جذبہ جیتا تھا – احسان کوہاٹی

’’ہمیں صبح سویرے پتہ چلا کہ ہندوستان نے حملہ کر دیا ہے اور مجھے یہ بات چاچا میدو سے پتہ چلی۔ چاچا میدو کی محلے میں راشن کی دکان تھی اور ان کی دکان ان چند دکانوں میں سے تھی جہاں ریڈیو بولتا تھا، اس لیے ان کی دکان پر رش بھی کچھ زیادہ نظر آتا تھا جیسے ہی ریڈیو پراعلان ہوا کہ ہندوستان نے حملہ کردیا ہے انہوں نے نے دکان بند کی اور محلے میں دوڑنے لگے ساتھ ساتھ چیختے جا رہے تھے ’’اوئے اٹھو! ہندوستان نے حملہ کردتّا جے۔۔۔‘‘

سیلانی بیٹا! اس کے بعد کے منظر بڑے عجیب تھے مجھے اب بھی یاد آرہے ہیں تو میرے بوڑھے بدن میں لہو جوش مارنے لگا ہے یہ دیکھو میرے رونگٹے کھڑے ہو رہے ہیں‘‘وزیر علی صاحب نے کرتے کی آستین اوپر کرتے ہوئے ہاتھ سامنے کر دیا ان کی کمزور کلائی پر سفید رونگٹے واقعتا کھڑے ہوئے تھے۔

وزیر علی صاحب ان بزرگ شہریوں میں سے ہیں جنہو ں نے 1965ء کی جنگ دیکھ رکھی ہے۔ وہ ان دنوں لاہور میں کلاس ہشتم کے طالب علم تھے۔ انہیں 65ء کے وہ کڑے دن اچھی طرح یاد ہیں اور وہ یہی یاداشتیں سیلانی سے شیئر کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی سفید داڑھی میں انگلیوں سے خلال کیااور کھڑی ناک پر عینک درست کرتے ہوئے سلسلہ کلام جوڑنے لگے’’چاچا میدو کے اعلان کے بعد محلے میں عجیب تھرتھرلی سی مچ گئی مجھے اس دن بخار تھا میں چادر اوڑھ کرچارپائی پرلیٹا ہوا تھا، چاچا نے گھر کا دروازہ دھڑدھڑایاوہ محلے میں ایک ایک کا دروازہ بجا بجا کر چیختے جاتے تھے "ہندوستان نے حملہ کردتا جے۔" چاچا کے اعلان کے بعد محلے کے سارے بڑے بوڑھے گھروں سے نکل آئے میرے والد بھی گھر سے نکلے اور ان کے پیچھے میں بھی باہر آگیا کیا دیکھتا ہوں سارے محلے والے نکڑ پر جمع ہیں ان میں مالی چاچا خادم حسین آستینیں چڑھائے کدال اٹھائے ایسے کھڑے تھے جیسے ابھی محاذ پر جا رہے ہیں۔ لوگوں میں بڑا جذبہ تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے ماسٹر صداقت بشیر نے وہاں تقریر کی تھی اور کیا تقریر کی تھی، مجمع میں آگ لگا دی تھی، پورا محلہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجنے لگا۔

’’کوئی ڈر خوف۔۔ ۔‘‘سیلانی کی بات منہ ہی میں رہ گئی وزیر علی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر اس کی بات کاٹی اورکہا’’نہ، نہ، نہ، خوف نام کی کوئی شے نہ تھی بیٹا! فوجیوں کے لیے تو لوگوں کو روکنا مشکل ہو گیا تھا۔ لوگ نعرے لگاتے ہوئے محاذ کی طرف چل پڑے تھے کہ ہندوستان سے لڑنا ہے پاکستان بچاناہے‘‘۔

وزیر علی صاحب نے ایک اور عجیب بات بتائی کہ جنگ کے دنوں میں اشیاء خوردونوش کی قلت ہو جاتی ہے ۔ سیاہ دل والے ذخیرہ اندوزی کرلیتے ہیں، چیزیں بلیک میں ملنے لگتی ہیں لیکن 65ء میں کسی چیز کی قیمت میں ایک آنے کا اضافہ نہ ہوا۔ ماما میدو نے تو اپنے طور پرہی راشن بندی کر دی تھی وہ محلے میں ہر گھر سے واقف تھے۔ میں دال لینے گیا تھا تو آدھا سیر کے بجائے پاؤ پکڑادی اور کہنے لگے ماں سے کہنا دال میں پانی ذرا زیادہ ڈال کر گزارہ کر لے۔ پتہ نہیں کتنے دن لڑائی لگی رہے احتیاط کرنی چاہیے ‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   یوم دفاع کا پیغام - حنظلہ عماد

نارتھ ناظم آباد کی عطیہ آنٹی کراچی کے نیوز چینل سے منسلک رپورٹر سدرہ ڈار کی والدہ ہیں اورخوب یادداشت کی مالک ہیں۔ عطیہ آنٹی 65ء کی جنگ میں بہت چھوٹی تھیں لیکن انہیں بہت سی باتیں اچھی طرح یاد ہیں،وہ بتانے لگیں 65ء کی جنگ میں ہم لوگ ناظم آباد میں رہتے تھے، میرے والد صاحب عبدالغفور بٹ بیرون ملک ملازمت کرتے تھے۔ اتفاق سے ان دنوں یہیں تھے جب جنگ کا اعلان ہوا اور پتہ چلا کہ ہندوستان نے لاہور پر حملہ کر دیا ہے اور ابو اب باہر ملک نہیں جارہے تو ہم بڑے خوش ہوئے کہ اب ابو گھر پر ہمارے ساتھ ہی رہیں گے۔ ہم نے یہ خوشی امی سے شیئر کی تو انہوں نے ڈانٹااور کہاپتہ ہے جنگ کیا ہوتی ہے؟ خیر کی دعا کرو جنگ بڑی تباہی لاتی ہے۔ جنگ کی اطلاع پر والد صاحب بے چین ہوگئے وہ عملیت پسند انسان تھے، پاکستان ان کے لیے بہت کچھ تھا۔ جب ریڈیو پر اعلان ہوا کہ دفاعی فنڈ قائم کر دیا گیا ہے تو انہوں نے مہینے بھر کی تنخواہ جا کر فنٖڈ میں جمع کرا دی۔ یہ نہ سوچا کہ پیچھے بھر اپرا ٹبّر ہے، بچوں کا ساتھ ہے اور کوئی عام حالات بھی نہیں۔ جنگ چھڑی ہوئی تھی اور کچھ پتہ نہ تھا کہ کتنے دن جنگ رہے گی پھربعد کے حالات کا بھی کیا پتہ؟ لیکن انہوں نے پروا نہ کی پھرریڈیو سے پتہ چلا کہ چونڈہ کے محاذ پرفوجی سینے سے بم باندھ باندھ کر ٹینکوں کے نیچے گھس کر انہیں تباہ کر رہے ہیں۔ میرے والد نے والدہ سے کہا نیک بخت کیا خیال ہے مجھے وہاں نہیں جانا چاہیے؟والدہ نے سنا تو چپ ہوگئیں اور دبی دبی آواز میں کہنے لگیں سوچ لیں آپ کے پیچھے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، چھ تو بیٹیاں ہیں آپ کی۔۔۔والد صاحب نے یہ سنا تو بولے ’’اس سے کیا فرق پڑتا ہے رازق تو اللہ کی ذات ہے۔" وہیں میری بہن زاہدہ بھی تھی۔ تب زاہدہ باجی آٹھ نو برس کی ہوں گی۔ بہت جوشیلی اور جذباتی طبیعت کی تھیں۔ وہ بھی ضد کرنے لگیں کہ میں نے بھی ابو کے ساتھ جانا ہے، میں بھی بم باندھوں گی۔ ابو نے انہیں پیار سے سمجھایا کہ بیٹا بم پھٹنے سے بندہ مرجاتا ہے ٹکڑے بھی نہیں ملتے یہ سن کر باجی نے اور جوش سے کہا تو کیا ہوا میں شہید ہو جاؤں گی ‘‘۔

عطیہ آنٹی اپنی انہی بہن کے بارے میں بتانے لگیں کہ مجھے یاد ہے ریڈیو سے اعلان ہوا کہ زخمی فوجیوں اور شہریوں کے لیے خون کی ضرورت ہے شہری اسپتالوں میں جا کر خون کا عطیہ دیں۔ زاہدہ باجی نے ابو سے کہا کہ مجھے بھی خون دینا ہے ابو نے سمجھا نے کی کوشش کی کہ ابھی آپ چھوٹی ہیں۔ انہوں نے ضد کی تو ابو نے ذرا سختی سے واپس گھر بھیج دیا۔ اب انہوں نے گھر میں آکر دوا کی چھوٹی سی شیشی ڈھونڈی اور انگلی پر کٹ لگا کر انگلی شیشی میں ڈال دی اور دبا دبا کر خون بھرنے لگیں۔ پھر ہم سب گھر کے باہر آکر بیٹھ گئیں ان دنوں پولیس اور رضا کار گشت کیا کرتے تھے۔ وہ گشت کرتے ہوئے آئے تو انہوں نے خون کی بوتل ان کی طرف بڑھادی انہو ں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ باجی نے کہا فوجی انکلوں کے لیے خون ہے، انہیں پہنچا دیجیے۔اب وہ کبھی اس شیشی کو دیکھتے اور کبھی ہم بچوں کو دیکھتے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ نے یہ خون نکالا کیسے زاہدہ نے جھٹ سے زخمی انگلی سامنے کر دی وہ تو ہکا بکا رہ گئے۔ ہمیں پیار کیا، شاباش دی اور والد صاحب کو بلواکربتایا کہ بچیوں نے محاذ پر زخمی ہونے والوں کے لیے خون کا عطیہ دیا ہے۔ والد صاحب حیران بھی ہوئے اور ذرا پریشان بھی انہوں نے شاباش تو دی لیکن ڈانٹابھی کہ یہ کیاطریقہ ہے؟ خون کا عطیہ اس طرح نہیں دیا جاتا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   میر کارواں کی داستاں تم ہو - رضا علی

کراچی ہی کے ایک اور سینئر صحافی ان دنوں لاہور میں تھے، سیلانی ان سے پریس کلب میں ملا، ان دنوں کی یادوں کا ذکر کیا، کچھ کریدا تو کہنے لگے۔ ان دنوں جذبے کا حال یہ تھا کہ جب فضائی حملے کا سائرن بجتا تو لوگ خندقوں میں کودنے کے بجائے چھتوں پر چڑھ جاتے، طیاروں کی گھن گھرج پر تالیاں بجاتے اور یوں نعرے لگاتے جیسے پائلٹ سن رہا ہو اور وہ اس کا حوصلہ بڑھا رہے ہوں۔ کوئی خوف ڈر نام کو نہ تھا اور نہ ہی کوئی تفریق تقسیم تھی۔ بھارتی توپوں اور بارود نے ہمیں ایک کر دیا تھا جسکا رزلٹ بھی سامنے آیا۔ چھ سال بعد دوبارہ ایسی ہی صورتحال درپیش تھی لیکن تب کلینڈر ہی نہیں بہت کچھ بدل چکا تھا مشرقی اور مغربی پاکستان میں خلیج بڑھ چکی تھی۔ ہم پاکستانی ہونے سے پہلے اور بہت کچھ ہو چکے تھے اور اس تفریق تقسیم کا نتیجہ بھی ہم نے دیکھ لیا۔ چھ برس پہلے جس وطن کی حفاظت کی تھی اسی کا ایک بازو گنوا دیا، پاکستان آدھا رہ گیا‘‘یہ کہہ کروہ خاموش ہوگئے اور دور آسمان کو یوں یکھنے لگے جیسے نیلگوں افق نہ ہوٹیلی وژن کی اسکرین ہوجس پرگئے وقتوں کے مناظر کسی فلم کی طرح چل رہے ہوں وہ کبھی مسکراتے ہوئے معلوم ہوتے اورکبھی اداس۔ سیلانی نے انہیں ڈسٹرب کرنا مناسب نہ جانا بس خاموشی سے ان کے چہرے پرخوشی غمی کی دھوپ چھاؤں دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں