اس قوم کو کس چیز کی ضرورت ہے؟ حافظ یوسف سراج

کبھی کبھی سوچتا ہوں، ہم نے اپنی قوم کو کیا کچھ نہیں دیا، نعرے دیے، امت کا درد دیا، جہاد کا سبق دیا، اسلام کی محبت دی، دوسروں کو کافر، اسلام دشمن، غدار کہنے کا حوصلہ دیا اور غیرت و حمیت کا غیر متعین المعنی درس دیا۔ اگر نہیں دیا تو شعور نہیں دیا، حقائق کی جانکاری نہیں دی، اصلیت کی خبر اور سچا فہم نہیں دیا۔ ہم نے الفاظ دیے مگر ان کا حقیقی مفہوم نہیں دیا، نعرے سلوگن اور عنوان دیے مگر ان کا متن اور مضمون نہیں دیا، آیات پڑھ دیں مگر ان کی تفہیم نہیں دی، حدیث پڑھ دی مگر اس کی روح نہیں دی، اسلام دیا مگر اس کا عمل نہیں دیا، آئین دیا مگر اس کی تنفیذ نہیں دی، سکول دیے مگر تعلیم نہیں دی، ڈگریاں دیں مگر دانش نہیں دی۔

آج صورت یہ ہے کہ میاں صاحب جب ووٹ اور پرچی کے تقدس کی بات کرتے ہیں تو سوائے چند لوگوں کے عوام کو سرے سے ان کا فلسفہ ہی سمجھ میں نہیں آتا۔ آج ہمارے سیاستدان جب سول بالا دستی کی بات کرتے ہیں تو سادہ اکثریت سمجھ ہی نہیں پاتی کہ روٹی چاول کے بعد یہ کس خوراک کا نام ہے۔ آج جب لوگ برما کی صورتحال دیکھتے ہیں تو وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہم وہاں فوج لے کے چڑھ کیوں نہیں دوڑتے؟ آخر پاکستان ایٹمی ملک بنا کس لیے ہے؟ وہ نہیں جانتے کہ جدید قومی ریاستی دور میں اور معاہدات میں جکڑی گلوبل گاؤں ہوگئی دنیا میں سفارتی اعتبار سے اور غلام اقتصادی کمزور ریاست ہونے کے اعتبار سے یہ ہمارے لیے ممکن نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ہم نے تو ستر ہزار لوگ اپنے گھر کے اندر شہید کروا لیے، ہم وہ نہ روک سکے، ہم برما کیسے جیت سکتے ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم برما کا انسانیت سوز ظلم روکنے کی بات تو کرتے ہیں جبکہ اپنی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم اپنے ہی ملک کی کسی بھی جگہ حملہ ہونے سے نہیں روک سکے، نہ تھانے سے، نہ سکول سے، نہ ہسپتال سے، اور نہ جی ایچ کیو سے۔

وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ اگر ہم روہنگیا تک خوراک بھی پہنچانا چاہیں تو ہمیں جہاز اتارنے کے لیے اجازت کی ضرورت ہوگی، ہم وہاں فوج کیسے اور کہاں اتار سکیں گے؟ پھر کیا واقعی ہم اس صدی کے امریکہ جتنی طاقت کے حامل ہیں کہ واقعی ہر جگہ فوج اتار بھی سکتے ہیں؟ لوگوں کو پڑھا دیا گیا کہ ایسا نہ کرنا ایمان کے منافی ہے، انھیں بتایا ہی نہیں گیا کہ زندہ سیدہ سمیہ کو ابوجہل نے دو اونٹوں سے باندھ کو اونٹ مختلف سمتوں میں دوڑا دیے اور سیدہ سمیہ کا زندہ جسم دو ٹکڑوں میں بٹ گیا، اور یہ رسول ا اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہوا۔ اور ہم اس وقت اس کا بدلہ نہیں لے سکے تھے۔ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جو تنظیمیں پوری دنیا کے مظلوموں کی مدد کے دعوے کرتی ہیں، خود ان کے اپنے ملازموں کے، مہینے کے آخر میں چولہے نہیں جلتے، ان کے ورکرز ہسپتالوں سے دوائی کو ترستے ہیں، اور ان کے بچے مناسب تعلیم سے محروم ہیں۔

وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ جو لیڈر نفاذ اسلام کے لیے دن رات کوشاں ہیں، انھی کی اپنی مسجدوں کے واش روم ان کے گھروں کے واش رومز جتنے بھی صاف نہیں، حالانکہ اسلام صفائی کو نصف ایمان کہتا ہے۔ وہ جو کشمیر اور فلسطین کی بیواؤں کے لیے پریشان ہیں، گھر میں ان کی بیویاں خود ان سے پریشان ہیں۔ لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ جو شعلہ بیاں مقرر سٹیج پر امریکہ سے لڑ جانے اور انڈیا توڑ دینے کی باتیں کرتے ہیں ، پولیس آجائے تو وہ پوچھتے ہیں، اب بھاگنا کدھر سے ہے؟

لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ جن لوگوں کی زبان نبی کی سنت نبی کی سنت کہتے نہیں تھکتی، خود وہ ایک حدیث بھی درست اعراب سے نہیں پڑھ سکتے، اور وہ جو مدینہ مدینہ کرتے نہیں تھکتے، وہ اپنے ٹی وی پر مسجد نبویﷺ کا خطبہ تک نہیں دیتے۔ جو پیر عبدالقادر کے نام کی ہر ماہ گیارھویں دیتے ہیں، وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ پیر صاحب کی کتاب غنیۃ الطالبین کے مطابق پیر صاحب رفع الیدین سے نماز پڑھتے تھے۔ وہ جو سید علی ہجویری کی درگاہ سے حاجات حل کرواتے ہیں، انھوں نے سید ہجویر کی کشف المحجوب کا مطالعہ تک کرنے کی زحمت نہیں فرمائی، جس میں لکھا ہے کہ کسی صاحب نے پیر صاحب کے شعروں کی کتاب چرا لی تھی اور کبھی واپس نہ دی۔

نتیجہ یہ کہ نعروں میں پلتی یہ قوم عمل سے عاری اور کردار سے کھوکھلی ہوچکی۔ اب یہ قوم اسلام صرف بے روح نماز، ایمان سے عاری روزے اور دکھاوے کے حج اور زکوۃ کو سمجھتی ہے، یا پھر چند درگاہوں کی حاضری اور چند ایام کی نذر نیاز کو اسلام کامل گردانتی ہے۔ یہ قوم فراڈ کرنے، جھوٹ بولنے، دونمبر مال کی فریب زدہ تجارت کرنے کو عملا برا نہیں جانتی۔ ہر گروہ نے شعور سے عاری ایسے عقیدت مند کارکن جمع کر لیے ہیں، جن کا اعتقاد یہ ہے کہ ان کا لیڈر برسر اقتدار آگیا تو کشمیر آزاد ہوجائے گا، اسلام نافذ ہوجائے گا، سنتوں کا بول بالا ہو جائے گا، دودھ شہد کی نہریں بہنے لگیں گی اور آسمان سے برکات کا نزول ہونے لگے گا۔ ہر گروہ کے نزدیک صرف وہی سچے مسلمان اور باقی سب واجب القتل فراڈ مسلمان ہیں۔ صرف وہی حق پر اور باقی سب گمراہ اور گستاخ ہیں۔

اخلاق اور اسلامی آداب کی دوسرے گروہوں یا ان کے لیڈروں کے لیے کوئی ضرورت نہیں۔ یہ نوازشریف کو گنجا، مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل، عمران خان کو ابو ٹیریان، آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ، اور دیگر لوگوں کو بھی ایسے ہی شرمناک القابات سے پکارنے کو عین ایمان اور کامل حب الوطنی سمجھتے ہیں۔

کیا آپ نہیں سمجھتے کہ، نعروں کی خیالی دنیا میں پلتی اس قوم کو کچھ اور نہیں، اب صرف زمینی شعور اور انسانی اخلاق دینے کی ضرورت ہے؟

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com