جھاگ کی مانند مسلمان اور دنیا کی محبت - اسماعیل احمد

کیا ہم یہ سوچنے کی زحمت گوارا کر سکتے ہیں کہ آج بحیثیت امت ہم جن آلام کا سامنا کر رہے ہیں، آخر ہم پر ہی کیوں نازل ہو رہے ہیں؟ کشمیر، افغانستان، عراق، لیبیا، شام، یمن کے دکھ کیا کم تھے کہ اب برما میں بھی مسلمان رسولِ پاکﷺ کے اس فرمان کے مفہوم کی رُو سے سیلاب کے اوپرموجود جھاگ کی مانند بے وقعت ہو رہے ہیں؟ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا :- قریب ہے کہ اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں جس طرح بھوکے لوگ دسترخوان کی طرف لپکتے ہیں - صحابہ (رضی الله تعالی علیہم اجمعین ) نے سوال کیا : کیا اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ہم تعداد میں بہت کم ہوں گے؟ رسول الله (صلّ الله و سلّم ) نے فرمایا : نہیں !! تم کثیر تعداد میں ہوگے مگر تم سیلاب کے اوپر موجود جھاگ کی مانند بے وقعت ہو جاؤ گے۔ تمھارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب نکل جائے گا اور تمھارے دلوں میں "" وہن "" داخل ہو جائے گا۔ صحابہ نے سوال کیا " وہن کیا چیز ہے ؟؟رسول الله نے فرمایا "دنیا سے محبّت اور موت سے کراہت"

غم و اندوہ کی ان گھڑیوں میں شاید خود احتسابی نہایت مشکل عمل ہے جب دل مظلومیت کے آنسو بہانا چاہ رہا ہو مگر دماغ یہ باور کرائے کہ نہیں، اپنی غلطیوں پر نظرِ ثانی کرو جنہوں نے اس حال تک پہنچایا ہے۔برما میں تو چلو غیر مسلموں کی حکومت ہے۔ مسلمان، مسلمانوں کے ملکوں میں بھی تو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیے جاتے ہیں کبھی مسلک، کبھی مذہب کے نام پر، کبھی بنامِ سیاست اور کبھی بنامِ اقتدار۔ ہم مسلمانوں کو کیا دولتِ دنیا اپنے ایمان اور اسلام سے زیادہ پیاری نہیں ہو گئی۔ گزشتہ پانچ صدیوں سے جاری اس رات کا سویرا کیسے آئےگا؟ ہم آج کم و بیش 56 اسلامی ممالک کے سربراہان کے امہ کے حالات سے گونگے بہرے پن پر ماتم کر رہے ہیں۔ کیا کبھی یہ بھی سوچا کہ انہیں اقتدار کی راہداریوں میں پہنچانے کے لیے کون دامے درمے قدمے سخنے جتن کرتاہے؟ کون ان کے نعرے لگاکے، انہیں کندھوں پر بٹھا کے اور ان سے اپنے اپنے کام نکلوا کے تخت پر بٹھا تا ہے؟ ان حکمرانوں کی اقتدار کی رسہ کشی کے کھیل میں ہمارا کردار تو ایک چاپلوس سے زیادہ کا نہیں ہوتا۔ انسان جو بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے اور قومیں بھی۔ آج مسلمان قوم کے درپے غیر مسلم کیا ان خصوصیات کے حامل نہیں جو کبھی جہا ں میں ہمارا طرۂ امتیاز ہو ا کرتی تھیں۔ وہ سچ بولتے ہیں، وہ امانت میں خیانت نہیں کرتے، اپنا کام پوری ایمانداری سے کرتے ہیں، اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنانے کے لیے وہ ہر دم ان دیکھی، ان سوچی منزلوں کی جانب گامزن رہتے ہیں۔ جھوٹ ہمارا وتیرہ، خیانت فرض، کام میں ڈنڈی مارنا عادت۔ ان اعمال کے ساتھ بنی اسرائیل کا کیا حال ہوا تھا؟ اللہ تعالی نے اپنے کلام ِ پاک میں اُس تاریخ کو بار بار موضوعِ سخن بنایا مگر ہم نے سوچنے کی زحمت نہیں کی۔ خود احتسابی، اپنے معاملات کی از خود سخت چھان پھٹک اس کے بغیر مسلمانوں کے حصے میں وہی کچھ ہے جو آج دنیا سے وہ وصول کر رہے ہیں۔

ہم تو رسولِ مبینﷺ کے امتی تھے۔ آخر یہ دو ٹکے کی دنیا ہمیں دائمی آخرت سے زیادہ پیاری کیوں ہو گئی؟ یہ چند روزہ زندگی کیا ہم ان اصولوں کی روشنی میں نہیں گزار سکتے جو ہمیں رسول اللہﷺ نے بتائے تھے۔ وہ آسان اور روشن اصول جن پر عمل کر کے کبھی عرب کے وحشی، دنیا کے تاجدار بنے تھے۔ وہ پانچ وقت کی نماز، وہ اچھے اخلاق، لوگوں کے ساتھ معاملات میں سراپا خیر رہنے کی روِش، اپنی ذمہ داریوں کی بطریقِ احسن انجام دہی، اپنے تعصبات سے اوپر اٹھ کر صرف حق اور انصاف کی بات کرنامگر ان سب سے پہلے اپنی سابقہ زندگی کے گناہوں پر توبہ اور رحمٰن و رحیم پروردگار سے معافی کے درخواست۔ یہ چندامور بھی اگر ہم مسلمانوں نے اپنے مطمعِ نظر بنا لیے تو کوئی شک نہیں کہ ہماری قوم اُن دکھوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا پا لے گی جو آج کل ہمارامقدر نظر آرہی ہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */