یوم دفاع کا پیغام - حنظلہ عماد

کسی بھی قوم کی جغرافیائی سرحدیں تبھی مضبوط ہو سکتی ہیں جب اس کی نظریاتی سرحدیں محفوظ ہوں۔ یوم دفاع کا پیغام یہی ہے کہ جب وطن عزیز کی نظریاتی سرحدیں کسی بھی ابہام سے پاک تھیں تبھی ہماری جغرافیائی سرحد تک بھی دشمن کی میلی آنکھ نہ پہنچ پائی لیکن جونہی ہم لسانی تعصبات میں الجھے، نظریاتی سرحدوں میں بڑا شگاف پڑا اور اس کا خمیازہ سقوط مشرقی پاکستان کی صورت بھگتنا پڑا۔ یہ نظریہ پاکستان سے کمزور ہونے والا تعلق تھا جس کے بعد ہمیں مشرقی پاکستان کی جدائی کا زخم سہنا پڑا۔

حالات آج بھی تسلی بخش نہیں ہیں۔ بجا کہ ہماری بہادر مسلح افواج مستعد اور دفاع وطن کے لیے ہم وقت تیار ہیں مگر نظریات میں در آنے والے شکوک و شبہات دشمن کے لیے آسان راستہ بن سکتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کا نوجوان جب اپنی لسانی اورصوبائی پہچان پر اصرار کرے تو انجانے میں دشمن کا آلہ کار بنتا ہے۔لا الہ الا اللہ کے علاوہ کسی اور بنیاد پر اتحاد دراصل تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔ ہمارے دشمن نے یہ پینترا کچھ سال قبل بدلا تھا۔ میری قوم کے جواں ذہن کو آلودہ کرنے کی خاطر صوبائیت و لسانیت کا زہر انڈیلا گیا تھا۔ ہمارے دفاع کے ضامن مگر خاموش نہیں رہے تھے۔ اس سازش کا بھرپور جواب دیا گیا لیکن حملہ بدستور جاری ہے۔ ذرائع ابلاغ کی صورت ہماری جڑیں کھوکھلی کرنے کی کوشش ابھی بھی موجود ہیں۔ ایسے نازک وقت میں جنگ کی کمان صرف مسلح افواج کے ہاتھ دینا سراسر بے وقوفی ہے۔ ان حالات میں اس وطن کا ہر جواں ایک سپاہی ہے۔ ہر طالب علم نظریاتی سرحدوں کا محافظ ہے۔

میرے وطن کے نوجوانو! اگر ایسا نہ ہوا اور ہم نے اپنی مٹی کا دفاع نا کیا ....مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ ہزاروں شہداءکی قربانیوں سے مزین یہ چمن اپنے باغباں کی سستی کے باعث خزاں کا شکار ہو جائے۔ اس یوم دفاع عہد کرو کہ ہم میں سے ہر ایک اس پاک وطن کا محافظ ہے۔ اس کی نظریاتی سرحدوں کا پہریدار اور شہدائے وطن کا امانت دار ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */