تھا جی میرا خوشی محمد.

ایک روج (روز) میں نے اس سے پوچھا خوشی محمد منڑے (مجھے) ایک بات تے بتا. تو جو روج روج نئی کڑیاں کے ساتھ وخت (وقت) بتاتا (گزارتا) ہے. جے کر (اگر) کبھی منڑے (میں نے) ایسا کیا تو. خوشی نے مجھے دیکھا اور قہقہہ مار کر ہنسا. منڑے غصہ آ گیا منڑے سوال کو فیر دہرایا تے کہنڑے لگا (کہنے لگا). اپنی شکل دیکھی ہے تنڑے کبھی سیسے (آئینے) ما. تنڑے (تجھے) دوسری بار بھی نہ دیکھے کوئی.
سچی بولوں باجی! مجھے تو مانو کسی نے تیزاب سے جلا کر رکھ دیا. گیلی لکڑ کی طریو سلگ کر رہ گئی. منڑے خوشی محمد کو گھر چھوڑنے کی دھمکی دی تو کہتا چپ کر کے بیٹھی رہ. تیرا پیچھے کونڑ (کون) ہے جو تیرا باجو بنڑے گا (سہارا بنے گا). چپکی بیٹھ، ان پانڑی (کھانا پانی) کر، موجاں مار.
باجی جی! وہ بے چین سی بل کھا کر کھڑی ہوئی، دو قدم ادھر کو چلی چار ادھر کو، پھر میری طرف دیکھ کر بولی. باجی ناں میرے میں کونڑ سی چیز کی کمی ہووے. عورت ہوں، کالی ہوں لیکن پوری کی پوری عورت ہوں. مجھے سلگا کے خوشی محمد تو پاسا پرت (کروٹ بدل) کے سو گیا، پر میرے اندر کی سلگن، راتوں رات بھانبڑ بنڑ گئی.
تنڑے کون دیکھے گا
تنڑے کون دیکھے گا
تنڑے کون دیکھے گا
دیوار کے جالے، چھت کے بالے، تندور کی راکھ، کنویں میں لٹکا ڈول، ڈولی مین بند مرغی، تھان پر بندھی بھوری، اسمان کے تارے، چاند، رات کی پروائی سب ایک ہی بات بکنے لگے .
تنڑے کون دیکھے، تنڑے کون دیکھے.
میرے کانوں میں جی اتنا شور تھا مانو بلائیں چیختی ہوں. جسم کی ایک ایک بوٹی پھڑکتی تھی جی. کیوں منڑے (مجھے)کیوں نہیں؟ منڑیں (مجھ میں) کیا کمی ہے. بس جی ضد آ گئی. جیسے اندرو اندر کوئی نویں عورت جاگ گئی. میں بدل گئی جی.

یہ بھی پڑھیں:   محبت اور ٹائم پاس - سعد چوہدری

خوشی محمد کے یار دوست بھی جی اس جیسے تھے. سادی (شادی) کے بعد ما سروع سروع (شروع) ما خوشی کی بھیڑی (بری) عادتاں بدلنڑے (بدلنے) واسطے اس کے یار میرو اور جوید کو بڑا جور لگایا. منتاں ترلے واسطے، سب کچھ، بس جی نسہ (نشہ) بندے کو خود چھوڑے تو چھوڑے، بندہ نسے کو نئی چھوڑتا. منڑے پتا تھا جی عورت کو تو پالنے میں بھی مرد کی نظر سمجھ آ جاتی ہے جی. خوشی کے یار جوید کی نظر منڑے سے لکی (چھپی) نئی تھی جی. بس اس وخت منڑے خوشی کے علاوہ دنیا میں کوئی نظر نئی آتا تھا. پر اب تاں بات ہی کچھ اور بنڑ گئی تھی. مارے اندر کی سوئی عورت جاگ گئی تھی. منڑے جوید کی نظراں کا جواب مسکراہٹ سے دینا شروع کر دیا جی. وہ بھی سادی سدہ تھا اور میں بھی. لیکن باجی گناہ کرنا ہو تو جی سادی وادی سب بھول جاتی ہے. جب خوشی کو دوسری کڑیاں مل سکتی ہیں تو منڑے ایک مرد بھی اور نہ ملے گا. بس یہی آگ تھی جی جس کو سکونڑ (سکون) ملتا تھا جی جوید کی نظراں سے اور مٹھی مٹھی باتاں سے(میٹھی باتوں). سارا سارا دن نسہ (نشہ) چڑھا رہتا، آپ ہی مسکرائے جاتی مسکرائے ہی جاتی. منڑے رونا دھونڑا (رونادھونا) چھڈ دیا تھا جی. خس (خوش) ہونڑے سے فرصت ہی نئی ملتی تھی. فیر باجی جوید نے منڑے موبیل (موبائل) دلا دیا، موبیل پر ہم دونڑوں (دونوں) چھپ چھپ کر باتاں کرنے لگے. ادھر ادھر کی. وہ بڑی مزے کی گپیں سناتا، میں ہس ہس(ہنس ہنس) کے پاگل ہوئی جاتی. کنڑے (کبھی) وہ اپنے یاراں میں بیٹھ رہتا، تب بھی موبیل پر کال ملا کر منڑے اپنیاں گلاں سناتا، (مجھے اپنی باتیں سناتا). سچی باجی! یہ مرد بڑے بےسرم ہوویں، ایسیاں باتاں کریں ایسیاں کہ باجی کج نہ پچھو (یہ مرد بہت بےشرم ہوتے ہیں، ایسی باتیں کرتے ہیں کہ کچھ نہ پوچھیں). گندیاں گالاں بھی آرام سے بک لیویں ہور کانڑاں پر جوں بی ناں رینگے انڑ کے تو (گندی گالیاں بھی آرام سے بک لیتے ہیں اور ان کے کانوں پر جوں بھی نہیں رینگتی)

شہناز کے سلونے چہرے پر شرمیلی محفوظ ہونے والی مسکراہٹ در آئی تھی.
بڑے مزے کے دن گزر رہے تھے، خوشی محمد اب گھر آتا یا نہ آتا منڑے پرواہ کرنی چھوڑ دی تھی. بس جوید سے بات کرنے کا چسکا جو لگ گیا تھا. بلکہ باجی سچ کہوں تو ان دناں (دنوں) میں منڑے خوشی کا گھر آنا بھی برا لگنے لگا تھا. جوید کی مٹھی باتاں کا جن مارے پہ (میرے پر) اپنا سایہ کر چکا تھا. میں ہر وخت (وقت) ہنستی کھلکھلاتی رہتی. میرا رنگ دمکنے لگا تھا جی. اب تو کبھی کبھار خوشی مجھے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک جاتا، حیرانڑ (حیران) ہوتا، لیکن اب اس کی پرواہ کونڑ کرتا جی. فیر ایک وخت آیا کہ منڑے لگا اب میں جوید کے بنا نہیں رہ سکتی. لیکن منڑی (میری) تو سادی (شادی) ہو چکی تھی، اور جوید کی بیوی بھی تیسری بار امید سے تھی. منڑے جوید سے کہا جی کہ منڑے (مجھے) اپنڑے (اپنے) ساتھ لے چل. بس آ جا مجھے بھگا لے جا. پر جوید نے جی مجھے ساف ساف (صاف صاف) کہا. سنڑ (سن) شہناز گلاں باتاں (بات چیت) تک ٹھیک ہے، لیکن میں گلے ماں دو دو ڈھول نئی (نہیں) لٹکا سکتا. ماری (میری) بیوی کو بچہ ہونڑے والا ہے. منڑے (میں نے) تنڑے (تجھے) دکھی دیکھ کر تجھے خوش کرنے واسطے گپ لگانی سروع (شروع) کری. پر اس سے آگے کا نہ سوچ.

باجی تب تاں (اس وقت) میں چپ کر گئی. لیکن میں نے ہار نئی مانڑی (مانی). منڑے اپنے دل کی خوشی کیسے چھوڑ دیتی. خوشی محمد مارا سوہر (شوہر) تھا، لیکن دل کی خوسی (خوشی) جوید بنڑ گیا تھا. مجھے جی جوید سے اسک ہو گیا تھا. ہک ہآآآہ یہ نامرادا اسک بھی ہونڑے (ہونے) سے پہلے خبردار نئی کردا (نہیں کرتا)، ورنہ بندہ اپنڑے (اپنے) قدم روک ہی لیوے ( لے). پر جی ہونڑی (ہونی) کو کون ٹال سکدا ہے جی. منڑے خوشی کی پہلی عورت ہونڑے سے جیادہ جوید کی دوسری عورت بننے کا چآ چڑھ گئیو تھا. منڑے عجت سے جیادہ بےعجتی ماں لتف آنے لگے تھا (مجھے خوشی کی پہلی بیوی رہنے سے زیادہ جاوید کی دوسری بیوی بننے کا شوق چڑھ گیا تھا، مجھے عزت سے زیادہ بےعزتی میں لطف ملنے لگا تھا). گھر کی ادھی چھڈ کے بار کی پوری منگنڑے لگی تھی (گھر کی آدھی روٹی چھوڑ کے باہر کی پوری روٹی مانگنے لگی تھی). عورت اپنڑی اکھیاں میٹ لیوے تے فیر من چاہا منظر ہی نظر آوے. (عورت اپنی آنکھیں بند کر لے تو اسے بس من چاہا منظر ہی نظر آتا ہے). منڑے بھی دنیا میں ہر اور (طرف) جوید ہی نظر آوے تھا. بھول گئی تھی کہ اس کا بھی ایک ٹبر (خاندان) ہووے. جو خوشی میرے ساتھ کرے تھا، وہی جوید بھی اپنڑی جورو کے ساتھ کرے تھا. منڑے بھی تو جوید کے گھر واسطے پرائی عورت بنڑ گئی تھی ناں (جو خوشی میرے ساتھ کر رہا تھا، وہی جاوید اپنی بیوی کے ساتھ کر رہا تھا. میں بھی تو جاوید کے گھر کے لیے پرائی عورت کا کردار ادا کر رہی تھی)، منڑے سوت (سوکن) موت لگے تھی اور منڑے خود کسی کی موت بننڑے کے خاباں دیکھنڑے سروع کر دیے تھے (مجھے سوتن موت لگتی تھی اور میں خود کسی کے لیے موت بننے کے خواب دیکھ رہی تھی)

یہ بھی پڑھیں:   محنت اور محبت ضائع نہیں ہوتی - فیاض راجہ

منڑے امید نئی چھوڑی. منڑے یقین تھا جی کہ میرا اسک (عشق) جوید کو بھی بدل دے گا. پر باجی فیر میسج آ گیو تے جیویں (جیسے) دنیا بدل گئیو (گئی).
کیسا میسج شہناز؟
باجی ماہ رمجان کا مبارک مہینہ ہووے تھا، (ماہ رمضان کا مبارک مہینہ). درمیان درمیان کی کوئی تریخ تھی جی، میرے بھرا (بھائی) کا نکاح تھا جی. ادر ای میکے ماں (ادھر ہی میکے میں) بیٹھی تھی. موبیل بھی میرے ہاتھ ماں (میں) تھا. جوید کے میسج کے لیے جی میں ہر وخت (وقت) موبیل اپنڑے پاس رکھتی تھی جی. تو سب ہنسی خوشی ان پانی کر رہے تھے جی (کھانا کھا رہے تھے جی) کہ موبیل کے میسج کی ٹونڑ (ٹون) بجی، منڑے دیکھا تو جوید کی طرف سے پیغام تھا کہ اللہ نے اسے ایک بیٹی دی ہے. ناں پچھو باجی کیا بنڑی (بنی). خوشی کی محفل میں منڑے (مجھے) ماتم لگنے لگا. چپ لگ گئی جی. رنگ پیلا پڑ گیا. گھر لوگوں سے بھرا تھا جی. مجھے ایک دو نے پوچھا کہ تنڑے کی ہویا (تمہیں کیا ہوا) پیلی پھٹک (پپلی زرد) کیوں ہو رہی. منڑے (میں) کیا بتاتی. پیٹ درد کا کہہ کرباتھ روم میں جا کر اپنڑے (اپنے) آنسو بہا دیے جی. وہ آگ جو خوشی محمد کے طعنے نے لگائی تھی کہ تنڑے کونڑ دیکھے گا، وہ تو کب کی ٹھنڈی پڑ چکی تھی. لیکن اسک کی آگ جنون بنڑ کر میرے سر پر سوار تھی جی، میں گھر توڑنے پر راجی (آمادہ) تھی جی، تلاک (طلاق) چاہتی تھی، روز آنڑے بہانے (آنے بہانے) سے خوشی سے لڑتی. اب تو خوشی محمد بھی ڈر گیا تھا کہ کہیں میں سچی مچی اسے چھوڑ کر نہ چلی جاؤں. وہ سدھر گیا تھا جی. پر جنون تھا نا جی، کچھ سمجھ نئی آتا تھا. بس اللہ سوہنڑے نے کیسا سمجھایا. وہ جنون اس روز آنسوؤں میں بہہ گیا جی. جانڑ گئی تھی جی کہ میری اور جوید کی زندگی میں، میرے اور اس کے حوالے سے ایس (اس) طرح کے کسی میسج کا موقع کبھی نئی آئے گا. کبھی مارے سے وہ لک چھپ (چھپ کے) کے نکاح پڑھا بھی لیوے گا تب بھی دنیا کے سامنڑے (سامنے) کبھی نئی مانڑے (مانے)گا. کبھی میرے جنڑے (میرےجنم دیے) بچے کو دنیا کے سامنڑے (سامنے) اپنڑا ناں (نام) نئی دیوے گا، فیر سکون آ گیا. چپ لگ گئی. ٹھنڈی ہو کے بہہ (بیٹھ)گئی.
تو پھر جاوید کا کیا بنا؟
باجی اس کا کیا بننڑا (بننا) تھا. وہ اپنے ٹبر (خاندان) کے ساتھ خوش ہے. اس کی بیٹی بڑی پیاری ہے جی. کیا ہوتا اگر یہ بیٹی ماری کوکھ سے جنتی. لیکن نہ جی بس یہ جوید کی جورو (بیوی) کی خسمت (قسمت) کی تھی، اسی کے گھر میں آئی جی. اللہ نصیب اچھے کرے جی شودی (بےچاری) کے.

تمھیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوا شہناز؟
کس بات کا پچھتاوا باجی. اسک تو میں آج بھی کرتی ہوں، بس بات نہیں کرتی. وہ جدھر بھی رہوے جی خس رہوے. باجی ہم انسانوں سے لڑ سکتے ہیں جی نصیباں سے نئی. نصیباں تو رب سوہنڑے نے بنائے ہیں نا جی. میرے لیے اب خوشی محمد ہی سب کچھ ہے. میرا سائیں ہے جی، اللہ سائیں نے اسے میرے لیے چنا ہے جی، تو سب سے اچھا ہی چنا ہوگا ناں،
تو پھر عشق کی بات کیوں کرتی ہو؟
باجی اسک پر زور نئی. بس اسے دل میں چھپا لیا ہے. روپ بدل کے اب جوید سے بات نئی کرتی، اللہ سے کرتی ہوں اپنے اور خوشی محمد کے لیے بھی، خوشی اور سدھا سادھ مرادا رستہ (سیدھا مرادوں بھرا راستہ) مانگتی ہوں، اور جوید اور اس کے ٹبر کے لیے بھی. اسک ہے ہی نامرادا. فیر کی کراں (عشق ہے ہی نامراد، اب کیا کروں)

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • ماشا اللہ بہت خوبصورت انداز تحریر ہے اتنا کہ سب باتیں دل میں اتر جائیں۔۔۔ اس تحریر میں کچھ سوال اٹھائے گئے
    کہ عشق ہونے سے پہلے خبر دار کیوں نہیں کرتا تو اسی کی روک تھام کےلئے اللہ جی نے حکم دیا ہے نا غص بصر ( نگاہیں نیچی رکھنے کا)۔ نہ یہ نگاہیں فضول میں اٹھیں اور نہ یہ بیماری دلوں کو لگے۔
    اور دوسری یہ سوچ کہ مرددلگی چاہے جس سے مرضی کرے نکاھ نہ کرے۔ تو یہ ہی سوچ تو ہمارے معاشرے کی اقدار کی بیخ کنی کرتی ہے۔ اگر یہ سوچ اپنائی جائے کہ زنا نہیں نکاح کرنا ہے صرف عورت سے دل نہیں بھلانا وہ اچھی لگتی ہے تو اسکو بیوی بناؤ اسکو عزت دو اور دلاو اسکی ذمہ داری اٹھاؤ ۔ اگر ایسا ہو جائے تو مرد کبھی باہر نہ جھانکیں۔ اور ہم عورتیں ہی مل کر( گھر والی اور باہر والی) دونوں مل کر مردوں کو راہ راست پہ لا سکتی ہیں اور معاشرے میں اپنا مقام عزت و احترام پاسکتیں ہیں۔ہمارے رب نے ہم عوتوں کو آبگینے اور قیمتئ موتی بنایا ہے ۔ہم اپنی قیمت پہچانیں گی تو ہی پائیں گی۔۔۔ ام عبداللہ