ٹرک - حسان اسلم

ٹرک ایک ایسا چوپایا ہے جس کی ہئیت کذائی سے ہر شریف آدمی خوفزدہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس میں ایسی کئی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کی بدولت نہ چاہتے ہوئے بھی برداشت کرنا پڑتا ہے کیونکہ بھاری سامان کو ادھر سے اُدھر لے جانے کا اہم ذریعہ ہے لیکن وطنِ عزیز میں ٹرک کو ناپسند کرنے کی کئی وجوہات ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کئی دلچسپ امر بھی موجود ہیں۔اب بحیثیت پاکستانی مجھ پر فرض ہے کہ روشنی ڈالی جائے۔

ہارن:

ویسے تو وطن عزیز میں ہر گاڑی میں گویاصورِ اسرافیل نصب ہے مگر ٹرک اس معاملے میں اوّل نمبر پر ہے۔آپ سڑک پر کسی حسیں خیال میں گم جا رہے ہوں اور اچانک ٹرک کا ہارن پاس سے ہی بلند ہو تو سب سے پہلے اُس روح کو سنبھالنا پڑتا ہے جو قفس عنصری سے پرواز کے لیے پر تول رہی ہوتی ہے اور گمان گزرتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور ضرور اُس حسیں خیال کا برادر کلاں ہوگا۔ٹرک ڈرائیور تو اپنی راہ پکڑ چکا ہوتا ہے مگر اس بات سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہ پیچھے لوگ اُس کا شجرہ نسب حرام جانوروں سے ملا رہے ہوں گے۔

شاعری:

ہر بشر متجسس ہے کہ ٹرک ڈرائیوروں کے اندر اتنا درد کیوں سمویا ہوتا ہے جس کا مداوا ٹرکوں پر شاعری میں پنہاں ہے اور شاعری بھی ایسی جس پر ڈرائیور واجب القتل ہے۔نمونے کے چند اشعار پیش ہیں:

آج کل کی لڑکیاں حسن پر ناز کرتی ہیں

پہلا کلمہ آتا نہیں انگلش میں بات کرتی ہیں

گیئر لگا دیتا ہوں کلچ پکڑے بغیر

تیرا انّے واہ یاد آنا ایکسیڈنٹ کروائے گا

مجھے غریب سمجھ کر محفل سے نکال دیا فراز

بعد میں ظالموں نے نرگس بُلا لی

قارئین ان اشعار پر سپریم کورٹ کی جانب سے اب تک سوموٹو ایکشن سامنے آجانا چاہیے تھا۔

اقوالِ زریں:

اکیس توپوں کی سلامی اُن حضرات کی قوت برداشت پر جو ٹرکوں پر لکھے اقوال پر تبصرہ نہیں کرتے اگر وضو ٹوٹنے کا اندیشہ نہ ہو۔ اس حقیقت سے روشناس ہونے کے لیے چند نمونے پیش ہیں،

سڑیا نہ کر، دعا وی کریا کر

فاصلہ رکھیں نہیں تو پیار ہو جائے گا

دل برائے فروخت،

قیمت صرف ایک مسکراہٹ

تے اسی ہُن کون ہو گئے؟

پریشان نہ تھی میں ول آساں

پاس کر یا برداشت کر

اس سے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی قوم کس اذیت سے گزر رہی ہے۔

نوٹ:اس مضمون کو پڑھ کر بھی کسی حضرت کے دل میں ٹرک کے حوالے سے اگر کوئی نرم گوشہ ہے تو ختم ہوجانا چاہیے۔‌‌ شکریہ!

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com