نوجوان صحافیوں کو درپیش مسائل - اعتزاز ابراہیم

ٹی وی سکرینوں پر نظر آنے والے گلیمر اور چمک دھمک کے پیچھے کی تاریکی سے وہی لوگ واقف ہیں جو اس سے وابستہ ہیں یا اس فیلڈ سے واقفیت رکھتے ہیں۔لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹی وی چینلوں میں کام کرنے والوں کی طرز زندگی بہت شاہانہ ہوتی ہیں لیکن حالات اس سے بالکل الٹ ہیں۔سوائے مٹھی بھر اینکرز حضرات اور چند لوگوں کہ جو بڑی سیٹوں پر براجمان ہیں، کارکن صحافیوں کے حالات مسائل سے بھر پور ہیں۔ خصوصاً نوجوان صحافیوں کو جو فیلڈ میں نئے ہوتے ہیں اور ابھی میڈیا میں اپنے قدم بھی نہیں جما پائے ہوتےکو بہت سی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔آئیں ان ینگ جرنلسٹ کو درپیش مشکلات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

صحافتی تعلیم اور پریکٹکل میڈیا کا تضاد

یونیورسٹی میں ماس کام کی تعلیم کے دوران تھیوری اور اس طرح کا نصاب پڑھایا جاتا ہے، جس کا پریکٹکل فیلڈ سے رتّی برابر بھی تعلق نہیں ہوتا۔ طالب علم دوران ڈگری کوئی ایسی صلاحیت سیکھ نہیں پاتے جیسے وہ فیلڈ میں استعمال کر سکیں۔یونیورسٹی میں جو صحافتی مضامین پڑھائے جاتے ہیں ان میں صرف ایک یا دو مضامین کے باقی انگریزی زبان میں ہیں اور پاکستان میں صحافت اردو زبان میں ہے۔تو فیلڈ میں نئے آنےوالے ان نوجوانوں کے لیے معیاری اردو بولنا اور لکھنا ایک مسئلہ بن چکا ہے۔

میڈیا اور سفارشی کلچر

دوران تعلیم طالب کے ذہن میں ہی تصویر ہوتی ہے کہ ڈگری کے فورًا بعد کسی بڑےچینل میں موٹی تنخواہ کے ساتھ پرکشش جاب اُن کی منتظر ہے۔ لیکن گریجویشن کے بعد جن کے پاس تو کوئی پرچی ہوتی ہے وہ تو کہیں نہ کہیں سیٹ ہو جاتے ہیں اور اپنی جگہ بنا لیتے ہیں اور باقی پھرجگہ جگہ سی وی لے کر خوار ہوتے ہیں اور بمشکل کسی چینل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔

تنخواہ کے بغیر کام

فیلڈ میں آنے کے بعد سب سے بڑا ظلم جو ان ینگ جرنلسٹوں پر کیا جاتا ہے کہ ان سے کئی کئی ماہ بغیر کسی تنخواہ کے دن رات کام لیا جاتا ہے۔ اگر تنخواہ ملے بھی تو چند روپے، جن سے بمشکل گزارا ہو سکے۔

قارئین کے لیے اپنا ہی ایک واقعہ پیش کر دیتا ہوں کہ میری پہلی جوائننگ بطور رپورٹر ایک نجی چینل (دن نیوز) کہ ہیڈ آفس لاہور میں ہوئی۔ میرے ساتھ پانچ اور نوجوان بھی تھے جن کی جوائننگ میرے ساتھ ہوئی تھی۔ چینل کے حالات کچھ اس طرح تھے کہ رپورٹرز کو ڈی ایس این جی کے ساتھ ایک مقررہ جگہ پر رہنا ہوتا تھا اور وہی سے خبریں بھیجنا ہوتی تھیں۔ خیر، کافی عرصہ ہم بغیر کسی تنخواہ کے مشکل حالات میں کام کرتے رہے ہیں اور تںخواہ مانگنے پر حیلے بہانوں سے ہر بار ٹرخایا جاتا۔کچھ ماہ بعد میں نے یہ چینل چھوڑ کر دوسرا چینل جوائن کر لیا۔جبکہ میرے بعد کچھ نے تنخواہ نہ ملنے کے باعث خود ہی چینل چھوڑ دیا اور کچھ کو نکال دیا گیا۔ان دوستوں سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اُن میں سے ایک دوست نے مایوس ہو کر مستقل طور پر صحافت کو خیر باد کہہ دیا ہے۔ اس کے عللاوہ میرے کئی دوست جو یونی ورسٹی میں دوران تعلیم میرے ساتھ تھے، ان میں سے کئی تںخواہ نہ ہونے کے باعث صحافتی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔

سکھانے والوں کی عدم موجودگی

اس کے بعد بڑا مسئلہ جو ان نوجوان صحافیوں کو درپیش ہیں کہ چینلوں میں بہت سے نان پروفیشنل لوگ ہیں جن کوصحافت کی الف ب بھی نہیں پتہ اور جن کو پتہ ہیں وہ کسی کو سکھانا نہیں چاہتے۔یہ خوش قسمتی ہی ہے کہ ان کو اچھا استاد مل جائے جو ان کو صحافت سکھائے۔البتہ ٹانگ کیھنچنے والے کافی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو ہر بات پر ان پر نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے بہت سے نئے آنے جنہیں تھوڑی سے تربیت سے ایک اچھا صحافی بنایا جا سکتا ہے وہ ان رویّوں سے تنگ آکر فیلڈ سے مایوس ہو جاتے ہیں اور اکثر فیلڈ چھوڑ جاتے ہیں۔

جبری بے دخلی

دوسرا ہر وقت ان پر خطرے کی تلوار لٹکتی رہتی ہے جو کسی بھی وقت ان کی گردن کاٹ سکتی ہے۔ جب بھی کبھی تنخواہوں میں کٹوتی اور ملازمین کو فارغ کرنے کا جابرانہ عمل ہوتا ہے تو سب سے پہلا شکار ہی ینگ جرنلسٹس ہوتے ہیں۔جب کہ سینئر صحافی اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے اکثر اس عمل سے کئی دفعہ بچ نکلتے ہیں۔

خواتین صحافیوں کے مسائل

یوں تو یونیورسٹیوں کے میڈیا ڈپارٹمنٹ میں خواتین کی تعداد دوسرے ڈپارٹمنٹس کی بہ نسبت زیادہ ہوتیں۔ لیکن میڈیا ہاؤسز میں اور خصوصاً رپورٹنگ ڈپارٹمنٹ خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں کیونکہ انہیں جہاں نئے آنے والوں کی طرح کے مسائل کے علاوہ سماجی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں فیلڈ میں ہر طرح کے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہےاور بسا اوقات انہیں دوران رپورٹنگ ناروا سلوک بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے خواتین رپورٹنگ کی بجائے میڈیا میں ان ہاؤس جاب کو ترجیح دیتی ہیں۔

نوجوان صحافتی تنظیموں کا نہ ہونا

سب سے بڑا ظلم ان نوجوان صحافیوں کے حقوق کی آواز بلند کرنے کے لیے کوئی نمائندہ تنظیم ہی موجود نہیں جو ان کے حقوق کی جنگ لڑ سکے۔ ان ینگ جرنلسٹ کی تربیت اور حقوق کی لڑائی کے لیے نمائندہ تنظیم بے حد ضروری ہے۔ کیونکہ جو صحافتی تنظیمیں موجودہیں ان کے ممبر صرف سینیئر صحافی ہیں اور نوجوان صحافی ان کی ممبر شپ تک نہیں حاصل کر پاتے۔جہاں لاہور پریس کلب میں مختلف تفریحی پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے وہاں پریس کلب انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ان نوجوان صحافیوں کی تربیت کے لیے ورک شاپس کا اہتمام کرے اور ان نوجوان صحافیوں کی جلد ممبر سازی کا طریقہ کار بھی وضع کرے۔