سیر پر سوا سیر - توقیر ماگرے

میں نے جونہی اپنی بائیک لیاقت آباد انڈر پاس میں داخل کی تو سامنے کھڑی ایک موٹر سائیکل پر نظر پڑی جس پر بیٹھا ایک شخص مدد مانگنے کے سے انداز میں مجھے رکنے کا اشارہ کررہا تھا۔ اس کے قریب ہی ایک خاتون بھی کھڑی تھی جس کی گود میں دو تین سال کی ایک بچی بھی تھی۔

میں نے جیسے ہی اپنی موٹر سائیکل ان لوگوں کے پاس روکی تو وہ شخص بجلی کی سی تیزی سے میری طرف آیا اور نہایت پریشانی کے عالم میں اپنا موبائل مجھے تھمانے لگا۔ ابھی میں کچھ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ وہ خود بتانے لگانے لگا کہ وہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں اپنی بیگم اور بچی کے ساتھ جارہا تھا، سارے پیسے بیگم کے بیگ میں تھے جو کہ کہیں گرگیا ہے۔ یہ کہتے ہی اس نے اپنا موبائل ایک مرتبہ پھر میری طرف کیا، اب جب میں نے اس سے اس بارے میں پوچھا تو کہنے لگا کہ ہماری موٹر سائیکل خراب ہوگئی ہے۔ مکینک نے ٹھیک کرنے کے چار سو روپے مانگے ہیں، آپ ہماری مدد کردیں اور جب تک ہم آپ کے پیسے لوٹا نہ دیں آپ یہ موبائل اپنے پاس رکھ لیں۔ ابھی میں موبائل لینے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ذہن میں خیال آیا کہ موبائل اگر میں نے رکھ لیا تو اس شخص سے رابطہ کیسے ہوگا؟ یہ خیال آتے ہی میں موبائل میں نے اس کی طرف واپس لوٹا دیا۔

قصہ مختصر تپتی دھوپ میں اس شخص کے ساتھ کھڑی خاتون اور ان کی بچی کو دیکھ کر میرے دل میں ہمدردی کی ٹیس اٹھی اور میں نے ان کی مدد کرنے کا ارادہ کرلیا۔ مگر جب میں بچی کے باپ کو دیکھتا تو میرے ذہن میں صدر ممنون حسین کا مشہور زمانہ جملہ گونجنے لگتا اور میں پیسے دینے کا ارادہ ترک کرلیتا، کچھ دیر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ بالآخر میں نے خود کو تسلی دی کہ میں تو ایک جہاں دیدہ انسان ہوں، کوئی ایرا غیرا تو مجھے بیوقوف بنانے سے رہا، دیکھنے میں پریشان مسافر لگ رہے ہیں ان کی مدد کردینی چاہیے۔

نام اور نمبر پوچھنے کے بعد مس کال دے کر تسلی کی اور انہیں پیسے دے کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔ دو تین دن بعد یونہی اس بندے کی کال کا انتظار کرتے ہوئے گزر گئے، آخر چوتھے روز میں نے اسے خود کال کی۔ اس نے فوراً ہی مجھے پہچان لیا اور اگلے ہی لمحے گالیوں کی بوچھاڑ کرکے فون کال منقطع کردی۔ اب جو نظر میں نے موبائل سکرین پر ڈالی تو پتا چلا کہ ہماری بات صرف بارہ سیکنڈز تک ہوئی مگر ان بارہ سیکنڈز میں وہ شخص میری سوجھ بوجھ اور زمانہ شناسی کا عملی طور پر جنازہ نکال چکا تھا۔

دل بہلانے کے لیے میں نے خود کو تسلی دی کہ نیکی کرکے ویسے بھی دریا میں ڈال دینی چاہیے، میں نے نہیں تو کیا ہوا، اس شخص نے تو میری نیکی دریا میں ڈال دی اور مسکراتے ہوئے موبائل جیب میں ڈال دیا مگر اندر ہی اندر مجھے اندازہ ہوچکا تھا کہ ہمیں ذہانت و فطانت پر گھمنڈ کبھی بھی نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ہر سیر پر سوا سیرضرور ہوتا ہے۔

ٹیگز